پتنگ بازی پر گرفتار نوجوان کو نذرانہ لیکر چھوڑ دیا تھانہ سے نکلنے پر استقبال

پتنگ بازی پر گرفتار نوجوان کو نذرانہ لیکر چھوڑ دیا تھانہ سے نکلنے پر استقبال

  

لاہور(بلال چودھری)وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے سخت احکامات کے باوجود تھانہ غازی آباد پولیس کے شیر جوانوں نے پتنگ باز ی میں گرفتارنوجوان کو4گھنٹے بعد ہی \"نذرانہ \"ملنے پرچھوڑدیا، تھانے سے باہر نکلتے ہی منچلے ساتھیوں نے اپنے دوست کو پھولوں کے ہار پہنا کر اس کی رہائی کا استقبال کیا۔تفصیلا ت کے مطابق تھانہ غازی آباد کے علاقہ میں پتنگ بازی کے الزام میں پولیس نے تاج پورہ سکیم کے رہائشی ارسلان نامی نوجوان کو حوالات میں بند کر دیا اور چار گھنٹے کے بعد مبینہ طور پر رشوت لے کر چھوڑ دیا۔اس حوالے سے ارسلان طفیل نے نمائند ہ \"پاکستان \"سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ پتنگ بازی نہیں کررہا تھا لیکن کسی نے پولیس کو پتنگ بازی کی اطلاع دی ،پولیس اسے پکڑ کرتھانے لے گئی اور حوالات میں بند کردیا ۔ 4 گھنٹے بعد اس کے دوستو ں نے پولیس کی مٹھی گرم کی جس پر اسے رہائی ملی ۔واضح رہے کہ ارسلان کی رہائی کے موقع پر اس کے دوستوں نے تھانے کے دروازے سے باہر نکلتے ہی اس کے گلے میں ہار پہنا کر اس کا استقبال کیا جبکہ اس موقع پر پولیس انجوائے کرتی رہی۔واضح رہے کہ خادم اعلیٰ پنجاب نے پتنگ بازی کے حوالے سے پولیس حکام کو سخت احکامات

دے رکھے ہیں کہ اگر کسی بھی علاقے میں پتنگ بازی ہوئی تو اس علاقے کے ایس ایچ او کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔یاد رہے کہ پتنگ بازی کے سبب پہلے بھی درجنوں ماؤں کی گودیں اجڑ چکی ہیں لیکن پولیس کی ملی بھگت سے تاحال پتنگ باز منچلے یہ خونی کھیل جاریرکھے ہوئے ہیں اورپولیس انہیں گرفتار کرنے کی بجائے \"نذرانے\"لے کر رہاکردیتی ہے جو انتہائی افسو س ناک امر ہے ۔اس حوالے سے ایس ایچ او تھانہ غازی آباد سے موقف لینے کے لئے رابطہ کیا گیا لیکن ان سے رابطہ نہ ہوسکا۔

مزید :

علاقائی -