سعید بدر کا نامہ ء دلنواز و دلخراش!

سعید بدر کا نامہ ء دلنواز و دلخراش!
سعید بدر کا نامہ ء دلنواز و دلخراش!

  

جوں جوں دن گزر رہے ہیں خطوط نویسی، نوادرات بنتی چلی جا رہی ہے۔ بہت جلد وہ وقت آ رہا ہے جب خط نویسی کا تصور ہی عنقا ہو جائے گا۔ اگرچہ تحریر پہ تقریر ہمیشہ غالب رہی ہے۔ لیکن ایک تو اس کے لئے برجستگی اور روانی ء کلام شرط ہے اور دوسرے تقریر کی زبان ہمیشہ عمومی رہی ہے اور تحریر کی خصوصی۔۔۔ وجہ شائد یہ ہے کہ بولتے ہوئے سوچنے کا موقع کم کم ملتا ہے جبکہ صریرِ خامہ کے ساتھ ساتھ نئے نئے مضامین ذہن و خیال میں تشکیل پاتے جاتے ہیں اور فقرے سے فقرہ بنتا چلا جاتا ہے۔ ایسے خطوط جن میں ادب و شعر کا ذکر ہو اور بھی متاعِ کمیاب کہلانے لگے ہیں اور جو حضرات مکتوب نویسی کا ارتکاب کرتے ہیں ان کو اب اگلے وقتوں کے لوگوں میں شمار کیا جانے لگا ہے۔ میں خود کو بھی اس ’’گناہ‘‘ کا مرتکب گردانتا ہوں۔ کالم نویسی اور مکتوب نگاری خون کے رشتے دار بھی ہیں۔ اور اگرچہ اس سفر میں ہمسفروں کی تعداد کم ہونے لگی ہے لیکن پھربھی کسی موڑ پر یا کسی درخت کی گھنی چھاؤں میں ایسے مسافر دستیاب ہو ہی جاتے ہیں۔ ۔۔۔برادرِ عزیز جناب سعید بدر ایسے ہی مسافروں میں سے ایک ہیں۔ ان کے محبت نامے جب بھی آتے ہیں دل کو گرما جاتے ہیں۔

میرے کالم کے قاری جانتے ہیں کہ میری اصل فیلڈ تو دفاع پر قلم گھسیٹنا ہے لیکن جب بھی قاری کی بوریت دور کرنے کی کوشش میں کسی شعر کا ’’تڑکا‘‘ تحریر میں لگاتا ہوں وہیں پکڑا جاتا ہوں۔ سوچتا ہوں کاش میرے قابلِ صد احترام قارئین مذہب، شعر و شاعری اور سیاسیات کی مثلث سے باہر نکلیں اور حدیثِ دفاع و اقتصادیات کی جانب بھی رجوع کریں۔ لیکن برادرانِ گرامی کو ان سہ گانہ موضوعات کی ایسی لت پڑ چکی ہے کہ نہ وہ ان کی جان چھوڑتی ہے اور نہ یہ اس سے ترکِ تعلق پر راضی ہوتے ہیں۔

آمدم برسرمطلب۔۔۔ میں نے کسی حالیہ کالم میں حضرت اقبال کے کسی شعر کا حوالہ دے کر اپنا مافی الضمیر واضح کرنے کی کوشش کی تھی۔ میری یہ عادت نجانے نیک ہے یا بد ہے کہ دفاع، عسکریات، بین الاقوامی امور، اقتصادیات، علاقائی سیاسی موضوعات اور جیوملٹری معاملات پر لکھتے لکھتے جب کوئی ایسا ’’مقام‘‘ آتا ہے کہ جہاں اقبال بھی تھم جایا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ : ’’تھم اے رہرو کہ شائد پھر کوئی مشکل مقام آیا‘‘۔۔۔ تو وہاں میرے نہاں خانہ ء ذہن سے کبھی اردو اورکبھی فارسی کا شعر قلم کی نوک پر دستک دینے لگتا ہے اور میں قلم کو روک نہیں سکتا۔ لیکن میرا اصل مدعا وہی ہوتا ہے جس کا ذکر اوپر کر چکا ہوں۔

تھی حقیقت سے نہ غفلت فکر کی پرواز میں

آنکھ طائر کی نشیمن پر رہی پرواز میں

سعید بدر صاحب نے یہ خط لکھ کر میرے موقف کو درست ثابت کر دیا ہے کہ اردو زبان کے بیشتر مضمون نویس اور کالم نگار حضرات (اور خواتین بھی)صرف اسی تکون کے گرداگرد گھومتے ہیں جو مذہب، شاعری اور سیاسیات سے عبارت ہے۔ اپنے مکتوب گرامی میں جناب سعید بدر نے میرے ایک شعر کو بنیاد بنا کر جو وضاحتیں فرمائی ہیں، میں ان کا شکر گزار ہوں۔لیکن بات وہی ہے جو اقبال نے فارسی کے ایک شعر میں یوں فرمائی تھی:

من اے میرِ عربؐ داد از تو خواہم

مرا یاراں غزل خوا نے شمردند

(اے میر عربؐ! میں آپ سے فریاد کناں ہوں کہ میرے دوست مجھے غزل گو شمار کرتے ہیں)

اسرار خودی میں بھی وہ اپنے مقصد کی شروعات میں فرماتے ہیں:

آشنائے من زمن بیگانہ رفت

از خمستانم، تہی پیمانہ رفت

او حدیثِ دلبری خواہد ز من

رنگ و آبِ شاعری خواہد ز من

من شکوہِ خسروی او را دہم

تاجِ کسریٰ زیرِ پائے او نہم

کم نظر بیتابی ء جانم ندید

آشکارم دید و پنہانم ندید

(میرا دوست مجھ سے بیگانہ ہی رہا اور میرے میکدے سے خالی جام لوٹ گیا۔ میں اس کو شکوہِ خسروی دینا چاہتا تھا اور تاج کسریٰ اس کے پاؤں میں رکھنا چاہتا تھا۔ لیکن وہ تھا کہ مجھ سے عشق و عاشقی کے فسانے مانگتا تھا اور شعر و شاعری کا طلبگار تھا۔ کم نظر نے میری جان کی بے قراری نہ دیکھی، صرف میرا ظاہر دیکھا اور باطن کی طرف نظر نہ دوڑائی)۔

۔۔۔اب میں مکرمی سعید بدرصاحب کا خط آپ کے سامنے رکھتا ہوں،(چند فقرے میں نے البتہ حذف کر دیئے ہیں) خود فیصلہ کیجئے کہ اس میں مذہب، شعر و شاعری اور سیاست کے اجزائے ثلاثہ کس کس انداز سے جلوہ گر ہیں:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سروری زیبا فقط اس ذاتِ بے ہمتا کو ہے

حکمراں ہے اک وہی باقی بُتانِ آذری

محترم و مکرم کرنل غلام جیلانی خان صاحب

السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ!

امید واثق ہے کہ آپ خیر و عافیت سے ہوں گے۔ آپ کا کالم ہر روز مطالعہ کرتا ہوں اور اپنی ناقص معلومات میں اضافہ کرتا ہوں۔ کئی بار کالم پڑھ کر بے حد مسرت سے سرشار ہو کر آپ کی تعریف و توصیف کرنے کے لئے جی چاہتا ہے لیکن اگلے روز اس سے بھی بہتر تحریر آ جاتی ہے اور چپ سادھ لیتا ہوں۔ بہرحال بقول علامہ اقبال:

یاد سے تیری دلِ درد آشنا معمور ہے

جیسے کعبے میں دعاؤں سے فضا معمور ہے

(ویسے آپس کی بات یہ ہے کہ اقبال نے یہ شعر اپنی والدۂ مرحومہ کی یاد میں کہا تھا لیکن سعید بدر صاحب میں تو ابھی زندہ ہوں۔ اس زندہ یاد کے لئے کوئی دوسرا زندہ شعر بھی لکھا جا سکتا تھا۔)

آج مورخہ 19/6/17 کے کالم میں آپ نے پاکستان کے معروضی حالات کا جائزہ لیا ہے اور امریکہ، بھارت اور افغانستان (حتی کہ ایران بہادر) کی ملی بھگت اور سازشوں کا انکشاف کیا ہے لیکن ہمارے حکمران دولت لوٹنے کے چکر میں ہیں او راب اسے ٹھکانے لگانے کی فکر میں مبتلا ہیں۔ فردوس عاشق اعوان (ان کا اور ان کی پارٹی کا ماضی بھی درخشاں نہیں) نے آج کہا ہے کہ ’’شریفوں‘‘ کے تمام منصوبے بے کار اور ناکام ثابت ہوئے ہیں ۔

آپ نے اپنے کالم میں علامہ اقبال کے شعر کا حوالہ دے کر فرمایا ہے کہ :

آسماں ہو گا سحر کے نُور سے آئینہ پوش

اور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گی

اور یہ بھی فرمایا ہے کہ:

’’علامہ اقبال کوئی ولی اللہ نہ تھے۔ ان کی حقائق پر نظر تھی جو ابھی پردۂ اخفاء میں تھے لیکن اقبال کی چشم باطن دیکھ رہی تھی کہ پاکستان بن کر رہے گا‘‘

میری گزارش ہے کہ اگر علامہ اقبال کا ’’باطن‘‘ (سینہ) روشن تھا اور وہ باطنی آنکھ سے دیکھ رہے تھے تو پھر ’’ولی‘‘ کسے کہتے ہیں؟

کیا ’’ولی اللہ‘‘ باطنی آنکھوں سے نہیں دیکھتے؟ بلکہ وہ تو معاملات کو ’’باطنی آنکھوں‘‘ سے ہی دیکھتے ہیں۔آپ نے شروع میں دیئے گئے شعر میں مان لیا ہے کہ ’’ظاہری آنکھ سے دیکھنے کی بجائے’’ دیدۂ دل‘‘ وا کرنا پڑتا ہے اور اقبال نے 1930ء سے بہت پہلے یہ ’’سب کچھ‘‘ دیکھ لیا تھا، بیان بعد میں کیا۔ یاد آ رہا ہے انہوں نے ایک جگہ یوں بھی کہا ہے:

کھول کر آنکھیں مرے آئینہ گفتار میں

آنے والے دور کی دھندلی سی اک تصویر دیکھ

وہ تو کہتے ہیں کہ یہ علامہ اقبال کی ’’کسر نفسی‘‘ تھی کہ ’’دھندلی سی تصویر‘‘ کہا وگرنہ فرماتے ہیں:

مجھے رازِ دو عالم، دل کا آئینہ دکھاتا ہے

وہی کہتا ہوں جو کچھ سامنے آنکھوں کے آتا ہے

یعنی وہ تو ایک عالم کا ’’راز‘‘ ہی نہیں، بلکہ دو عالموں کا راز دیکھ لیتے ہیں۔

’’شمع اور شاعر‘‘ میں بہت کچھ کہنے کے بعد آخری بند کے آخری شعر سے پہلے والے شعر میں کہتے ہیں:

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں

محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی

اور آخری شعر ہے:

شب گریزاں ہو گی آخر جلوۂ خورشید سے

یہ چمن معمور ہو گا نغمہء توحید سے

دیکھ لیجئے،ہندوستان میں سورج واقعی طلوع ہوا اور اب پاکستان کی صورت میں ’’نغمہء توحید‘‘ گونج رہا ہے۔ ایک اور جگہ پھر’’آنکھوں‘‘ ہی کے حوالے سے فرماتے ہیں:

دکھا دوں گا جہاں کو جو مری آنکھوں نے دیکھا ہے

تجھے بھی صورتِ آئینہ حیراں کرکے چھوڑوں گا

مثنوی ’’پس چہ باید کرو‘‘ کے آخر میں صاف طور پر کہا ہے:

از تب و تابم نصیبِ خود بگیر

بعد ازیں ناید چومن ’مردِ فقیر‘

اس سے زیادہ کیا کہہ سکتے ہیں۔۔۔ اہلِ تصوف میں جتنے بزرگ، یعنی اہل اللہ (یا ’’ولی اللہ‘‘) ہوئے ہیں وہ خود کو ہمیشہ ’’فقیر‘‘ یا ’’درویش‘‘ ہی کہتے رہے۔ اگلے اشعار میں فرماتے ہیں:

بامن آہے صبح گا ہے دادہ اند

سطوتِ کو ہے بکا ہے دادہ اند

دارم اندر سینہ، نُورِ لا الٰہ

درشرابِ من، سرورِ لا الٰہ

فکرِ من گردوں مسیراز فیضِ او است

جوئے ساحل نا پذیر از فیض او ست

پس بگیر از بادۂ من یک دوجام

تادرخشی مثلِ تیغِ بے نیام

ان اشعار کے معانی درج کرنا گستاخی ہوگی کیونکہ آپ راقم سے کہیں زیادہ فارسی جانتے ہی نہیں بلکہ اس کے عالم و فاضل ہیں۔ اغلباً آپ نے فاضل فارسی کر رکھا ہے۔ آقا بیدار بخت کو تو آپ خوب جانتے ہوں گے!(حالانکہ میں نہ فارسی کا کوئی عالم فاضل ہوں اور نہ کبھی ’’آقا‘‘ بیداربخت کو دیکھا ہے۔ یہ ’’غلام‘‘ جیلانی خان کی بدنصیبی ہی کہی جا سکتی ہے!)

ایک دور تھا جب اہلِ حدیث ’’ولی اللہ‘‘ کے تصور ہی سے منکر تھے۔ میرے والد گرامی کہا کرتے تھے کہ وہابیوں میں کوئی ولی اللہ نہیں ہوتا۔ میں حیران ہوتا اور ان کی جانب سے کچھ کہنا زیادتی کے مترادف خیال کرتا۔ لاہور آیا تو ان دنوں مولانا اسماعیل غزنوی اور داؤد غزنوی کا بہت شہرہ تھا۔ داؤد غزنوی کے فرزند ابوبکر غزنوی، اسلامیہ کالج میں عربی کے استاد تھے اور وہ علامہ اقبال کے مراتب سے انکاری تھے۔ میری ان سے اکثر بحث ہو جاتی۔ ایک بار تعطیلات میں ہم کسی گاؤں میں کسی دوست کی دعوت پر چلے گئے۔ وہاں مسجد میں مولوی صاحب صبح کے درس میں مولانا رومیؒ کی مثنوی کا درس دیاکرتے تھے۔ ابوبکر درس میں شمولیت پر راضی نہ تھے۔ میزبان دوست نے کہا: ’’میری خاطر دوچار روز سن لو، پھر نہ سہی‘‘۔ طوہاً وکرہاً شامل ہونے لگے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر آئے دن میری دلچسپی میں اضافہ ہوتا گیا۔ آخر میں، اس قدر دلچسپی لینے لگا کہ میں نے پوری چھٹیاں وہیں گزاریں اور لاہور واپس نہ آیا، میری ماہیتِ قلب ہو چکی تھی۔ کرنل صاحب! اس کے بعد ابوبکر صاحب نے اپنی رہائش گاہ پر ہر روز خود صبح مثنوی کا درس دینا شروع کر دیا۔ میرے کالج فیلو خالد غزنوی ہوتے تھے وہ عربی سٹوڈنٹ تھے۔

وہ دوچار سٹوڈنٹس کو گھیر گھار کر ان کے درس میں لے جاتے۔ مجھے پتہ چلا تو میں بھی جانے لگا۔ یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ وہ پیری مریدی کے تصور کے بھی قائل ہو گئے ہیں اور اپنے ہم خیال طلباء کو مرید کرنے لگے ہیں۔ جس روز راقم شامل ہوا، اپنے درس کے بعد انہوں نے ’’ذکر و فکر‘‘ کی محفل شروع کی۔ اس ذکر میں (آپ بخوبی جانتے ہوں گے) مردانِ حال ’’اللہ ھو‘‘ کا ذکر (دل سے) کرتے ہیں لیکن ’’آواز‘‘ نہیں آتی۔ زور سانس لینے پر ہوتا ہے۔ دل سے ’’اللہ‘‘ کہتے ہیں اور سانس سے ’’ھو‘‘ کہہ کر ختم کرتے ہیں۔ گویا یہ محض ’’سانس‘‘ کا عمل ہے۔ زبان استعمال نہیں کی جاتی لیکن سانس کی آواز نہ نکالنا اس کی خوبی اور ضرورت ہے۔ جب مرید ذکر کرنے لگے تو ان کے سانسوں کی آوازیں ’’بلند‘‘ ہونے لگیں۔ مجھے اچھا نہ لگا۔ اس لئے چپ ہو گیا۔ پروفیسر صاحب سے لڑکوں نے شکایت کر دی کہ سعید بدر ذکر میں حصہ نہیں لے رہا۔ غزنوی صاحب نے مجھ سے وجہ پوچھی تو میں نے کہا کہ یہ لوگ جانوروں (کٹّوں) کی طرح سانس لے رہے ہیں اور آسمان سر پر اُٹھا رکھا ہے تو وہ ہنس پڑے۔ (ماشا اللہ! ہونہار بروا کے چکنے چکنے بات) کہنے لگے کہ اچھا تم کرکے دکھاؤ۔ باامر مجبوری میں نے ذکر شروع کر دیا لیکن آواز کے بغیر کوئی ’’شوں شاں‘‘ نہیں تھی۔ وہ بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے ضرور آیا کرو اور ان بچوں کی مدد کیا کرو۔

میرے خیال میں جس شخص کا زندگی یا موت کے بعد ’’ذکرخیر‘‘ ہوتا ہو، لوگ اگر اس سے کسبِ فیض کریں اور روحانی طور پر جلا پائیں تو وہی ’’ولی اللہ‘‘ ہے۔ اور وہی اللہ کا بندہ ہے:

ہاتھ ہے اللہ کا، بندۂ مومن کا ہاتھ

غالب و کار آفریں، کارکشا، کارساز

آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ اقبال کیا تھے؟۔۔۔طوالت کے لئے بے حد معذرت

آپ کا خادم

سعید بدر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سعید بدر صاحب کا یہ خط موصول ہوا تو میں نے ازراہِ رسید ان کو فون کیا۔ ان کو ثقلِ سماعت کا عارضہ لاحق ہے۔ پھر بھی بآواز بلند فرمانے لگے: ’’میرے خلاف بھی کبھی کچھ لکھ دیا کریں‘‘۔۔۔ گویا فرما رہے تھے: آبیل مجھے مار۔۔۔ فیصلہ قارئین پر ہے کہ اس نامہء دلنواز و دلخراش میں مذہب، سیاست اور شاعری کے علاوہ اور کیا ہے؟

مزید : کالم