دہشت گردی اور شدت پسندی کا مکمل خاتمہ، جدوجہد ذرا طویل!

دہشت گردی اور شدت پسندی کا مکمل خاتمہ، جدوجہد ذرا طویل!
دہشت گردی اور شدت پسندی کا مکمل خاتمہ، جدوجہد ذرا طویل!
کیپشن: ch khadim hussain

  

تجزیہ:- چودھری خادم حسین

سیاسی اور عسکری ترجمان حضرات کی طرف سے میڈیا کو دی جانے والی بریفنگ اور وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے تازہ ترین بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے شدت پسندوں کے خلاف جہاد توقع سے زیادہ وقت لے سکتا ہے کہ نہ صرف شمالی وزیرستان بلکہ ملک بھر میں ان شرپسندوں کے ٹھکانے ختم کرنے کا فیصلہ اور عزم کر لیا گیا ہے۔

وجوہات کے حوالے سے مختلف الخیال حضرات جو چاہے تجزیہ کرتے رہیں لیکن عیاں حقیقت یہ ہے کہ پاکستان بری طرح دہشت گردی کا شکار ہے جس سے معاشرہ بھی بے امن ہے۔ ہزاروں سکیورٹی کے ذمہ دار حضرات شہید ہوئے تو مالی نقصان کا حساب ابھی درست طور پر پیش ہی نہیں کیا جا سکا جو اربوں روپوں میں ہے۔ اس دہشت گردی کی وجہ سے معاشرے میں تفریق کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ یہ سب اسلام کا نام لے کر کیا جا رہا تھا حالانکہ قابل اور جید علماءکرام یہ فتوے دے چکے ہوئے ہیں کہ یہ سب قطعاً اسلام کے خلاف ہے۔ جو صورتحال سامنے آئی اس سے یہ مترشح ہو رہا ہے کہ اس جدوجہد کو اب منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا تاکہ ملک میں مکمل امن قائم ہو سکے۔

پاکستان کا نام ہی اسلامی جمہوریہ پاکستان اور اس کا آئین اسلامی ہے جس کے ذریعے بتدریج تمام قوانین کو اسلامی ہونا ہے جبکہ کوئی قانون قرآن سنت کے خلاف نہیں بن سکتا اس کے لئے فورم اور طریق کار بھی متعین کر دیا گیا جس نے متعدد قوانین کا جائزہ لے کر قوانین میں ترامیم بھی تجویز کیں، اس لئے معاشرتی امن کے لئے یہ ضروری ہے کہ یہاں جو بھی ہونا ہے وہ قاعدے اور قانون کے مطابق ہو، ملک خلفشار سے بچا رہے اور عام شہریوں کی بہبود کے لئے کچھ کیا جا سکے۔

جہاں تک دہشت گردوں کا تعلق ہے تو انہوں نے مساجد اور عبادت گاہوں کے علاوہ مدارس اور سکولوں کو بھی نشانہ بنایا عام شہریوں کے ساتھ ساتھ پرہیز گار حضرات کی بھی جان لی کہ ان کے مقاصد ہی کچھ اور ہیں۔ تاہم اب تنگ آمد کے بعد نوبت یہاں پہنچی کہ حتمی فیصلہ کر کے آپریشن شروع کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں اب نگاہ مرکز کی طرف بھی اٹھ رہی ہے اور بلاشبہ افغان حکومت سے یہ مطالبہ جائزہے کہ اچھے ہمسائے کی طرح وہ تعاون کرے اور افغانستان میں موجود ملا فضل اللہ عرف ملا ریڈیو کو گرفتار کر کے پاکستان کے حوالے کرے جو افغانستان میں بیٹھ کر تخریب کاری کر رہا ہے ۔

شمالی وزیرستان کے آپریشن سے بے گھر افراد کی آمد سے جو حالات پیدا ہوئے ان کے بارے میں بد انتظامی کی خبریں ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ حکومتی مشینری(وفاقی + صوبائی + ضلعی) اپنے فرائض تندہی سے انجام دے اور جو افراد ملک کی خاطر اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے وہ زیادہ پریشان نہ ہوں۔

اس سلسلے میں ایک گذارش یہ بھی ہے کہ ملک میں نظام تعلیم کی طرف خصوصی توجہ مبذول کی جائے۔ اچھی طرح جائزہ لینے کے بعد اب حکومت یہ طے کرے کہ جو مدارس فریضہ تعلیم ادا کر رہے ہیں وہ اپنی جگہ یہ فرض ضرور ادا کریں۔ لیکن ان مدارس میں ساتھ ساتھ پرائمری اور اس کے بعد کے درجات کی تعلیم کا بھی انتظام کیا جائے۔ یہ کام ابتدا ہی میں ہو جانا چاہئے تھا کہ طلباءدینی علوم کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم بھی حاصل کرتے رہتے۔ اس طرح صوبوں کو اپنے اپنے صوبوں میں سکولوں کی عمارتوں میں کمی بھی محسوس نہ ہوتی۔ یہ سلسلہ بڑی آسانی سے ممکن ہے کہ مدرسہ اپنی جگہ رہے اور ان کا طریق تعلیم بھی انہی کا ہوتا ہم اس کے ساتھ پرائمری اور اس کے بعد کا تعلیمی نصاب بھی پڑھایا جائے۔ یہ ناممکن نہیں اور اب ایسا کر لینا چاہئے۔ اس وقت تو آپریشن کی حمایت کے ساتھ بے گھر افراد کی دیکھ بھال پر توجہ مرکوز کرنا چاہئے اور شکایات کا ازالہ ہونا چاہئے یہ نہیں کہ ایک دوسرے کو الزام دیں بلکہ کوشش کی جائے کہ تمام ادارے آپس میں تعاون اور کام دیانت داری سے کریں۔

مزید :

تجزیہ -