سحروافطار کے اوقات میں بھی بدترین لوڈ سشیڈنگ جاری روزہ دار زچ سڑکوں پر آنے پر مجبور

سحروافطار کے اوقات میں بھی بدترین لوڈ سشیڈنگ جاری روزہ دار زچ سڑکوں پر آنے ...

  

لاہور(کامرس رپورٹر)ملک میں گزشتہ روز بھی سحر و افطار کے موقع سمیت بد ترین لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری رہا جس نے روزہ داروں کو زچ کر دیا ۔ بار بار لوڈ شیڈنگ سے تنگ آ کر کئی مقامات پر لوگ سڑکوں پر آنے پر مجبور ہو گئے ۔ دوسری جانب لوگوں کی شکایات کے فوری ازالہ کے لئے سحر و افطار کے موقع پر ڈویژن و سب ڈویژن سمیت ہیڈ آفس میں افسران کی حاضری کے وزارت بجلی و پانی کی سیکرٹری نرگس سیٹھی کے احکامات کو افسران نے مکمل نظر انداز کر دیا ۔ نرگس سیٹھی نے ڈسکوز کے چیف ایگزیکٹو کو ہیڈ آفس جبکہ ایکسئین کو ڈویژن آفس اور ایس ڈی اوز کو سب ڈویژن میں سحر و افطار کے موقع پر موجود رہنے کے احکامات جاری کئے تھے ۔ وزارت بجلی و پانی کی جانب سے رمضان المبارک میں لوگوں کو لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے ریلیف دینے کے سلسلے میں کئے گئے کسی ایک اعلان پر بھی تین روزے گزر جانے کے باوجود عمل درآمد نہیں ہوا ہے ۔ سحر و افطار کے موقع پر لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ بدستور جاری رہا ، دیگر اوقات میں پانچ گھنٹے کے بجائے ہر گھٹنے کے بعد ایک گھنٹے یا دو گھٹنے تک کی لوڈ شیڈنگ کی گئی ۔ پاور سیکٹر کو گیس کی سپلائی میں اضافہ کے اعلان اور ائی پی پیز و پی ایس او کو ادائیگی کے لئے 40 ارب روپے وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کئے جانے کے اعلان کے باوجود بھی بجلی کی پیداوار میں معمولی سے زیادہ اضافہ نہیں ہوا ۔نہ ہی سب ڈویژنوں میں وافر مقدار میں سامان کی فراہمی کے اعلان پر عمل درآمد ہوا ۔ تمام سب ڈویژنوں میں سامان کی قلت بر قرار رہی اور وہ دو سے زائد ٹرانسفارمر جل جانے کے صورت میں دیگر سب ڈویژنوں سے ٹرانسفارمر لے کر گزارا کرنے پر مجبور رہے ۔ انرجی مینجمنٹ سیل کے ذرائع کے مطابق گزشتہ روز بجلی کی مجموعی ڈیمانڈ 18260 میگا واٹ جبکہ پیداوار 12950 میگا واٹ رہی طلب و رسد میں 5310 میگا واٹ کا فرق رہا ۔ صوبائی دارالحکومت میں گزشتہ روز اعظم کلاتھ مارکیٹ میں پانچ دن سے مسلسل بجلی کی بندش کے خلاف لوگوں نے شدید احتجاج کیا اس کے علاوہ سمن آباد ، صدر اور نشتر کالونی میں لوگوں نے بجلی کی مسلسل کئی کئی گھٹنے تک بندش کے خلاف احتجاج کیا ۔

بد ترین لوڈ شیڈنگ

 

مزید :

صفحہ آخر -