کینسرکے خلاف نبرد آزما شوکت خانم میموریل ہسپتال اینڈ ریسرچ سنٹر

کینسرکے خلاف نبرد آزما شوکت خانم میموریل ہسپتال اینڈ ریسرچ سنٹر
کینسرکے خلاف نبرد آزما شوکت خانم میموریل ہسپتال اینڈ ریسرچ سنٹر

  



ہر دورمیں بنی نوع انسان کو مختلف بیماریوں کا سامنا کرنا پڑا جن میں سے چند ایک انسانی حیات کے لیئے نہایئت ہی مہلک ثابت ہوئیں ۔کینسر کا شمار بھی انہی بیماریوں میں ہوتا ہے۔ جس کے بارے میں ایک عرصہ تک تو یہ خیال کیا جاتا رہا کہ یہ ایک لا علاج بیماری ہے جس کی وجہ سے بغیر علاج کروائے لاکھوں افراد وقتا فوقتا لقمہ اجل بنتے رہے لیکن میڈیکل سائنسز نے تجربات جاری رکھے اور اب ہر سال لاکھوں افراد کینسر کے مرض سے چھٹکارا حاصل کر کے صحت مند زندگی گزار رہے ہیں۔ عصر حاضر میں کینسر کا علاج ممکن ہے اور40فیصد مریض اس موذی مرض سے چھٹکاراپالیتے ہیں لیکن اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ مرض کس سٹیج پر پہنچ چکا ہے اگر ابتدائی سٹیج پر تشخیص ہو جائے تو مریض مکمل صحت یاب ہو سکتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ خدانخواستہ اگر آپ یا آپ کے کسی عزیز کو اس طرح کے مرض کا کوئی بھی شک ہو تو فی الفور ابتدائی ٹیسٹ کروائیں ۔ کینسر کا مرض پوری دنیا میں پایا جاتا ہے اور ہر سال لگ بھگ 14ملین افراد اس مرض کا شکار ہو جاتے ہیں جن میں 8ملین موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اب ان 14ملین میں سے70فیصد کا تعلق ترقی پذیر اور غریب ممالک سے ہے جس کی بڑی وجہ جدید ٹیکنا لوجی کے حامل علاج معالجہ کی سہولیات کا فقدان ہے۔اس وقت کینسر کے مرض کے خاتمہ کے لیئے دنیا بھر میں بڑے بڑے ادارے موجود ہیں ۔ پاکستان میں موجود شوکت خانم میموریل ہسپتال اینڈ ریسرچ سنٹر کا شمار بھی انہی اداروں میں ہوتا ہے جو کینسر کے خلاف برسرپیکار ہے۔

دو دہائی پہلے کا ذکر ہے جب کرکٹ کی دنیا کے معروف اور لیجنڈ کھلاڑی عمران خان کی والدہ محترمہ کینسر جیسے موذی مرض کا شکار ہوکر دارفانی سے کوچ کرگئیں تو عمران خان نے لوگوں کو کینسر سے بچانے کے لیئے شوکت خانم میموریل ہسپتال بنانے کا اعلان کردیا۔ 1989 ء میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایک میچ کے دوران جب عمران خان نے ہسپتال کے لئے فنڈ اکٹھا کرنے کی مہم کا آغاز کیا تو پاکستان سمیت پوری دنیا کے لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔صرف یہی نہیں بلکہ اس وقت ورلڈ کپ کی انعامی رقم پچاسی ہزار پونڈ بھی ہسپتال کے لیے وقف کردی گئی اور یوں لاہور میں29دسمبر1994کو جدید ترین سہولیات سے آراستہ ایک سو پچانوے بیڈز پر مشتمل شوکت خانم میموریل ہسپتال اینڈریسرچ سنٹرکا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا۔ کینسر کے متعلق آگاہی ، تشخیص اور علاج کے لیے ملک بھر میں شوکت خانم کے 99لیبارٹری کلیکشن سنٹرزموجود ہیں۔ اسی طرح لاہور اورکراچی میں دو تشخیصی مراکز بھی ہیں۔ جبکہ کینسر کی سکریننگ کے لیے لاہور اور کراچی کے علاوہ ملتان میں بھی ایک واک ان کلینک سنٹر بنایا گیا ہے جس سے جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے لوگ مستفید ہورہے ہیں۔ پاکستان میں ہر سال تقریباً ڈیرھ سے دو لاکھ افراد کینسر کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں مریضوں کے مکمل چیک اپ اور علاج کے لئے صرف ایک ہسپتال ناکافی تھا ۔ کیونکہ شوکت خانم لاہور میںآنے والے مریضوں کی دوسری بڑی تعداد کا تعلق خیبر پختونخواہ سے تھاتو شوکت خانم انتظامیہ نے اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے پشاور کے علاقے حیات آباد میں پچاس کنال پر محیط ایک دوسری برانچ بنانے کا اعلان کیا جس کی لاگت چار سو ملین روپے رکھی گئی ۔ یہ ہسپتال 2015 ء کے آخر میں مریضوں کے لیے کھول دیا گیا ۔یوں ایک طرف تو خیبر پختونخواہ کے عوام کو لاہور جانے کے ضرورت نہیں رہی اور دوسری جانب شوکت خانم لاہور کا بوجھ بھی کسی حد تک کم ہو گیا ہے ۔ شوکت خانم ہزاروں افراد کا علاج کر چکا ہے جو بھر پور زندگی گزار رہے ہیں ۔صرف گزشتہ چند سالوں کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو سال 2013 ء میں تقریباً ایک لاکھ پچھہتر ہزار سال 2014 ء میں 1,85,018 اور سال 2015میں 205313مریضوں نے ہسپتال سے استفادہ کیا ۔ جن میں سے ایک بڑی تعداد کی کیموتھراپی کی گئی ، ریڈی ایشن ٹریٹمنٹ دی گئی اورسرجری کی گئی ۔ شوکت خانم میں 75 فیصدمستحق مریضوں کا علاج مفت کیا جاتا ہے۔ جبکہ تمام مریضوں کو بلا امتیاز اور بلاتفریق تمام سہولیات برابری کی سطح پر دی جاتی ہیں۔جس کے لیے ایک باقاعدہ اور منظم طریقہ کار ہے اس کا فیصلہ ایک بورڈ کرتا ہے کہ مریض کو کتنی رعایت دی جائے۔اس کی شفافیت کا اندازہ یہیں سے لگائیں کہ خود عمران خان صاحب کی سفارش بھی کام نہیں آسکتی۔آپ صرف متعلقہ فارم پر کردیں باقی رعایت کا فیصلہ بورڈ کریگا۔

میرے ایک جاننے والے دوست بتا رہے تھے کہ انہوں نے والدہ کے علاج سلسلہ میں جب ایک فارم بھر کردیا تو شوکت خانم کی ایک ٹیم نے باقاعدہ ان کے گاؤں جا کر اور لوگوں سے معلوم کیا کہ دی گئی معلومات کس حد تک صحیح ہیں۔ یوں انہیں بغیر کسی سفارش کے پچاس فیصد کی رعایت دے دی گئی ۔ شوکت خانم ہسپتال لاہور میں مریضوں کی سہولت کے لیئے کئی شعبوں کو اپ گریڈ کر دیا گیا ہے اسی طرح شوکت خانم پشاور نے بھی مکمل سہولیات کے ساتھ طبی خدمات کی فراہمی شروع کر دی ہے اس کے علاوہ کراچی میں تیسرے شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر کی منصوبہ بندی شروع ہو چکی ہے۔ یہاں ہم ہسپتال کی گورننگ باڈی سے عرض کریں گے کہ ملتان میں بھی ایک ہسپتال بنا یا جائے تا کہ جنوبی پنجاب کے لوگوں کو بھی گھر کی دہلیز پر کینسر کا علاج میسر آسکے امید ہے اس جانب ضرور توجہ دی جائے گی۔ بہرحال شوکت خانم کینسر ہسپتال کو اس سال بھی مریضوں کی مالی معاونت کے لیئے 8ارب اور 70 کروڑروپے درکار ہیں ۔آپ اپنے عطیات شوکت خانم کے دفاتر،لیبارٹری کلیکشن سنٹر،یا کسی بھی بینک میں جمع کروا سکتے ہیں۔ پاکستان کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوتا ہے جو سب سے زیادہ خیرات دیتے ہیں آپ بھی اس کارخیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ مستفید ہو سکیں کیونکہ سب کچھ واپس آ سکتا ہے سوائے زندگی کے نوٹ: یہ مضمون صرف اانسا نی ہمدردی کے جذبہ کے تحت لکھا گیا ہے ۔

مزید : کالم