بگ فٹ پر کی گئی پہلی سائنسی تحقیق

بگ فٹ پر کی گئی پہلی سائنسی تحقیق
بگ فٹ پر کی گئی پہلی سائنسی تحقیق

  

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) دنیا میں پراسرار مخلوقات کی موجودگی کی کہانیاں عام پائی جاتی ہیں اور ان میں سے ایک مشہور کہانی بعض ممالک کے دور افنادہ پہاڑوں اور جنگلوں میں پایا جانے والا ایک ایسا جانور ہے جو جسامت میں بہت بڑا ہے اور دیکھنے میں ریچھ اور انسان کا امتزاج نظر آتا ہے۔ اسے اس کے بڑے بڑے پیروں کی وجہ سے مغربی ممالک میں ”بگ فٹ“ بھی کہا جاتا ہے جبکہ ایشیائی ممالک خصوصاً ہمالیہ کے پہاڑوں میں اسے ”یٹی“ کہا جاتا ہے۔

اب تک ہزاروں لوگ یہ دعویٰ کرچکے ہیں کہ انہوں نے پہاڑوں کی بلندیوں پر یا جنگلوں کی گہرائی میں اس دیوہیکل جانور کو دیکھا ہے۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اس کا جسم ریچھ کی طرح بالوں سے بھرا ہوتا ہے لیکن یہ انسانوں کی طرح سیدھا کھڑا ہو کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا چلتا ہے۔ لوگوں نے اس کے انتہائی بڑے پیروں کے نشانات بھی دیکھے ہیں اور بعض تصاویر اور ویڈیو میں بھی اسے جنگلوں پہاڑوں میں گھومتے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس ہیبت ناک جانور سے منسوب بالوں کے نمونے بھی دنیا کے مختلف ممالک میں محفوظ ہیں۔

 لیکن چونکہ آج تک اس کی موجودگی کا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا اس لئے امریکہ، برطانیہ ، فرانس اور جرمنی کے مغرب سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے اس جانور سے منسوب بالون کو مختلف ممالک سے اکٹھا کیا اور ان کے ڈی این اے کا تجریہ کیا تاکہ سائنسی بنیادوں پر فیصلہ ہوجائے کہ یہ جانور آخر ہے کیا، ان میں سے اکثر نمونے تو جھوٹے نکلے، یعنی بگ فوٹ کے بجاے کالے ریچھ،گائے، گھوڑے ، کتے  اور انسان کے بال نکلے. البتہ ایک نمونہ سائنسدانوں کی حیرت اور دلچسپی  کا محور بن گیا ہے.یہ نمونہ 40000 ہزار سال پرانے قطبی ریچھ  سے ملتا جلتا ہے اور سائنسدان یہ سمجھنے سے قاصر ہیں ک یہ نمونہ آج کے دور میں کہاں سے آ گیا۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ شائد یہی جانور 'یٹی' یا 'بگ فوٹ' ہے.

کہا جا رہا ہے کہ یہ 40000 سال پرانا  قطبی ریچھ کی نسل سے تعلق رکھنے والا جانور  شائد آج بھی زندہ ہے اور برفانی پہاڑوں میں چھپ کر رہتا ہے. سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ نئے ثبوتوں کی روشنی میں اس پرسرار جانور کو ڈھونڈنے کے لئے مہم جوئی کی جا سکتی ہے۔

مزید :

سائنس اور ٹیکنالوجی -