ضرب عضب فوجی نہیں قومی ُآپریشن ہے ،اظہر عباس ،متنازع نہ بنائیں ،وزیر داخلہ

ضرب عضب فوجی نہیں قومی ُآپریشن ہے ،اظہر عباس ،متنازع نہ بنائیں ،وزیر داخلہ ...

  

                   اسلام آباد ( خصوصی رپورٹ)پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سابق ترجمان میجر جنرل ریٹائرڈ اطہر عباس نے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کہا ہے کہ ''ضرب عضب'' کو فوجی نہیں بلکہ قومی آپریشن کہنا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن سے متعلق جو کہا وہ ایک سوال کے جواب میں کہا تھا جبکہ وزیرداخلہ چودھری نثار نے تلقین کی ہے کہ ریٹائرڈ فوجی افسران کو حساس معاملات پر بیان دیتے ہوئے احتیاط سے کام لینا چاہیے، کسی طور بھی فوجی آپریشن کو متنازع نہ بنایا جائے۔ دنیا نیوز کے مطابق آپریشن ضرب عضب سے متعلق سیمینار سے خطاب میں میجر جنرل ریٹائرڈ اطہر عباس کا کہنا تھا کہ میرا خیال تھا کہ جب جنوبی وزیرستان میں آپریشن ہو رہا تھا تو وہاں طالبان کو تنہا کر دیا گیا تھا، سب کو محسوس ہو رہا تھا کہ اب دہشتگردوں کا مرکز شمالی وزیرستان تھا۔ دوسری جانب امریکہ بار بار بیان دے رہا تھا کہ مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں ایک ماہ کے اندر شمالی وزیرستان کے تمام بڑے شہر کلیئر ہو جائیں گے لیکن یہ توقع نہیں کرنی چاہیے کہ دہشتگرد بڑی تعداد میں مارے جائیں گے بلکہ شمالی وزیرستان میں جوابی کارروائی کی تیاری ہونی چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ''ضرب عضب فوجی آپریشن نہیں بلکہ قومی آپریشن ہے ۔ دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ریٹائرڈ فوجی افسران کو حساس معاملات پر بیان دیتے ہوئے احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ ریٹائرڈ فوجی افسران تدبر سے کام لیں کیونکہ اسی میں ہی ملک و قوم کی بھلائی ہے۔ قوم فوج کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔سابق ڈی جی آئی ایس پی آر اطہر عباس کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ فوج پاکستان کے مستقبل کی جنگ لڑ رہی ہے۔ فوجی قیادت کے فیصلوں پر بیانات مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ بیانات سے فوجی آپریشن کو متنازع نہ بنایا جائے۔ زبان کی معمولی لغزش بدترین صورتحال پیدا کر سکتی ہے۔ اہم عہدوں پر کام کرنے والے افسروں اور عہدیداروں کو رازداری سے کام لینا چاہیے اور نازک صورتحال پر بیان دیتے ہوئے احتیاط کرنی چاہیے۔ چودھری نثار کا کہنا تھا کہ بیان اور عمل سے ملک دشمنوں کو تقویت نہ پہنچائی جائے۔ اہم فیصلے تدبر کا تقاضہ کرتے ہیں کیونکہ رازداری ہی ملک و قوم کیلئے بہتر ہے۔

مزید :

صفحہ اول -