غداری کیس:دو گواہوں نے مشرف کے خلاف بیان ریکارڈ کروا دیا ، حکم نامہ بھی پیش

غداری کیس:دو گواہوں نے مشرف کے خلاف بیان ریکارڈ کروا دیا ، حکم نامہ بھی پیش
 غداری کیس:دو گواہوں نے مشرف کے خلاف بیان ریکارڈ کروا دیا ، حکم نامہ بھی پیش

  

اسلام آباد ( مانیٹر نگ ڈیسک ) پرویز مشرف کیخلاف غداری کیس میں استغاثہ کے دو گواہوں سابق ڈپٹی سیکرٹری اور سیکشن افسر کابینہ ڈویژن نے بیان ریکارڈ کرا دیا ،سا بق صدر کے دستخطوں والا ایمرجنسی نفاذ اور پی سی او کے حکم نامے کا ریکارڈ عدالت میں پیش کر دیا گیا۔سابق ڈپٹی سیکرٹری کابینہ ڈویژن کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی نفاذ کا حکم نامہ اور صدارتی حکم نامہ حساس دستاویزات تھیں اس لئے کابینہ سیکرٹری نے براہ راست وصول کیں، عدالت نے کیس کی سما عت 8جولائی تک ملتوی کردی ہے ۔ تفصیلات کے مطا بق خصوصی عدالت میں سابق صدر پرویز مشرف کیخلاف غداری کیس کی سماعت جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ استغاثہ کے گواہ سیکشن افسر کابینہ ڈویژن کلیم احمد شہزاد نے اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا، کلیم شہزاد نے پرویز مشرف کے دستخطوں والا ایمرجنسی نفاذ اور پی سی او کے حکم نامے کا اصل ریکارڈ بھی عدالت میں پیش کیا، اپنے بیان میں کلیم احمد نے کہا کہ ایف آئی اے کے افسر نے 4 دسمبر 2013 ءکو میرے دفتر کا دورہ کیا اور دستاویزات مانگیں جو فراہم کردی تھیں۔ چھ دسمبر کو ایف آئی اے نے تین مزید دستاویزات مانگیں ان میں سے ایک دستاویز ہمارے متعلقہ تھی جو فراہم کر دی۔ 18 دسمبر کو ایف آئی نے مشرف کے دستخطوں کے ساتھ جاری پی سی او کی کاپی مانگی جو 19 دسمبر کو دیدی، پرویز مشرف کے وکیل شوکت حیات کے استفسار پر کلیم احمد نے کہا کہ یہ درست ہے کہ بیانات میں ملزم پرویز مشرف کا نام اور انکوائری نمبر درج نہیں ہے ۔ استغاثہ کے دوسرے گواہ سابق ڈپٹی سیکرٹری کابینہ ڈویژن سراج احمد نے پرویز مشرف کی جانب سے بطور آرمی چیف ایمرجنسی نفاذ کا حکم نامہ اور دیگر دستاویزات عدالت میں پیش کیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایف آئی اے کو مشرف کے دستخطوں کے ساتھ 3 نومبر کے ایمرجنسی کے حکم نامے اور دیگر متعلقہ دستاویزات فراہم کیں، یہ درست ہے کہ دستاویز پر مشرف نے میری موجودگی میں دستخط نہیں کیے،سیکشن افسر کلیم احمد کے دفتر میں تمام دستاویزات ایف آئی اے کے حوالے کیں، ایف آئی اے نے میرا بیان بھی اسی جگہ ریکارڈ کیا۔ پرویز مشرف کے وکیل نے پوچھا کہ اگر 16 نومبر2013 ءکو پرویز مشرف کے خلاف انکوائری مکمل ہو چکی تھی تو 4،9 اور 19 دسمیر کو ایف آئی اے نے دستاویزات کیوں مانگیںجس پر سراج احمد نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی نفاذ کے حکم نامے اور صدارتی حکم نامہ وصولی کی کابینہ ڈویژن کے رجسٹر میں تاریخ اور وقت نہیں لکھا گیا تھا، یہ حساس دستاویزات تھیں اس لئے کابینہ سیکرٹری نے براہ راست وصول کیں، کابینہ سیکرٹری کو اینٹری نمبر لگانے کا نہیں کہا تھا، مشرف کے وکلاءکی جانب سے استغاثہ کے گواہوں پر جرح مکمل ہونے کے بعد خصوصی عدالت نے کیس کی سماعت آٹھ جولائی تک ملتوی کر دی۔

مزید :

اسلام آباد -اہم خبریں -