قائداعظمؒ کا پاکستان:کب اور کیسے؟

قائداعظمؒ کا پاکستان:کب اور کیسے؟
 قائداعظمؒ کا پاکستان:کب اور کیسے؟

  

عید کی چھٹیوں میں قائداعظمؒ کی تقاریر، پیغام اور چیدہ چیدہ اقوال پڑھنے کا خوب موقع ملا، پھر وطن عزیز کی قومی زندگی اور اجتماعی سیاست پر غور و فکر اور سوچ بچار کے لئے کچھ وقت بھی میسر آیا۔مَیں نے یہ محسوس کیا ہے کہ تحریک پاکستان کے دور میں قیامِ پاکستان کے لئے ہمارے جو جذبات و احساسات تھے اور حصولِ آزادی کی خاطر ہماری جو عملی جدوجہد اور قربانیاں تھیں، حصولِ پاکستان کے بعد ہمارے اندر ویسا جذبہ اور اخلاص باقی نہ رہا۔پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے دور تک تو قائداعظمؒ کی پالیسیوں اور ان جیسے تدبر کی کچھ جھلکیاں دیکھنے کو مل جاتی رہیں،لیکن پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔قراردادِ مقاصد کی منظوری لیاقت علی خاں کے دور کا یقیناًایک بہت بڑا کارنامہ تھا، کیونکہ قراردادِ مقاصد میں پاکستان کی منزل اور راستے کا تعین کر دیا گیا تھا۔جو نام نہاد دانشور قراردادِ مقاصد کو قائداعظمؒ کی تعلیمات سے متصادم یا منافی قرار دیتے ہیں۔ان کی خدمت میں انتہائی اختصار کے ساتھ قائداعظمؒ کی فکر اور فلسفہ پیش کرنا چاہتا ہوں۔ قائداعظمؒ قرآن مجید کو اپنا قطعی اور آخری رہنما اور مسلمانوں کے لئے مکمل ضابطۂ حیات قرار دیتے تھے۔مذہبی، سماجی، شہری، معاشی، فوجی، عدالتی اور تعزیری قوانین پر مشتمل ایک ہمہ گیر اور جامع ضابطۂ حیات۔ قائداعظمؒ کا رول ماڈل رسولِ کریمؐ تھے اور انہوں نے بڑے واضح انداز میں یہ فرمایا تھا کہ ہماری نجات اُس اسوۂ حسنہ پر چلنے میں ہے جو ہمیں قانون عطا کرنے والے پیغمبر اسلامؐ نے ہمارے لئے وضع کیا تھا۔ قائداعظمؒ رسولِ اکرمؐ کو عظیم مصلح، عظیم رہنما، عظیم واضع قانون، عظیم سیاست دان، عظیم مدبر اور عظیم حکمران قرار دیتے تھے۔ جب ہم قرآن اور اسوۂ رسولؐ کو اپنے لئے کامل رہنما تسلیم کر لیتے ہیں تو اس کا اطلاق ہماری انفرادی زندگی پر بھی ہوتا ہے اور اجتماعی زندگی پر بھی۔ہماری سیاست پر بھی، ہماری معیشت پر بھی اور ہماری معاشرت پر بھی۔ جب اسلام کا رنگ غالب ہو گا تو ہمیں یہ حق پہنچتا ہے کہ ہم خود کو مسلمان قوم کہہ سکیں۔ یہ درست ہے کہ رفتارِ عالم اور رفتارِ زمانہ بدلتی رہتی ہے، لیکن اسلام ایک دائمی صداقت ہے۔ اِسی لئے قائداعظمؒ نے فرمایا تھا کہ اسلام کے اصول آج بھی اسی طرح قابلِ عمل ہیں جس طرح تیرہ سو سال پہلے تھے۔ہمیں بدلتے وقت کے تقاضوں کو ضرور اپنے پیش نظر رکھنا چاہئے،لیکن بدلتے زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ پالیسیاں تشکیل دیتے ہوئے ہم اسلام کے بنیادی اصولوں اور احکامات کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔

قرارداد مقاصد میں بھی یہی اقرار اور اعلان کیا گیا تھا۔ قائداعظمؒ کے الفاظ ملاحظہ کریں: ’’اسلام ہماری زندگی اور ہمارے وجود کا بنیادی سرچشمہ ہے‘‘۔ ہم اپنے سر چشمۂ حیات سے اپنا رشتہ کیسے توڑ سکتے ہیں۔اسلام ہی کی بنیاد پر ہم نے اپنے آپ کو الگ قوم تسلیم کروایا۔کلمۂ طیبہ کی اساس پر مسلم قومیت کے اصول کو اگر ہم منوانے میں کامیاب نہ ہوتے تو پاکستان معرضِ وجود میں نہیں آ ہی سکتا تھا۔ پاکستان کا نظریاتی وجود اور جغرافیائی وجود لازم و ملزوم ہیں۔ان دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کیا ہی نہیں جا سکتا۔جو نظریہ، جو عقیدہ، جو نصب العین اور جو مقاصد قیامِ پاکستان کے وقت قائداعظمؒ اور ان کے معتمد ساتھیوں کے پیش نظر تھے، وہی نظریہ اور نصب العین ہماری ملکی سالمیت اور قومی بقا کا آج بھی ضامن ہیں۔ یہاں یہ بھی واضح کر دوں کہ قائداعظمؒ جن اسلامی تعلیمات کے علمبردار تھے، وہ صرف مسلمانوں کی بہبود اور فلاح تک محدود نہیں،بلکہ اسلام جس انصاف، مساوات،معقولیت، رواداری اور معاشرتی انصاف کا علمبردار ہے، اس میں غیر مسلم اقلیتوں کے لئے بھی برابر کے شہری حقوق کی ضمانت دی گئی ہے۔ جب اسلام کے انصاف اور مساوات کے اصولوں پر دیانتداری سے عمل کیا جائے گا تو پھر پاکستان میں بسنے والا کوئی طبقہ بھی محروم نہیں رہ سکتا۔ قائداعظمؒ پاکستان کو اسلامی نظریات پر مبنی ایک فلاحی اور جمہوری ریاست بنانا چاہتے تھے،لیکن پاکستان میں مذہبی طبقے کی مخصوص حکومت سے قائداعظمؒ ہر گز اتفاق نہیں کرتے تھے،کیونکہ اسلام میں تھیوکریسی نہیں ہے۔ قائداعظمؒ کے پاکستان کو ایک شاندار، عظیم اور خوشحال مملکت بننا تھا۔ ایک ایسا مُلک جس نے اپنے تمام شہریوں کی اچھی، بہتر، بلکہ مثالی زندگی کا ضامن بننا تھا۔پاکستان کے تمام وسائل کو عوام کی اجتماعی ترقی اور خوشحالی کے لئے یکساں طور پر استعمال کیا جانا تھا۔ قائداعظمؒ ایسے پاکستان کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے، جس میں ایک مخصوص اور محدود طبقہ لوٹ کھسوٹ اور حرام ذرائع سے دولت اکٹھی کر کے امیر سے امیر تر بن جائے اور ظلم و انصافی کا مظاہرہ کرتے ہوئے غریب طبقے کو غریب تر بنا دیا جائے۔اگر ہم پاکستان کو قائداعظمؒ کے فرمان کے مطابق اسلام کی تجربہ گاہ بنانے میں کامیاب ہو جاتے تو ہمارے مُلک میں عدم مساوات اور ظلم و استحصال کے مکروہ مناصر کبھی دیکھنے کو نہ ملتے۔؎

قائداعظمؒ نے تو اپنی آخری تقریر میں یہ ہدایت فرمائی تھی کہ ’’ہمیں ایک ایسا معاشی نظام تشکیل دینا چاہئے جو انسانی مساوات اور معاشرتی انصاف کے سچے اسلامی تصورات کے مطابق ہو اور جو پوری دُنیا کے لئے ایک مثال ہو‘‘۔۔۔ قائداعظمؒ نے آسٹریلیا کے عوام کے نام ایک نشریاتی پیغام میں یہ بھی کہا تھا کہ ’’ہم ایسی بیرونی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کریں گے جو پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرے‘‘۔ ہمارا حکمران طبقہ اور امیر کبیر سیاست دان اپنا ذاتی سرمایہ بھی مُلک سے باہر منتقل کر دیتے ہیں۔اس طرح وہ اپنے مُلک کی معیشت کو کمزور کرنے کا ناقابلِ معافی جرم کرتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ پھر بھی وہ خود کو پاکستان کا وفادار کہنے پر اصرار کرتے ہیں۔ جب اپنے مُلک کی معیشت کمزور ہو اور ہمیں خود اپنے مُلک کے لئے بیرونی طاقتوں کے قرضوں کا سہارا لینا پڑتا ہو، ایسے پریشان کن حالات میں جب ہمارے حکمران طبقے ہی اپنی سرمایہ کاری برطانیہ یا دوسرے ممالک میں منتقل کر رہے اور کر چکے ہوں تو پھر مُلک و قوم سے ان کی وفاداری کے دعوؤں کو کیسے تسلیم کیا جا سکتا ہے؟۔۔۔ ہمارے حکمران طبقوں کے پاس سرمایہ بھی وہ ہے جو انہوں نے خیانت منصبی اور قومی خزانے کو انتہائی بے دردی سے لوٹنے کے بعد جمع کیا ہُوا ہے، پھر یہی سرمایہ اگر غیر قانونی طور پر پاکستان سے باہر بھجوا دیا جائے تو اس سے بڑا گھناؤنا جرم اور کیا ہو سکتا ہے۔میرا اشارہ کسی خاص سیاست دان کی طرف نہیں ہے۔ مُلک کے وسائل اور سرمایہ لوٹنے والوں کو سبھی جانتے اور پہچانتے ہیں،لیکن اس سے بڑا ظلم یہ ہے کہ آج تک قومی خزانہ لوٹنے والے کسی بھی سیاست دان کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا گیا۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں تو ظلم کی حد کر دی گئی کہ این آر او کے ذریعے سیاست دانوں کے سنگین ترین جرائم بھی معاف کر دیئے گئے۔ پاناما لیکس کے بعد احتساب کے عمل کا آغاز تو ہُوا ہے۔عدالت ِ عظمیٰ نے ایک فیصلہ بھی کیا ہے۔ جے آئی ٹی کی تحقیقات بھی جاری ہیں،لیکن اصل بات تو یہ ہے کہ کیا اس مُلک میں احتساب اور انصاف منطقی اختتام تک بھی پہنچے گا یا یہ عمل ہمیشہ کی طرح ادھورا ہی چھوڑ دیا جائے گا؟

نواز شریف اور ان کے حامیوں کا یہ کہنا ہے کہ احتساب صرف ایک خاندان کا ہو رہا ہے،لیکن ایک سوال جس کا جواب نواز شریف اور شہباز شریف دونوں نہیں دے سکتے،وہ سوال یہ ہے کہ ماضی کے جس جس حکمران یا سیاست دانوں کے علاوہ جس جس طبقے نے بھی پاکستان کے وسائل کو انتہائی بے رحمی سے لوٹا ہے،آخر ان کا احتساب کس کی ذمہ داری ہے؟ کیا گزشتہ چار سال سے مُلک کے وزیراعظم نواز شریف نہیں ہیں؟کیا گزشتہ نو سال سے پنجاب میں شہباز شریف وزیراعلیٰ نہیں ہیں؟ احتساب کے تمام ادارے حکمرانوں کے کنٹرول میں ہوتے ہیں،لیکن جب مرکز اور دو صوبوں میں مسلم لیگ (ن) کو مکمل اقتدار و اختیار حاصل ہے تو پھر مُلک کو اپنی لوٹ کھسوٹ سے برباد کر کے رکھ دینے والوں کا احتساب شروع کیوں نہیں کیا گیا؟ نواز شریف اور ان کے بھائی مُلک اور صوبہ پنجاب کی تعمیر و ترقی کے بڑے دعوے کرتے ہیں،لیکن جس مُلک میں قومی وسائل لوٹنے والوں کے احتساب کی روایت کو مستحکم نہ کیا جائے اس مُلک کی تعمیر و ترقی کیسے ممکن ہے؟اگر ان لوگوں کا احتساب نہیں کیا جائے گا جو ہمارے تمام تر مصائب اور مسائل کے ذمہ دار ہیں اور جب وطن عزیز میں بڑی سے بڑی کرپشن کرنے والوں کو قانون کا خوف نہیں ہو گا تو پھر نتیجہ یہ ہو گا کہ مصائب کی تاریک رات ہمارے مُلک پر مسلط ہی رہے گی۔ اِس مُلک میں عوام کی عزت و تکریم اور خوشحالی کا خواب اُس وقت تک شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا، جب تک قومی وسائل لوٹنے والوں کو عبرتناک سزا دینے اور اس پر عمل کروانے میں ہمارا عدالتی نظام کامیاب نہیں ہو گا۔ قائداعظمؒ کے فرمان کے مطابق تو حکومت کا اصل کام غریبوں کا معیارِ زندگی بلند کرنا ہے،لیکن جب حکمران خود ہی لٹیروں کا روپ دھار لیں یا جب تک عوام خود بھی لٹیرے سیاست دانوں کو ہی منتخب کرتے رہیں گے تو پھر پاکستان کو قائداعظمؒ کا پاکستان کیسے بنایا جا سکتا ہے؟قائداعظمؒ کا پاکستان وہ ہو گا جس میں بدعنوانی، اقربا پروری اور ناجائز منافع خوری نہیں ہو گی، جس مُلک میں مذہبی روا داری ہو گی،جہاں انصاف اور مساوات ہو گی اور جہاں قانون کی حکمرانی ہو گی، جہاں کسی شہری کو اپنی جان، مال اور عزت و آبرو کے حوالے سے عدم تحفظ کا احساس نہیں ہو گا، جہاں انتظامیہ عوام کی ملازم اور خادم بن کر رہے گی، جہاں ظلم و جبر اور استحصال کی ہر شکل مٹا دی جائے گی۔۔۔قائداعظمؒ کا یہ پاکستان کب اور کیسے قائم ہو گا؟اس کے لئے ہم سب کو اپنا اپنا کردار مثبت طور پر ادا کرنا ہو گا۔اگر ہم اپنے حقوق کا تحفظ چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے فرائض بھی پوری ذمہ داری اور دیانتداری سے ادا کرنا ہوں گے۔

مزید : کالم