نئے سال کا میزانیہ۔۔۔ حکومت پنجاب کے ترقیاتی وژن کا عکاس

نئے سال کا میزانیہ۔۔۔ حکومت پنجاب کے ترقیاتی وژن کا عکاس
 نئے سال کا میزانیہ۔۔۔ حکومت پنجاب کے ترقیاتی وژن کا عکاس

  

پاکستان کی تاریخ میں جون کا مہینہ مالی اعتبار سے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے،جس میں وفاقی حکومت سمیت صوبائی حکومتیں آئندہ مالی سال کے اخراجات اور وصولیوں کا تخمینہ اسمبلیوں میں پیش کرتی ہیں۔اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین 1973ء صوبائی حکومت کے لئے لازم قرار دیتا ہے کہ وہ مالیاتی سال کے آغاز سے قبل صوبائی اسمبلی سے منظوری کے لئے بجٹ تجاویز تیار اور پیش کرئے۔12جون کو پنجاب، بلکہ پاکستان کی پہلی خاتون وزیر خزانہ عائشہ غوث پاشا نے پنجاب اسمبلی میں پنجاب کا مالی سال2015-16ء کا مالی تخمینہ پیش کیا، جس کا حجم 14کھرب 47ارب اور 24کروڑ روپے ہے ۔جسے پنجاب اسمبلی نے منظور کر لیا ہے ۔بجٹ کو عوام دوست متوازن اور ترقیاتی قرار دیا گیاہے ۔بجٹ میں ہر شعبہ کی ترقی دیہی علاقوں اور ان کے مکینوں کی خوشحالی کے لئے خطیر رقم مختص کی گئی ہے تا کہ ا نکا معیارزندگی بھی بلند کیا جا سکے۔

بجٹ سیشن اس لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہوتا ہے کہ اس میں ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کرنے اور عوام کو ہر ممکن سہولیات بہم پہنچانے کے لئے جامع اورٹھوس حکمت عملی وضع کی جاتی ہے ۔تمام اراکین اسمبلی خواہ ان کا تعلق حزب اختلاف سے ہو یا ضرب اقتدار سے بحث میں شریک ہوتے ہیں او راپنے اپنے علاقوں کی ترقی و خوشحالی اور عوام کے مسائل کے حل کے لئے تجاویز دیتے ہیں اور پھر ان کی تجاویز اور آراء کی روشنی میں بجٹ میں ترامیم کی جاتی ہیں اور اگر کہیں ضرورت ہو تو بعض مدوں میں زیادہ اور بعض میں کم کی جاتی ہیں،لیکن اس کا انحصارحزب اختلاف کی طرف سے ٹھوس اور مثبت تجاویز پر ہوتا ہے، لیکن بد قسمتی سے اپوزیشن اپنا وہ کردار ادا نہیں کیا، جس کے لئے ان کے حلقوں کے عوام نے انہیں منتخب کر کے اسمبلی بھیجا ہے ۔

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت پنجاب کا وژن صوبہ کو ایک محفوظ، اقتصادی طور پر متحرک ،صنعتی طور پر ترقی یافتہ اور علم کی بنیاد پر پھلتا پھولتا دیکھنا ہے ۔محمد شہبازشریف نے صوبہ میں دہشت گردوں کے خاتمے ،توانائی کے بحران سے نمٹنے ،تعلیم کے فروغ ،صحت عامہ کی معیاری و جدید سہولیات کی فراہمی، امن عامہ کی صورت حال کو برقرار رکھنے ،صاف پانی کی دستیابی، بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی ،کسان کے حالات کار کو بہتر بنانے ،بے روز گار افراد کے لئے روز گار کے بہتر مواقع کی فراہمی اور بے ہنر افراد کو ہنر مند بناکر معاشرے کا مفید شہری بنانے کے لئے اقدامات اُٹھائے ہیں، جس کا عکس بلا شبہ بجٹ 2015-16ء میں نظر آتا ہے ۔

تاریخ اس مر کی گواہ ہے کہ جس قوم نے ترقی کی اس نے تعلیم کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا جس کا ثمر آاج ہمارے سامنے ہے۔اس حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئےْ حکومت پنجاب نے تعلیم کے شعبہ میں صوبائی سطح پر مجموعی طور پر تقریباً 310ارب 20کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی ہے جو کل بجٹ کا تقریباً 27فیصد ہے ۔نئے مالی سال میں صوبے کے پسماندہ علاقوں میں چار نئے دانش سکول قائم کرنے کافیصلہ کیا ہے جبکہ ترقیاتی بجٹ سے 990ہائی سکولوں میں کمپیوٹر لیب قائم کرنے، سات ہزار سے زائد سکولوں میں عدم دستیاب سہولیات کی فراہمی، 4727 سکولوں کی عمارتیں دوبارہ تعمیر کرنے ،سکولوں میں 24500 اضافی کمروں کی تعمیر کے علاوہ پانچ سو نئے سکول قائم کئے جائیں گے ۔میرٹ پر مبنی نظام کے ذریعے طالب علموں میں ایک لاکھ لیپ ٹاپس کی فراہمی بھی نئے بجٹ میں شامل ہے ۔آئندہ مالی سال میں وہاڑی میں بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے سب کیمپس کے قیام کے علاوہ جھنگ اور ساہیوال میں نئی یونیورسٹیوں قائم کی جائیں گی۔اس طرح آئندہ مالی سال میں پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ کے لئے دو ارب روپے رکھے گئے ہیں، جس سے اس کا حجم ساڑھے پندرہ ارب تک ہو جائے گی اور اس فنڈز سے وظائف حاصل کرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر جائے گی۔ مزید براں پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ذریعے غریب کے بچوں کی تعلیم کے لئے نئے بجٹ میں 10ارب 50کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے۔

وطن عزیز کو ا س وقت جن دو سنگین مسائل کا سامنا ہے ان میں دہشت گردی اور توانائی شامل ہیں ۔حکومت پنجاب دونوں مسائل سے بخوبی آگاہ ہے ان سے نمٹنے کے لئے جامع اقدامات کے علاوہ نئے بجٹ میں بھی خاطر خواہ مالی وسائل بھی مختص کئے گئے ہیں ۔حکومت نے اس مسئلے کا ادراک کرتے ہوئے مالی سال 2015-16ء کے میزانیہ میں امن عامہ کی فراہمی کے لئے 109 ارب 25کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جو کل بجٹ کے ساڑھے نو فیصد ہے ۔حکومت نے بڑے شہروں میں محفوظ شہر ’’سیف سٹی‘‘پروگرام کے اجراء کا فیصلہ کیا ہے، جس کا آغاز لاہور میٹروپولیٹن سے کیا جا رہا ہے او راس مقصد کے لئے نئے مالی سال میں 4ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ۔اس طرح تھانہ کلچر کی تبدیلی اور عوامی شکایات کے فوری ازالہ کے لئے صوبہ میں 80پولیس سروس سنٹر قائم کئے جا ئیں گے۔محکمہ پولیس کے بجٹ میں مجموعی طو پر 94ارب67کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ پنجاب حکومت کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے دوسرے صوبوں سے پہلے انسداد دہشت گردی فوس قائم کی اور اس وقت ایک ہزار سے زائد کارپورلز تربیت حاصل کر کے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اپنا بھر پور کردار ادا کر رہے ہیں ۔

حکومت پنجا ب نے توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لئے متعدد پراجیکٹس شروع کئے ہیں ۔چین پنجاب میں لگنے والے توانائی کے منصوبوں پر 360ارب روپے کی سرمایہ کاری کر رہا ہے ۔ساہیوال میں ایک ہزار تین سو میگا واٹ کے کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر پر کام کا آغاز ہو گیا ہے اور اس منصوبے پر 180ارب روپے لاگت آئے گی ۔نئے بجٹ میں قائد اعظم سولر پارک میں مزید 900میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے لئے 135ارب روپے خرچ کئے جائیں گے ۔اس طرح پنڈ دادنخان کے مقام پر تین سو میگا واٹ بجلی کے پراجیکٹ پر 45ارب روپے لاگت آئے گی۔بھکھی ضلعی شیخوپورہ میں گیس سے چلنے والے پاور پلانٹ کے لئے نئے مالی سال میں 15ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ۔سندر انڈسٹریل اسٹیٹ اور فیصل آباد انڈسٹریل اسٹیٹ میں کوئلے کے منصوبوں پر 33ارب روپے لاگت آئے گی ۔90ارب روپے کی لاگت سے لاہور ،ملتان،سیالکوٹ اور فیصل آباد میں کوئلہ کے چار پاور پلانٹس لگائے جا رہے ہیں ۔

وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت عوام کو علاج معالجہ کی بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے بھر پور اقدامات کر رہی ہیں اور آئندہ مالی سال کے میزانیہ میں اس مد میں 166 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جو کل بجٹ کا 14فیصد ہے۔صوبائی ہسپتالوں میں نئے مالی سال میں ادویات کی فراہم کی مد میں 10ارب 82کروڑ روپے مختص کئے ہیں، جبکہ آٹھ اضلاع میں غریب افراد کے لئے ہیلتھ انشورنس کے لئے 2.50 ارب روپے مختص ہیں ۔طیب اردگان ہسپتال کی توسیع، جبکہ پسماندہ علاقوں میں موبائل ہیلتھ یونٹ کی توسیع کے لئے ایک ایک ارب روپے جبکہ 2015-16ء کے میزانیہ میں پاکستان میں لیور اینڈ ٹرانسپلانٹ منصوبے کے لئے تین ارب روپے رکھے گئے ہیں ۔حکومت پنجاب نے ڈی ایچ کیو اور ٹی ایچ کیو ہسپتالوں میں سپیشلسٹ ڈاکٹروں، ادویات کی فراہمی کے لئے ایک ارب 41کروڑ کا خصوصی پیکیج منظور کیا ہے ۔اس بات سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کوعوام کی طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے خوصی توجہ دے رہی ہے۔

پنجاب میں دنیا کا بہترین اور سب سے بڑا نہری نیٹ ورک ہے جس میں 13بیراج ،25بڑی نہریں، 3093راجباہیں، 55چھوٹے ڈیم، 1000 سے زائد ڈریج ٹیوب ویل اور 2100 لمبے حفاظتی پشتے شامل ہیں۔پانی کو محفوظ رکھنا اور اس کی باکفایت استعمال حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے ۔حکومت پنجاب نے آئندہ مالی سال میں نئے مزاینے میں 50ارب 83کروڑ روپے کی رقم مختص کی ہے ۔جناح بیراج کے لئے90کروڑ مختص کئے گئے ہیں اور نئے خانکی بیراج کے لئے 6ارب 15کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ سیالکوٹ،کامونکی اور ملحقہ آبادیوں میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لئے مرحلہ وارپروگرام کے تحت 8ارب روپے کی مالیت کے منصوبے تیار کئے گئے ہیں۔

خواتین کو مرکزی دھارے میں لانا حکومت کی حکمت عملی برائے اقتصادی ترقی نشوونما کے کلیدی محرکات میں سے ایک ہے ۔خواتین کل آبادی کا 60فی صد ہے ا نکی ترقی کے بغیر معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا ۔حکومت کی اہمیت کے پیش نظر نئے مالی سال میں 32ارب روپے صرف کئے جائیں گے۔ حکومت نے جنوبی پنجاب کے لئےْ 150ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ رکھا ہے ۔ 26ارب روپے سے ملتان میٹرو بس منصوبہ تیار کیا جائے گا۔دس ارب60کروڑ روپے سے ڈی جی خان اور راجن پور میں رود کو ہیوں میں آنے والہے سیلابی ریلے کی روک تھام کے منصوبے بنائے جائیں گے ۔3ارب 38کروڑ روپے سے ڈی جی خان کے قبائلی علاقوں کے لئے ترقیاتی پیکیج شامل ہے ۔حکومت پنجاب نے شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی کا منصوبہ تیار کیا ہے ۔مالی سال 2015-16ء کے دوران اس منصوبے کے لئے 11ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں وزیر اعلی محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت پنجاب صوبہ بھر کے عوام کی فلاح و بہبود او پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لئے بھر پور اقدامات کر رہی ہے اور نئے سال کا میزانیہ اس کا آئینہ دار ہے۔ نئے مزانیے میں تمام شعبوں کی یکساں ترقی کا احاطہ کیا گیا ہے اور کوئی شعبہ ایسا نہیں جس کو نظر انداز کیا گیا ہو ۔ترقی سب کے لئے وزیراعلیٰ کا وژن ہے ۔

مزید :

کالم -