10 اگست کے صدارتی انتخابات کے کے بعد ترکی کا نظام صدارتی ہوجائیگا

10 اگست کے صدارتی انتخابات کے کے بعد ترکی کا نظام صدارتی ہوجائیگا
10 اگست کے صدارتی انتخابات کے کے بعد ترکی کا نظام صدارتی ہوجائیگا
کیپشن: pic

  

تجزیہ : اسلم بھٹی

ترکی میں ہونے والے انتخابات میں صدارتی امیدواروں کا باقاعدہ اعلان ہوچکا ہے اور ان کے نام منظر عام پر آچکے ہیں۔ برسراقتدار پارٹی کے امیدوار ملک کے موجودہ وزیراعظم رجب طیب اردگان ہیں جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے اپنا متفقہ امیدوار سامنے لایا ہے۔ اکمل الدین احسان اولوان کے امیدوار ہیں جو اسلامی ممالک کی نمائندہ تنظیم (اوآئی سی ) کے سیکرٹری جنرل رہ چکے ہیں۔ تیسرا صدارتی امیدوارخلق ڈیموکریٹ پارٹی کے رہنما صلاح الدین دمیرتاش ہیں جو کردوں کی نمائندہ جماعت ہے اور ان کے حقوق کے لئے جدوجہد کررہی ہے۔

اس بار ملک کے بارہویں صدر کا انتخاب 10اگست کو براہ راست ترک عوام اپنے ووٹوں سے کریں گے۔ ترک قوانین کے مطابق جوامیدوار پچاس فیصد سے زائد ووٹ لے گا وہ جیت جائے گا۔ اگر پہلے مرحلے میں کوئی امیدوار مقررہ تعداد میں پچاس فیصد ووٹ نہیں لیتا تو الیکشن کا دوسرا مرحلہ ہوگا اور یہ ان دو امیدواروں کے درمیان ہوگا جنہوں نے پہلے مرحلے میں زیادہ ووٹ لئے ہوں گے ، دوسرے مرحلے میں جو امیدوار بھی دوسرے سے زیادہ ووٹ لے گا وہ 5سال کے لئے منتخب ہوجائے گا۔ یہ صدارتی انتخاب اس لئے بھی اہم قرار دیئے جارہے ہیں کہ ان کے بعد ملک کا سیاسی اور انتظامی نظام جو اس وقت پارلیمانی ہے اور حکومت کا سربراہ وزیراعظم ہوتا ہے صدارتی ہوجائےگا اور حکومت کا سربراہ صدر ہوگا جس میں صدر کو زیادہ سے زیادہ اختیارات حاصل ہوں گے۔

ان صدارتی انتخابات میں کون جیتے گا ؟ اور کس کا پلڑا بھاری ہوگا؟ یہ تو 10اگست کے بعد ہی پتہ چلے گا۔ لیکن اپوزیشن کے متفقہ امیدوار کے منظر عام پر آنے کے بعد توقع کی جارہی ہے کہ مقابلہ خاصا دلچسپ ہوگا اور کسی امیدوار کا آسانی سے جیتنا ممکن نہیں ہوگا۔

5جولائی کو ترک وزیراعظم اپنی الیکشن مہم ترکی کے شہر سامسون سے ایک بڑے انتخابی اجتماع سے خطاب کرکے شروع کرنے والے ہیں۔ اپوزیشن نے بھی اپنی مہم شروع کردی ہے۔ امیدواران نے اپنے اپنے کاغذات نامزدگی ترکی کی پارلیمنٹ کے سپیکرجمیل چیچک کو جمع کروادیئے ہیں۔ ترک وزیراعظم کے صدارتی امیدوار بننے کے بعد ان کی پارٹی کی طرف سے اگلے سال ہونے والے عام انتخابات میں وزیراعظم کے عہدے کا امیدوار کون ہوگا ؟ اور ان کی پارٹی اے کے پارٹی کا چیئرمین کا عہدہ کس کے پاس جائے گا۔ یہ سوالات ابھی تک سوالات ہی ہیں اور ان کے جوابات ابھی سامنے نہیں آئے۔

77ملین آبادی والے ملک ترکی کے صدارتی انتخابات کی وجہ سے ملکی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل اور حرکت اپنے عروج پر ہونے کو ہے جس میں وہاں کامیڈیا ہی نہیں بین الاقوامی میڈیا بھی خاصی دلچسپی لے رہا ہے۔

مزید :

تجزیہ -