وہ سانپ جس کا زہر انسانی گوشت پگھلادے

وہ سانپ جس کا زہر انسانی گوشت پگھلادے
وہ سانپ جس کا زہر انسانی گوشت پگھلادے
کیپشن: Snake

  

براسیلا (بیورونیوز ) بوتھروپس انسولارس کو عام طور پر اس کے جلدی رنگ کی وجہ سے نیزے کے سروالا سنہری سانپ (گولڈن لانس ہیڈ وائپر ) کہا جاتا ہے۔ یہ زہریلا ناگ برازیل کے ایک جزیرے جسے سانپوں کا جزیرہ بھی کہا جاتا ہے، میں پایا جاتا ہے۔ اس سانپ کے ڈسنے سے متاثرہ جگہ پر سوزش، درد کے علاوہ قے اور پیشاب کے ذریعے خون آنا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ زہر گردوں کو ناکارہ اور دماغ کو مفلوج بنانے کے ساتھ پٹھوں کے ٹشوز کو پھاڑ دیتا ہے اور جس جگہ یہ ڈسے معلوم ہوتا ہے کہ جیسے وہاں سے گوشت پگھل گیا ہے ۔ بوتھروپس انسولارس کی اوسط لمبائی 70سینٹی میٹر (28 انچ) ہے تاہم اس سانپ کی آج تک ریکارڈ کی جانے والی سب سے زیادہ لمبائی 118سینٹی میٹر ( 46انچ) ہے۔ اس کے پیٹ کا رنگ گہرا پیلا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ نیزے کے سر والا سانپ کہنے کا مطلب ہے کہ یہ تمام سانپوں سے اس حوالے سے امتیازی حیثیت رکھتا ہے، اس کے علاوہ بوتھروپس انسولارس کی دم بھی اپنی قریبی برادری سے کچھ زیادہ لمبی ہوتی ہے۔ بوتھروپس انسولارس ہمیشہ ایسے علاقوں میں پایا جاتا ہے جہاں انسان آباد نہ ہوں یعنی وہ جگہ غیر آباد ہو۔ تاہم نیزے کے سر والے دیگر سانپوں کے ڈسنے سے خصوصاً امریکہ میں ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں دنیا ضرور جانتی ہے۔ نیزے کے سر والے سانپ کے زہر سے طبی علاج ملنے کے باوجود شرح اموات 3 فیصد جبکہ طبی امداد نہ ملنے کی صورت میں 7 فیصد بتائی جاتی ہے۔ کیمیکل تجزیہ کے مطابق بوتھروپس انسولارس کا زہر اپنی برادری کے دیگر سانپوں (بوتھروپس جارکا وغیرہ) کے زہرسے نسبتاً 5گنا زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ اگست اور ستمبر کا مہینہ بوتھروپس انسولارس کے جماع کا وقت ہوتا ہے۔ اس کے بچوں کے لمبائی پیدائشی طور پر 6.5 سینٹی میٹر ہوتی ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -