حکومت انڈسٹری کی بحالی کے لئے زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں بڑھ رہی

حکومت انڈسٹری کی بحالی کے لئے زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں بڑھ رہی

20جون 2017کو ٹیکسٹائل انڈسٹری نے پاکستان بھر میں حکومتی پالیسیوں کے خلاف یوم سیاہ منایا۔ اس موقع پر مل مالکان، مینجمنٹ اور مزدوروں نے ٹیکسٹائل ملوں کے سامنے احتجاجی مظاہرے کئے، ملوں پر احتجاجی بینرز آویزاں کئے اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کی بدحالی پر حکومتی بے حسی کے خلاف نعرے بازی کی۔

آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن پنجاب کے چیئرمین سید علی احسان نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ عید کے اسلام آباد میں ایک ٹیکسٹائل کنونشن منعقد کیا جائے گا جہاں ٹیکسٹائل انڈسٹری کے تمام سیکٹرز سے متعلقہ ایسوس ایشنز کی لیڈرشپ مسائل کا حل تجویز کرے گی اور پارلیمنٹ ہاؤس تک واک کرکے اسے وہاں جمع کروائے گی۔

اس اعلان نے پاکستانی میڈیا میں ہلچل پیدا کردی اور شام گئے تک ٹی وی چینلوں اور اگلے روز اخبارات میں جلی حروف کے خبریں شائع ہوئیں اور بعض ایک ٹی وی چینلوں نے باقاعدہ پروگرام بھی کئے۔دوسرے لفظوں میں اس احتجاج کی سیاسی اہمیت بھی نمایاں ہو گئی اور ٹی وی اخبارات کی توجہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پانامہ پیپرز پر قائم جے آئی ٹی کی جانب سے شریف فیملی کے اثاثہ جات کی تحقیقات کے دوران ٹیکسٹائل مزدروں کا احتجاج پوری صورت حال کو ایک نیا رخ دے سکتا ہے۔

اپٹما پنجاب کے چیئرمین سید علی احسان کہتے ہیں کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری بے وارا ہو چکی ہے اور آئے روز کی پیداواری لاگت کی وجہ سے لگ بھگ 100ملیں بند ہو چکی ہیں اور پانچ سے چھ ہزار مزدرو بے روزگار ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بجلی کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں ، خاص طور پر بھارت کی جانب سے وہاں کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو سستی بجلی کی فراہمی سے ان کی ٹیکسٹائل مصنوعات پاکستانی ٹیکسٹائل کے مقابلے میں بہت حد تک سستی ہو جاتی ہیں ۔ اسی طرح سے بھارت ، بنگلہ دیش اور چین میں برآمدات کے عوض وہاں کی انڈسٹری کو بہت سی مالی مراعات دی جاتی ہیں جو پاکستانی ٹیکسٹائل کی صنعت کو مقابلے کی دوڑ میں اور پیچھے دھکیل دیتی ہیں۔

اس میں شک نہیں کہ وزیر اعظم پاکستان نے ٹیکسٹائل صنعت کو سنبھالا دینے کے لئے کچھ ٹھوس اقدامات کی کوشش کی ہے لیکن کسی ایک یا دوسری وجہ سے ان اقدامات کے ثمرات انڈسٹری تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔ سید علی احسان کا کہنا ہے کہ وزیرا عظم نواز شریف نے انڈسٹری کے مسائل کو بغور سن کر ان مسائل کے حل کی یقین دہانی کروائی تھی مگر نامعلوم وجوہات کی بنا پر اس یقین دہانی کو عملی جامہ نہ پہنایا جا سکا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بجلی کی قیمتوں کے منفی اثر کو کم کرنے کے لئے وزیر اعظم نے گزشتہ برس 3روپے فی یونٹ بجلی کی قیمت کم کرنے کا اعلان کیا لیکن وزارت خزانہ نے وزارت پانی و بجلی کے ساتھ مل کر اس اعلان کو صحیح معنوں میں نافذ ہی نہ ہونے دیااور بجائے اس کے کہ براہ راست بجلی کے فی یونٹ کی قیمت انڈسٹری کے لئے 3روپے کم کردی جاتی ، بیوروکریسی نے اسے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے سرچارج سے نتھی کردیا جو 3.63روپے کی شکل میں انڈسٹری سے ہر ماہ چارج کیا جاتا ہے۔ نئے فارمولے کے تحت ان دو وزارتوں نے طے کیا کہ اگر فیول کی قیمت 3.63روپے سے کم ہوئی تو کوئی ریلیف نہیں دیا جائے گا اور اگر فیول کی قیمت زیادہ ہوئی تو 3.63روپے سے اوپر کے پیسے انڈسٹری کو دے دیئے جائیں گے ۔ اس اعتبار سے پچھلے ڈیڑھ سال میں انڈسٹری کو محض چند پیسوں کا فائدہ ہوا ہے اور وزیر اعظم کے اعلان کردہ 3روپے فی یونٹ کا یکمشت فائدہ ایک دن بھی نہیں ہوا ہے۔

چیئرمین اپٹما پنجاب نے اسی طرح 180ارب روپے کے حالیہ ٹیکسٹائل پیکج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے جونہی اس پیکج کا اعلان ہوا تو پوری انڈسٹری نے اس کا ویلکم کیا اور امید ظاہر کی اس پیکج سے انڈسٹری کے بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے لیکن پھر وزارت خزانہ نے اس پیکج کو ایکسپورٹ میں اضافے سے نتھی کرکے اس کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ کھڑی کردی اور اس کے باوجود کہ حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ انڈسٹری کے لئے 180ارب روپے کا پیکج دیا گیا ہے ، حقیقت میں اس حوالے سے ریلیز ہونے والی رقم دو چار ارب سے بڑھ کر نہیں ہے اور یوں حکومت انڈسٹری کی بحالی کے لئے زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک ٹیکسٹائل انڈسٹری پرفارم نہیں کرے گی تب تک ملک کا تجارتی خسارہ کم نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری واحد انڈسٹری ہے جو ملک کے لئے قیمتی زر مبادلہ کماتی ہے اور یوں درآمدات کے مقابلے میں برآمدات کے حجم کو برقرار رکھ کر تجارتی خسارے کو کم سے کم سطح پر رکھتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے حاصل ہونے والی ترسیلات زر بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اب ہویہ رہا ہے کہ پاکستان کی ایکسپورٹ گزشتہ دو سالوں سے کم ہوتی جا رہی ہے اور ہمارے کل ایکسپورٹس ساڑھے 14ارب ڈالر سے کم ہو کر ساڑھے12ڈالر ہو گئی ہے اور آگے بھی مزید کمی کا خدشہ ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں۔

سید علی احسان نے ایک اور اہم بات کی جانب سے اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ زراعت کے شعبے کے بعد ٹیکسٹائل انڈسٹری پاکستان کی واحد انڈسٹری ہے جو پاکستان میں روزگار کے مواقع پیدا کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت براہ راست اور بالواسطہ ٹیکسٹائل ورکرز کی تعداد ڈیڑھ کروڑ کے قریب ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ٹیکسٹائل کے شعبے سے بے شمار گھروں کے چولھے وابستہ ہیں، ٹیکسٹائل ورکرز کے بچوں کی تعلیم وابستہ ہے اور ان کے بزرگوں کی صحت کے مسائل کا حل بھی وابستہ ہے ۔ لیکن اگر ماہ رمضان میں اور عید سے چند روز قبل اگر مل مالکان اور مزدور روزے کے ساتھ سڑکوں پر کھڑے احتجاج کر رہے ہوں تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کے حالات کس قدر دگر گوں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اکثر ٹیکسٹائل ملوں کی انتظامیہ اپنے ورکرز کو بروقت تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کر پا رہی ہیں اور اگر کوئی مل تنخواہ دے بھی رہی ہے تو دراصل وہ پچھلے چار ماہ پہلے کی تنخواہ دے رہی ہے جس سے ٹیکسٹائل ورکرز کے گھروں میں غربت نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں اور انہیں اپنا اور اپنے بچوں کا مستقبل مخدوش نظر آرہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں ٹیکسٹائل انڈسٹری مختلف وجوہات کی بنا پر گونا گوں مسائل کا شکار رہی ہے۔ 2007میں بھی ٹیکسٹائل کی وہ ملیں جن کا سارا انحصار واپڈا کی بجلی پر تھا بری طرح مشکلات کا شکار تھیں کیونکہ اس وقت بجلی کی فقید المثال لوڈ شیڈنگ کا آغاز ہو گیا تھا اور ٹیکسٹائل ملیں کئی کئی گھنٹے بجلی کی بندش کے سبب بند رہتی تھیں اور آہستہ آہستہ کباڑ خانے میں تبدیل ہو تی جا رہی تھیں۔ اس زمانے میں سپننگ ملوں کے مالکان نے اکٹھے ہو کر اسلام آباد کا رخ کیا اور پارلیمنٹ کے سامنے کھڑے ہوکر احتجاج کیا تھا اور مشرف حکومت پر واضح کیا تھا کہ اگر ان کو مسائل سے باہر نہ نکالا گیا تو وہ اگلی بار اسلام آباد آکر احتجاج کرنے کے قابل بھی نہیں ہوں گے۔ حکومت نے اس وقت بھی خالی زبانی جمع خرچ سے کام لیا اور بروقت اقدامات کرنے کے بجائے ریلیف دینے میں بلاوجہ تاخیر کی ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ واپڈا پر انحصار کرنے والی ملوں میں لگ بھگ 100کے قریب ملیں قطعی طور پر بند ہو گئیں۔ البتہ وہ ملیں جو بجلی کے ساتھ ساتھ گیس پر اپنے آپریشن چلا رہی تھیں وہ کسی نہ کسی طرح بچاؤ کرپائیں لیکن آج وہ ملیں بھی بحران کا شکار ہیں اور کیا سپننگ ملیں، کیا ویونگ ملیں اور کیا ویلیو ایڈڈ سیکٹر کی ملیں ، ہر جگہ پر تباہی وبربادی ڈیرے ڈالے بیٹھی ہے۔

ٓاپٹما پنجاب کے چیئرمین سید علی احسان کہتے ہیں کہ حکومت ایک اور ظلم یہ کر رہی ہے کہ لگ بھگ 300ارب روپے کے انڈسٹری کے ری فنڈز بھی واپس نہیں کر رہی ہے اور ہر سال اس ضمن میں لیت و لعل سے کام لے کر ٹال دیا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ انڈسٹری کے پاس ملوں کے چلانے کے لئے سرمائے کی قلت پیدا ہو گئی ہے ۔ اب وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کا کہنا ہے کہ جولائی میں کچھ ری فنڈز جاری کردیئے جائیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پورے کے پورے ری فنڈز کی ادائیگی جولائی کے مہینے میں یقینی بنائے تاکہ انڈسٹری کی مالی پریشانیوں کا ازالہ ہو سکے۔

سرخیاں

حکومت جولائی میں ری فنڈز کی ادائیگی یقینی بنائے تاکہ انڈسٹری کی مالی پریشانیوں کا ازالہ ہو

حکومت 300ارب روپے کے انڈسٹری کے ری فنڈز بھی واپس نہیں کر رہی ہے

کیا سپننگ ، کیا ویونگ اور کیا ویلیو ایڈڈ ملیں ہر جگہ بربادی ڈیرے ڈالے بیٹھی ہے

ماہ رمضان اور عید پرمل مالکان اور مزدور احتجاج کر رہے ہوں توانڈسٹری کے حالات اندازہ لگایا جا سکتا ہے

حکومت انڈسٹری کی بحالی کے لئے زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں بڑھ رہی

بھارت ، بنگلہ دیش اور چین میں برآمدات پر بہت مالی مراعات دی جاتی ہیں

عید کے اسلام آباد میں ایک ٹیکسٹائل کنونشن منعقد کیا جائے گا

مزید : ایڈیشن 2