تحفظ پاکستان بل سے ریاستی اداروں کیلئے بلا رکاوٹ قتل کا دروازہ کھل جائیگا سراج الحق

تحفظ پاکستان بل سے ریاستی اداروں کیلئے بلا رکاوٹ قتل کا دروازہ کھل جائیگا ...

  

لاہور ( اے این این )امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ سینیٹ سے تحفظ پاکستان کے نام سے شہریوں کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کرنے کے بل کی منظوری انتہائی افسوس ناک ہے ۔ یہ بل آئین کی اس بنیادی روح کے خلاف ہے جس میں شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت کی ضمانت دی گئی ہے ۔ تحفظ پاکستان بل سویلین حکومت کا ایسا فیصلہ ہے جس کی مثال آمرانہ دور حکومت میں بھی نہیں ملتی ۔اس بل کے ذریعے ریاستی اداروں کے لیے بلاروک ٹوک قتل کا دروازہ کھل جائے گا۔ عدالت عظمیٰ کو کسی صورت بھی اس بل کو قبول نہیں کرنا چاہئے ، عام آدمی کی آزادی چھین کر علاقے کے تھانیدار کو تمام اختیارات کا مالک بنا دیا گیا ہے،تحفظ پاکستان بل کے انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہونگے ،بااثر اور مقتدر طبقہ اپنے مخالفین کو ٹھکانے لگانے کیلئے اب تحفظ پاکستان بل کا سہارا لے گا ۔مرضی کے پولیس افسروں کی تعیناتی کیلئے وزیروں مشیروں اور ارکان اسمبلی میں مقابلہ بازی مزید تیز ہوجائے گی ۔ تحفظ پاکستان بل ملک میں غیر اعلانیہ مارشل لاء لگانے اور جمہوریت کے چہرے کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ ملک بھر کی سیاسی جماعتیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں تحفظ پاکستان بل کے خلاف آواز اُٹھائیں ۔ جماعت اسلامی تحفظ پاکستان بل کو مسترد کرتی ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے منصورہ میں مرکزی ذمہ داران سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ سراج الحق نے کہا کہ محض شک کی بنیاد پر کسی شہری کو 60دن تک حراست میں رکھنا کہاں کا انصاف ہے؟نا انصافیوں کو قانون کا درجہ دینے سے معاشرے میں انارکی اور انتشار پھیلے گا۔پولیس اور سیکورٹی اداروں کے اہلکاروں کو لوگوں کو گولی مارنے کے لامحدود اختیارات دینے سے ملک بھر میں خوف و ہراس کی فضا ء پیدا ہو گی اور تحفظ پاکستان بل سیاسی مخالفین کی زبانیں بند کرنے کیلئے استعمال ہو سکتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ تحفظ پاکستان بل کے ذریعے بدترین آمریت کی راہ ہموار کی جارہی ہے اور حکمرانوں کو ڈکٹیٹروں سے بھی زیادہ اختیارات مل جائینگے ۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری دور میں تحفظ پاکستان جیسے غیر آئینی ، غیر انسانی اور غیر جمہوری بل کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

سراج الحق

مزید :

صفحہ آخر -