پروفیسر ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری (3) نابغۂ روزگار اسکالر اور انسان دوست شخصیت

پروفیسر ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری (3) نابغۂ روزگار اسکالر اور انسان دوست شخصیت
 پروفیسر ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری (3) نابغۂ روزگار اسکالر اور انسان دوست شخصیت

  

ڈاکٹر انصاری نے درجنوں بین الاقوامی بین المذاہب انٹرنیشنل کانفرنسوں میں پاکستان اور مسلم اسکالرز کی نمائندگی کی ہے۔ ان کا غیر مسلم اسکالرز میں بھی بڑا احترام کیا جاتا تھا۔ ڈاکٹر انصاری نے بین الاقوامی شہرت کے حامل نامور امریکی اسکالر پروفیسر جان ایس بوذیٹو کے ساتھ مل کر ایک کتاب کی تدوین کی تھی، جس کا موضوع تھا: ’’مسلمان اور مغرب آمنے سامنے‘‘۔ قبل ازیں ڈاکٹر انصاری کے ایک شہرۂ آفاق مقالہ ’’یہود و نصاریٰ سے مکالمہ کی بنیادیں‘‘ نے بھی مسلم اور غیر مسلم اسکالرز کے حلقوں میں بڑی مقبولیت حاصل کی تھی۔ ڈاکٹر انصاری نے پروفیسر خورشید احمد کے اشتراک سے بھی دنیا بھر کے اسکالرز سے مقالات لکھواکر ایک کتاب مرتب کی تھی، جس کا عنوان تھا: ’’اسلامی منظر نامہ: مطالعہ برائے سید ابوالاعلیٰ مودودی‘‘۔ اس کتاب میں آپ کا تحریر کردہ ایک باب ہے۔ جس میں دو موضوعات پر آپ نے مقالے تحریر کیے ہیں۔

(1) ’’اسلامی اصول قانون پر ابتدائی بحث:

(2)’’مولانا مودودی کا اسلام اور احیائے اسلام کے بارے میں فکر و بصیرت: ایک مطالعہ‘‘۔ دیگر جن موضوعات پر آپ کے تحریر کردہ مقالات نے شہرت پائی، ان میں سے چند کے نام یہ ہیں۔

(1)’’استعمال شدہ پانی کا دوبارہ استعمال اور اسلامی فلسفہ‘‘۔

(2)’’اسلامی قانون کی تشکیل میں قرآن اور پیغمبر علیہ السلام کا کردار‘‘

(3)’’امریکی سیاہ فام مسلمانوں کے مذہبی تصورات‘‘

(4)’’جامعات میں علومِ اسلامیہ کی تدریس: ایک تنقیدی جائزہ‘‘

(5)’’سلطنت عثمانیہ کے دور کے غیر مسلم‘‘

(6)’’اقبال اور مسئل�ۂ قومیت‘‘

(7)’’مصری قومیت بمقابلہ اسلام‘‘

(8)’’معاصر اسلام اور مسئلہ قومیت: مطالعہ مصر بطور مثال‘‘

(9)’’قرآن کا تصور امت‘‘

(10)’’علامہ تقتازانی کا نقطۂ نظر جبر و قدر‘‘

(11)’’قرآن کی قانونی آیات کا مطالعہ‘‘

(12)’’معاصر احیائے اسلام کا تاریخی پس منظر‘‘

(13)’’حُجتِ حدیث: شاخت کی دلیل سکوتی کا جائزہ‘‘

(14)’’ابتدائی اسلامی قانونی اصطلاحات‘‘

(15)’’سنوسی تحریک‘‘

(16)’’امام غزالیؒ اور اسلامی حکومت‘‘

(17)’’قرآن مجید کی سائنسی تفاسیر‘‘

یہ ان کے چند مقالات کے عنوان ہیں۔ جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے ہاں موضوعات میں بھی کتنا تنوع تھا۔ (جاری ہے)

ڈاکٹر انصاری نے ایک بھرپور زندگی گزاری ہے۔ وہ ایک بلند قامت علمی شخصیت ہونے کے باوجود خشک کتابی آدمی نہیں تھے۔ ان کی شخصیت میں تصنع تھا نہ ہی دو عملی۔ وہ قول و فعل کے تضاد کے مرض کے بھی شکار نہیں تھے۔ بدقسمتی سے ہمارے مذہبی اور غیر مذہبی علمی حلقوں تک میں یہ کینسر کے مرض کی طرح بیماری بن چکی ہے، اللہ نے انہیں خود نمائی، خود ستائی اور تعلّی سے بھی بچائے رکھا۔ اللہ نے جیسے جیسے ان کی علم کی رفعتوں اور کشادگئ رزق میں اضافہ کیا، ویسے ویسے عجز و انکسار ان کی شخصیت میں مزید نکھار پیدا کرتا چلا گیا۔ ان کی زندگی ایک کتاب کی مانند رہی۔ وہ ایک شگفتہ اور پربہار شخصیت کے مالک تھے۔ وہ اپنے اہل خانہ اور بچوں کے ساتھ بھی بھرپور وقت گزارتے تھے اور دوستوں اور احباب کی محفل کی بھی رونق رہتے تھے۔ دوستوں اور احباب کی محفل میں ان کی کوشش ہوتی کہ وہ دوستوں کو سنیں۔ مگر ایسا بھی نہ ہوتا تھا کہ کسی کو ان کی موجودگی کا احساس ہی نہ ہو۔ وہ اپنی کم آمیزی کے باوجود ہمیشہ رونقِ محفل رہے۔ ان کے قہقہے کا بھی اپنا ہی انداز تھا۔ مجال ہے کسی محفل میں ان کی زبان سے مجلس میں موجود یا غیر دوست کے بارے میں کوئی ایسا لفظ نکلا ہو جو کسی کی دل آزاری کا موجب بنتا۔ ان میں خدا نے دوستوں کے درمیان پیدا ہونے والی بدگمانیوں اور غلط فہمیوں کو ختم کراکے جوڑے رکھنے کی خداداد صلاحیت عطا کی تھی۔وہ دوسروں کے کام کو معتبر بنانے میں کتنی جان ماری کرتے تھے۔ اس کا تذکرہ کرتے ہوئے کالم نگار جناب خورشید ندیم نے لکھا ہے کہ:

’’میں نے انہیں ادارۂ تحقیقات اسلامی اور عالمی فکر اسلامی کی بہت سی کتب کی ایڈیٹنگ کرتے دیکھا۔ یہ واضح ہے کہ اس باب میں ان جیسی محنت کرنے والا خوش ذوق شاید ہی کوئی ہوگا۔ وہ ایک کتاب کے مسودے پر اتنی بار نظر ثانی کرتے کہ اصل متن نظروں سے اوجھل ہوجاتا۔ میں نے ایک کتاب کے آٹھ مسودے دیکھے ہیں۔ ان کی ایڈیٹنگ کے ساتھ چھپنے والی کتابوں پر مختلف مصنفین کے نام لکھے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مصنف کہلوانے کے حق دار تو انصاری صاحب ہی تھے‘‘۔

جناب خورشید ندیم نے ان کے منصب و جاہ سے گریز ۔۔۔۔۔۔کے حوالے سے بھی یہ بات بالکل مبنی برحقیقت لکھی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ:

’’میں نے دنیاوی مناصب کو ان کے دروازے پر دست بستہ کھڑا دیکھا ہے۔ انصاری صاحب نے پہلے سے انہیں کسی اور کے پتے پر بھیج دیا۔ ان کے کہنے پر کوئی وزیر بنا، کوئی مشیر بنا، کوئی مصنف بنا، کوئی منصب دار۔ وہ خود تمام عمر ان عہدوں سے بے نیاز رہے‘‘۔

خود میرے ذاتی علم اور مشاہدے میں کئی واقعات ہیں کہ جب باپ بیٹوں نے عہدوں و مناصب سے اپنا دامن کس طرح بچایا تھا۔ خدا نے ان کی شخصیت میں محبوبیت یوں ہی تو پیدا نہیں کردی تھی۔ وہ دوسروں کو آگے بڑھاکر جو خوشی و اطمینان محسوس کرتے تھے، اس کے بدلے میں خدا نے انہیں نفس مطمئنہ بھی عطا کیا تھا اور رزقِ حلال کے ذریعے کشادگی رزق کی دولت بھی کسی کی دست نگری کے بغیر عطا فرمائی تھی۔ ڈاکٹر انصاری کے گھر میں قیامِ پاکستان کے بعد مالی تنگ دستی کے کتنے ہی ماہ و سال گزرے ہیں۔ مگر خدا نے اس گھر کا بھرم بھی رکھا تھا اور کسی کے سامنے دست سوال دراز کرنے کی اذیت سے بھی بچائے رکھا تھا۔ اگر میں یہ بتاؤں تو کوئی یقین نہ کرے گا کہ ظفر اسحٰق انصاری کا چھوٹا بھائی اور میرا جگری دوست ظفر اشفاق انصاری تین ماہ تک سکول اس لئے نہیں جاسکا تھا کہ اس کے گھر میں سکول کی یونیفارم کے جوتے خرید نے کے پیسے پس انداز کرنا ممکن نہ تھا۔

مگر اس عالم میں بھی ان کے گھر سے کوئی مہمان بھوکا گیا نہ پیاسا۔ ڈاکٹر انصاری کے والد ہی عظیم انسان نہیں تھے بلکہ خدا نے ان کی والدہ محترمہ کو بھی بڑا انسان دوست اور غریب پرور بنایا تھا۔ میرے نزدیک تو وہ کسی ولی اللہ سے کم نہ تھیں۔ خدا نے کبھی توفیق دی تو ان کی انسان نوازی اور خدا ترسی کے واقعات کو قلم بند کرکے آنے والی نسلوں کو بتاؤں گا ظفر اسحٰق انصاری جیسے آدمی کیسے پروان چڑھتے ہیں۔ انصاری گھرانے کی منفرد خصوصیت یہ تھی کہ اس گھر میں گھریلو ملازموں کے طور پر آنے والے بھی غریب اور بے سہارا افراد زیورِ تعلیم سے آراستہ ہوکر سرکاری اور نجی اداروں میں اعلیٰ ملازتوں پر فائز ہوئے، ایسی ایک نہیں درجنوں مثالیں میرے سامنے ہیں۔ جو بچے اس گھر میں گھریلو ملازم کے طور پر آئے اور گھر کے افراد نے ان کو پڑھا کر میٹرک انٹر بی اے، ایم اے اور ایم بی اے تک کرایا۔ (جاری ہے)

مزید : کالم