نواز شریف، پولینڈ کی قرارداد اور مہاجر کوٹہ (2)

نواز شریف، پولینڈ کی قرارداد اور مہاجر کوٹہ (2)
 نواز شریف، پولینڈ کی قرارداد اور مہاجر کوٹہ (2)

  

جمشید مارکر نے معاملے کے ایک مضحکہ خیز پہلو کی طرف بھی توجہ دلائی ہے جو بقول ان کے ہر قوم کی تاریخ میں ایک داغ کے طور پر کہیں نہ کہیں موجود ہوتا ہے۔ اس پہلو کا تعلق ڈھاکہ میں پاکستانی فوج کے ہتھیار ڈالنے پر رضا مندی اور اس کے نتیجے میں رونما ہونے والی جنگ بندی تھی جو 15دسمبر1971ء کو وقوع پذیر ہوئی اور اس موقع پر یہ بھی طے پا چکا تھا کہ ہتھیار ڈالنے کی یاد داشت پر16دسمبر کو دستخط ہوں گے، یعنی یہ کہ جب نیو یارک میں15دسمبر کو 12بج کر10منٹ پر سیکیورٹی کونسل میں قرارداد پر غور شروع ہوا تب ڈھاکہ میں 16دسمبر کو رات ایک بجے کا وقت تھا اور سلامتی کونسل کے اراکین جب قرارداد پر غور کرنے کے لئے اپنی نشستوں پر براجمان ہو رہے تھے وہ راحت و اطمینان کی کیفیت میں اِس بات سے ناواقف تھے کہ اقوام متحدہ کے ایک رکن مُلک پاکستان کے دو ٹکڑے ہو چکے ہیں۔مارکر لکھتے ہیں کہ اس پس منظر میں بھٹو صاحب کا قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے غم و غضے کا اظہار قرارداد کی بے سودگی اور قومی وقار پر مرکوز تھا۔یہ تھے پولینڈ کی قرارداد کے حوالے سے وہ حقائق جن میں کسی کمی بیشی کی شاید ہی گنجائش ہو۔ہاں البتہ اگر قرارداد سے ہٹ کر تاریخ کو مزید کریدیں تو ’’بلڈ ٹیلی گرام‘‘ کے ذریعے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ امریکہ کو انتہائی غصے میں دیکھ کر روس نے بھارت کو صاف صاف کہہ دیا تھا کہ اب وہ مزید کوئی قرارداد ویٹو نہیں کرے گا، جس پر بھارت کے طوطے اُڑ گئے تھے اور بھارتی حکومت نے اپنے جرنیلوں سے کہا تھا کہ ان کے پاس ہتھیار ڈلوانے کے لئے صرف ایک دن ہے ورنہ کھیل ہاتھ سے نکل جائے گا، جس پر بھارتی جرنیلوں نے نیازی کے ساتھ گیم کھیلا اور گیدڑ بھبھکی دے کر ہتھیار ڈلوائے۔یعنی یہ کہ نیازی کو اگر مرکز کی طرف سے حوصلہ افزائی حاصل رہتی اور قدم جما کے رکھتے تو تاریخ اگرچہ پھر بھی دردناک ہی ہوتی،لیکن مختلف ہوتی۔

فاضل کالم نگار نے ڈرتے ڈرتے فوج کو یہ سمجھانے کی کوشش بھی کی ہے کہ مارشل لاء مُلک کے لئے فائدہ مند نہیں ہوتا، بلکہ نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔

ظاہر ہے کہ اتنے اہم موضوع پر جب کوئی ہما شما بات کرے گا تو ڈر ڈر کر ہی کرے گا اور اس کا کیا خاک اثر ہو گا، بلکہ بات اگر بُری لگ گئی تو لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں۔اس لئے یہ بہتر ہے کہ یہ سبق کسی ایسے کمانڈو جرنیل کی زبان میں سمجھایا جائے جس نے سیاست کے بھی مزے چکھے ہوں تو اس کے خاطر خواہ نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ مثلاً سابق چیف آف آرمی سٹاف و سابق صدرِ پاکستان جنرل پرویز مشرف جنہوں نے اپنی کتاب ’’اِن دی لائن آف فائر‘‘ میں ایک سے زیادہ مرتبہ مارشل لاء کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:’’جب بھی فوج مارشل لاء میں ملوث ہوتی ہے اپنے اصل قومی فرائض سے اس کا دھیان بٹ جاتا ہے، فوجی تربیت اور ہمہ وقت تیار رہنے کی کیفیت پر اثر پڑتا ہے۔ جب ہم مارشل لاء کے ذریعے معاملات چلاتے ہیں تو سویلین حاکمیت ختم ہو جاتی ہے،چنانچہ جب مارشل لاء اٹھتا ہے تو سویلین انتظامیہ غیر موثر ہو چکی ہوتی ہے، کیونکہ اس کی نشوونما رُک جاتی ہے‘‘۔ایک جگہ اور وہ باب 16 میں لکھتے ہیں کہ ہمارے ماضی کے تجربات سے ثابت ہو چکا تھا کہ مارشل لاء نہ صرف فوج کو نقصان پہنچاتا ہے، بلکہ سویلین کے لئے بھی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔فوج جب سویلین اداروں پر قابض ہو جاتی ہے تو بیورو کریسی ان اہم فیصلوں کے سلسلے میں جو اسے خود کرنے چاہئیں تھے فوجی افسروں پر انحصار کرنے لگتی ہے۔ خود اپنے اقتدار سنبھالنے کے تجربے کو پرویز مشرف یوں بیان کرتے ہیں ’’جب مَیں نے اقتدار سنبھالا تو مجھے یوں لگا جیسے مجھے تالاب کے گہرے پانی والے حصے میں پھینک دیا گیا ہے،جہاں انسان یا تو تیرنا سیکھ جاتا ہے یا پھر ڈوب جاتا ہے۔ میرا ڈوبنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، چنانچہ مَیں نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا‘‘۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو پرویز مشرف صاحب اس وقت تو تیر گئے،لیکن بالآخر سیاست کے سمندر میں ہاتھ پاؤں مارتے ہی گئے، بلکہ اب بھی کئی طرح کے مقدمے ان کے پاؤں کی زنجیر بنے ہوئے ہیں، اِسی لئے تو کہتے ہیں کہ جس کا کام اسی کو ساجھے، اور کرے تو ٹھینگا باجے۔

مہاجر ایشو پر بات کرتے ہوئے صحافت کے یہ چودھری جو خود کو شاید سماجیات کا افلاطون بھی سمجھتے ہیں۔فرماتے ہیں کہ بھٹو صاحب کیونکہ سندھی تھے اِس لئے انہوں نے1973ء میں سندھ میں کوٹہ سسٹم نافذ فرما دیا،جس کے تحت ملازمتوں میں سندھ کے غیر شہری علاقوں کا کوٹہ60فیصد اور شہری علاقوں کا40فیصد مقرر کر دیا گیا۔ بقول ان کے 1973ء میں(جب خود موصوف کی اپنی عمر پانچ سال تھی) کراچی اور حیدر آباد کے ہر دفتر میں پڑھے لکھے ہنر مند اور تہذیب یافتہ غیر سندھی نظر آتے تھے اور کسی بھی دفتر میں سندھی دکھائی نہیں دیتے تھے۔بقول اُن کے کوٹہ سسٹم کی وجہ سے پڑھی لکھی مہذب اور تجربہ کار بہادر کمیونٹی گڑھے میں گرتی چلی گئی اور سندھی وڈیروں کے نالائق بچے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے چلے گئے۔الطاف حسین جیسے لوگ محرومی کے اسی گڑھے کی پیداوار ہیں۔ اگر کوٹا سسٹم نہ ہوتا تو شاید مہاجر مہاجر نہ بنتے اور الطاف حسین مہاجر کارڈ استعمال نہ کر پاتے‘‘۔ اس بیانیے سے آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ موصوف نے اسے کہیں اور سے لے کر نقل کیا ہے اور اپنی جہالت کے ذریعے تفریق کا زہر گھولنے کی کوشش کی ہے۔ اِس ضمن میں حقائق یہ ہیں کہ کوٹہ سسٹم 1973ء میں آئین پاکستان کے تحت نافذ کیا گیا تھا، جس پر تمام سیاسی پارٹیوں نے دستخط کئے تھے، جن میں جماعت اسلامی اور جمعیت العلمائے اسلام مرکزی شامل تھیں،جنہوں نے مولانا ظفر احمد انصاری سمیت جنہیں جماعت اسلامی کی حمایت حاصل تھی، کراچی کی سات میں سے پانچ نشستیں حاصل کی تھیں، جبکہ پیپلزپارٹی کو صرف دو نشستیں ملی تھیں، یعنی پیپلزپارٹی کے مخالفین کو کراچی کے72فیصد عوام کی نمائندگی حاصل تھی۔ آئین میں دیئے گئے

فارمولے کے مطابق سندھ کی صوبائی حکومت نے صوبائی ملازمتوں کے لئے بھی 60فیصد اور 40فیصد کے تناسب سے کوٹا جاری کر دیا تھا۔ اگر کوٹہ سسٹم بھٹو صاحب نے اپنے سندھی ہونے کی وجہ سے جاری کروایا تھا تو ان کے مختصر دور کے بعد ضیاء الحق کی11سالہ حکومت آئی جس نے نہ صرف انہیں پھانسی پر لٹکا دیا، بلکہ ایم کیو ایم کی تخلیق اور سرپرستی کا سہرا بھی انہی کے سر باندھا جاتا ہے تو ایم کیو ایم نے ان سے یہ کوٹہ سسٹم منسوخ کیوں نہیں کروایا؟ فاضل دانشور کو اس سوال کا جواب ڈھونڈنا چاہئے تھا اور ان سوالوں کا بھی کہ جب سے اب تک ایم کیو ایم متعدد بار مرکز اور صوبائی سطح پر کئی بار اقتدار میں بھی شریک رہی،لیکن کوٹہ سسٹم منسوخ نہ کرا پائی۔ یہ کوٹہ سسٹم پرویز مشرف نے بھی منسوخ نہ کیا، جس نے کراچی کو کراچی بنا دیا اور جنہیں ایم کیو ایم کی مکمل حمایت حاصل تھی اور تو اور سابق چیف جسٹس افتخار احمد چودھری، جنہیں اپنے طور پر انصاف کا ہیرو بننے کا بڑا شوق تھا اور جنہیں پرویز مشرف نے2005ء میں چیف جسٹس کے عہدے پر ترقی دے دی تھی انہوں نے بھی 2006ء میں ٹی وی پر نشر ہونے والی اس دردناک اپیل پر کان نہ دھرے۔ خود ایم کیو ایم ان کی عدالت میں یہ معاملہ لے جا کر اپنے حق میں فیصلہ کروا سکتی تھی۔ تب تک تو ان سے اور پرویز مشرف دونوں سے ہی بہت اچھے تعلقات تھے موصوف فرماتے ہیں کہ کوٹہ سسٹم کی وجہ سے پڑھی لکھی مہذب اور تجربہ کار کمیونٹی گڑھے میں گرتی چلی گئی اور سندھی وڈیروں کے نالائق بچے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے چلے گئے۔ موصوف کو کوٹہ سسٹم کے 33سال بعد بھی جب وہ ٹی وی پر اپنی من گھڑت کہانی سُنا رہے تھے دکھائی نہیں دیا کہ اس وقت کے سربراہِ حکومت ایک مہاجر تھے اور جن چار جرنیلوں نے ان کے ساتھ مل کر نواز شریف کا تختہ الٹا تھا وہ بھی مہاجر ہی تھے اور اس وقت سول انتظامیہ کے اعلیٰ ترین عہدوں پر بھی مہاجرین کی اکثریت ہی فائز تھی۔ تو وہ کون سے اعلیٰ عہدے تھے جن پر سندھی وڈیرے 34سال کے عرصے میں نہیں پہنچ سکے؟ یا آج 44سال بعد بھی پہنچ چکے ہیں؟ چودھری صاحب کو تفتیش کر کے اور نام لے کر بتانا چاہئے تھا کہ فلاں وڈیرے کا فلاں نالائق بچہّ فلاں عہدے پر فائز ہے، تبھی ان کی بات میں وزن پیدا ہوتا۔ (جاری ہے)

مزید : کالم