انقلاب زندہ باد (2)

انقلاب زندہ باد (2)
انقلاب زندہ باد (2)

  

چینی سرخ انقلاب کے امکانات بھی دیگر انقلابات سے مشابہہ تھے۔چینی دانشوروں نے انقلاب روس کو خوش آمدید کہتے ہوئے اسے ایک اہم واقعہ کردار دیا۔ انہیں مکمل یقین تھاکہ یہ انقلاب ہمیشہ کے لئے چین کی سمت تبدیل کر دے گا ۔1919ء میں لینن کو جب مکمل طور پر کامیابی حاصل ہو گئی تو اسے چین میں بھی بے پناہ حمایت حاصل ہونا شروع ہو گئی، یوں 1921ء میں چین کی کمیونسٹ پارٹی کی پہلی باقائدہ میٹنگ شنگھائی میں منعقد ہوئی۔چین میں چانگ کائی شیک کی حکومت نے کمیونسٹ پارٹی کو سختی سے کچلنا شروع کر دیا ،جس سے ایک خونریز جنگ کا آغاز ہوا۔بعد ازاں دوسری جنگ عظیم کے دوران چین کی قومی حکومت نے جاپانی جارحیت کا متفقہ طور پر مقابلہ کرنے کے لئے کمیونسٹوں سے اتحاد کر لیا۔جنگ کے بعد امریکیوں نے چین کی نیشنل حکومت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا، جبکہ روس نے کمیونسٹوں کی امداد جاری رکھی۔یکم اکتوبر 1949ء میں ماؤزے تنگ نے نیشنلسٹوں کے خلاف بھر پور جنگ کا اعلان کر دیا۔ دوطرفہ بھاری جانی نقصان کے بعد بالآخر ماؤزے تنگ نے کامیابی حاصل کی۔بعد ازاں، انقلابیوں کی مدد سے ماؤزے تنگ نے چینی معاشرے کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا۔ماؤزے تنگ کی اصلاحات اور مہم جوئیوں نے لاکھوں انسانوں کی جان لی، جن کی اصل تعداد پر آج بھی بحث کی جاتی ہے ،لیکن اس سب کے باوجود اس نے موجودہ چین کو اٹھا کر آج کی سپر پاور بنا دیا۔ چین میں کوئی ایسا شعبہ حیات نہیں، جسے انقلابیوں نے تبدیل نہ کیا ہو۔ اصلاحات اور تبدیلی کی یہ لہر برصغیر میں بھی آئی، لیکن اس کا نتیجہ بہت مختلف نکلا۔۔۔ان حالات کا اطلاق اگر پاکستان پرکیا جائے توجغرافیائی اعتبار سے روس اور چین کے قریب ہونے کے سبب ایسی ہی طرز کا انقلاب یہاں بھی کچھ بعید نہیں تھا، جس کے سد باب کے لئے ایک جوابی حکمت عملی کے تحت مغربی طاقتوں نے اس خطے میں تیزی سے کمیونسٹوں کی پیش رفت کو روکنے پر کام شروع کیا۔شروع میں ہی پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو منافع بخش پیشکشیں ملنے لگیں،جس کے نتیجے میں انہوں نے اپنا متوقع دورۂ روس منسوخ کر دیااور اس کے بجائے واشنگٹن جانے کو ترجیح دی۔

جارح ہمسائے ہندوستان کی طرف سے درپیش سیکیورٹی کی صورت حال کے تناظر میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کا جھکاؤ واضح طور پر مغرب کی طرف ہو گیاجس کے بدلے میں پاکستان کو سیٹو اورسینٹوکا ممبر بنا دیا گیا اور دفاعی سازو سامان کی فراہمی نے یہاں اینٹی کمیونسٹ ماحول کے لئے ایک متبادل بیانیہ کی داغ بیل ڈالی۔جبر اور اقتصادی محرومی جو انقلابات کے لئے اکسیراور چارے کا درجہ رکھتی ہے ،اس کا ازالہ امریکی امداد نے کر دیا۔امریکی امدادسے بننے والے ڈیموں اور غذا برائے امن جیسے پروگراموں نے وقتی طور پر پاکستان میں کسی بھی انقلاب کا راستہ روکنے کے لئے اہم کردار ادا کیا۔ اس عارضی اقتصادی ترقی نے عوام کو نظام کی مکمل تبدیلی سے دور رکھا۔اس کے ساتھ ہی فیض احمد فیض،میجر اسحٰق، جنرل اکبر اور دیگر انقلابیوں کو راولپنڈی سازش جیسے فرضی مقدمات میں پابند سلاسل کر دیا گیا۔ انقلاب کا ایک اور احساس 1962ء میں ہونے والی چین بھارت جنگ اور اس کے بعد 1971ء میں پاکستان کے بطن سے بنگلہ دیش کے قیام کی صورت میں پیدا ہوا۔ایک مرتبہ پھر عدم تحفظ اور اقتصادی بدحالی کے آثار نمایاں ہونا شروع ہوئے،لیکن اس بار ملٹری حکومت کے قیام اور نیوکلیائی طاقت کے حصول کی کوششوں نے کسی بھی ممکنہ انقلاب کے آگے بند باندھ دیااور حکومت نے ملک میں موجود انقلابیوں کی طاقت کو سختی سے کچل دیا۔1984ء میں کرکٹ ڈپلومیسی کے ذریعے تحفظ کی یقین دہانی کرا دی گئی، جب جنرل ضیاء نے اپنے دورۂ بھارت کے دوران شدو مد سے بھارتیوں کو بتایا کہ اگر پاکستان کے بارڈر پر چھیڑ خانی شروع کی گئی تو علاقے میں مکمل ایٹمی جنگ کے سبب پوری دنیا میں ہندواکثریت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ضیائالحق حکومت کے بعدمذموم عزائم کے ساتھ طاقت کے حصول اور اسے برقرار رکھنے کے لئے سیاسی پارٹیوں کی باہمی چپقلش نے پاکستان کو ایک بار پھر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا،لیکن نقصان پہلے ہی ہو چکا تھااور مسلح افواج کی مداخلت کے سبب انقلاب کے لئے حالات کمزور کر دیئے گئے تھے،تاہم ملک میں شدت پسندی اور علیحدگی کی تحریکوں کو مکمل طور پر نہ روکا جا سکا ۔اب پاکستان اپنی تاریخ کے دوراہے پر کھڑا ہے۔سی پیک اور اوبور جیسے منصوبوں سے منسلک ہونے کی بدولت ابھرتے ہوئے چین کے ساتھ تعلقات نے پاکستان میں ایک نئی طرز کے انقلاب کی راہ ہموار کر دی ہے۔امید کی جاسکتی ہے کہ اس انقلاب کی انتہا امن اور اقتصادی ترقی پر منتج ہو گی۔ اس منصوبے کی کامیابی سے پاکستان میں کسی بھی افراتفری اور خونی انقلاب کا راستہ ہمیشہ کے لئے بند ہو جائے گا۔

(مضمون نگار جناح رفیع فاؤنڈیشن کے چیئرمین ہیں۔)

مزید : کالم