شریف فاروق کا انتقال پُرملال

شریف فاروق کا انتقال پُرملال

تحریک پاکستان کے ایک اور سرگرم کارکن، معروف صحافی اور صدارتی ایوارڈ یافتہ برائے حسن کارکردگی شریف فاروق بھی انتقال کر گئے۔ وہ طویل عرصہ سے علیل تھے۔ ان کی نماز جنازہ میں بڑی تعداد میں صحافیوں، دانشوروں، سیاسی و سماجی رہنماؤں نے شرکت کی۔ انہیں پشاور میں سپردخاک کیا گیا۔ مرحوم کے پسماندگان میں دو صاحبزادے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔ شریف فاروق 1925ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز روزنامہ ’’انقلاب‘‘ سے1948ء میں کیا۔ بعدازاں وہ 1960 میں روزنامہ ’’احسان‘‘ سے منسلک ہو گئے۔ مرحوم اپنی طویل صحافتی زندگی کے دوران مختلف اخبارات میں خدمات انجام دیتے رہے۔ انہیں نظریۂ پاکستان، قائد اعظمؒ اور مادر ملت سے وابستگی اور ان کے ارشادات سے غیر معمولی دلچسپی کے حوالے سے بڑی شہرت حاصل ہوئی۔ قائد اعظم محمد علی جناحؒ اور مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح ؒ ان کی آئیڈیل شخصیات تھیں۔ مرحوم شریف فاروق نے ان کے بارے میں متعدد مضامین اور یادداشتیں بھی لکھیں۔ ’’قائد اعظم محمد علی جناحؒ ، برصغیر کا مرد حریت ‘‘ اور ’’مادر ملت، سرمایہ ملت‘‘ کے نام سے ان کی دو کتابوں کو ایوارڈز بھی دیئے گئے ۔

شریف فاروق مرحوم نے صوبہ سرحد(موجودہ صوبہ خیبرپختونخوا) میں معیاری صحافت کو فروغ دینے کے لئے قابلِ قدر کردار ادا کیا۔ انہوں نے نظریہ پاکستان کے فروغ کے لئے زندگی بھر اپنے قلم کو استعمال کیا۔ وہ اس لحاظ سے خوش نصیب تھے کہ ان کی قومی اور صحافتی خدمات کو ان کی زندگی ہی میں سراہا گیا اور صدارتی ایوارڈ بھی دیا گیا۔ اس حوالے سے ان کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔ مرحوم شریف فاروق نے ہر موقع پر اعلیٰ صحافتی روایات اور اقدار کو اہمیت دی اور اپنے قول و فعل سے میدان صحافت میں یادگار خدمات انجام دیں۔ جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ شریف فاروق کی وفات سے جو خلا پیدا ہوا ہے، وہ طویل عرصے تک پُر نہیں ہو سکے گا۔ انہوں نے تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن کے طور پر جو کردار ادا کیا، اسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور میدان صحافت میں منفرد خدمات کی وجہ سے بھی انہیں تادیر فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔ دعا ہے، اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ دے اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل عطا فرمائے۔(آمین)

مزید : اداریہ