اسلامی بینک کاروبار کی خاطر ’اسلامی‘ کی قربانی دینے لگے

اسلامی بینک کاروبار کی خاطر ’اسلامی‘ کی قربانی دینے لگے
اسلامی بینک کاروبار کی خاطر ’اسلامی‘ کی قربانی دینے لگے
کیپشن: Islamic Bank

  

دبئی(مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا کے کچھ مشہور اسلامی بینکوں نے اپنے نام میں سے لفظ ”اسلامی “ہٹانا شروع کر دیا ہے تا کہ وہ اپنے کاروبار کو وسعت دے سکیں۔ رواں سال کے آغاز میں دبئی کے ”نور اسلامک بینک“نے اپنا نام بدل کر”نور بینک“رکھ لیا۔ اسی طرح ”ابو ظہی اسلامی بینک“جو کہ متحدہ عرب امارات کا سب سے بڑا اسلامی بینک ہے اس بات پر غور کر رہا ہے کہ بیرون ممالک کاروبار کیلئے ”ابوظہی انٹرنیشنل بینک“کا نام استعمال کیا جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلامی بینکوں کے پاس کاروبار بڑھانے کے دو اہم طریقے ہیں ایک تو یہ کہ اسلامی نام تبدیل کر کے ان کسٹمرز کو مائل کیا جائے جو مذہبی پہلو کی بجائے کوالٹی اوربہتر سروس کو ترجیح دیتے ہیں.ایسے کسٹمرز کی تعداد مسلمان ملکوں میں بھی 60سے70فیصد تک ہے جبکہ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ یہ بینک ایشیا،یورپ اور افریقہ کے ممالک میں نئی مارکٹ بنائیں۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ نام تبدیل کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ یہ بینک اسلامی طریقہ کار کو بھی چھوڑنا چاہتے ہیں بلکہ اس کا مقصد صرف اس تاثر کو بدلنا ہے کہ یہ بینک صرف مذہبی معاملات کو اہمیت دیتے ہیں جبکہ سروس کے دیگر پہلوﺅں کی اہمیت ثانوی ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -