85 کھرب کے غیر ملکی قرضے کون ادا کرے گا؟

85 کھرب کے غیر ملکی قرضے کون ادا کرے گا؟

ہر پاکستانی پر قرض ہے ۔ قرض کی ’مے‘ پینے والو ں کو اپنی ’ فاقہ مستی ‘ کے رنگ لا نے کی امید ہے ..قرض لے کر ہی قرض اتاریں جا ئیں گے تو یہ خوشحالی کیسے آئے گی ..دیو الیہ ہو نے پر قرض کی ادئیگی اور وصولی بند ہو جائے گی ...کب تک ملک کے دگرگوں حالات اور دہشت گردی کا رونا رویا جائے گا ۔ قرض دینے والے عالمی ادارے اب تو ملک میں خود ٹیکس عائد کرنے کی فرمائش کر تے ہیں۔ بزنس پاکستان کو ملنے والی تفصیلات کے مطابق وزارت خزانہ نے سینیٹ میں دئیے گئے تحریری بیان میں بتایا ہے کہ پاکستان کا مجموعی غیر ملکی قرضہ 85 کھرب روپے سے زائد ہے جبکہ مقامی قرضوں کی مد میں 131 ارب روپے ادا کرنے ہیں۔واضح رہے کہ حکومت مالیاتی خسارے میں چل رہی ہے لہذا ملکی قرضہ واپس کرنے کے لیے مقامی مارکیٹ سے نئی شرائط پر دوبارہ قرضہ لیا گیا۔

مالی سال 2013 سے جنوری 2016 کے دوران حکومت نے 10 ارب73 کروڑ ڈالر کا غیر ملکی قرضہ واپس کیا ہے جس میں سے 4 ارب 41 کروڑ روپے عالمی مالیاتی فنڈ کو قرضے کی مد میں چکائے گئے ہیں۔ پاکستان کے ذمے مجموعی واجب الادا بیرونی قرض 53 ارب 40 کروڑ ڈالر ہے۔موجودہ حکومت برسراقتدار آئی تو یہ قرضے 48 ارب دس کروڑ ڈالر تھے۔ موجودہ حکومت کے دور میں بیرونی قرضوں میں پانچ ارب 30 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ گذشتہ پانچ برسوں کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے مجموعی طور پر 72 ارب 86 کروڑ ڈالر وطن بھجوائے ہیں جبکہ سال 2014 ۔2015 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 18 ارب 72 کروڑ ڈالر بھجوائے گئے ہیں۔یاد رہے کہ پاکستان میں قرضوں سے متعلق قانون سازی کے مطابق ملک کا مجموعی قرضہ خام ملکی پیداوار یعنی جی ڈی پی کے 60 فیصد سے تجاوز نہیں کر سکتا ہے۔لیکن اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بیرونی قرضوں کی بوجھ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اگر قرضے لینے کا رجحان ایسے ہی جاری رہا اور کوئی ٹھو س اقدامات نہ کیے گئے تو موجودہ حکومت کی مدت ختم ہونے تک قرضوں کا حجم خام ملکی پیداوار کے 65 فیصد تک پہنچ جائے گا۔

پاکستان جب وجود میں آیا تو معاشی لحاظ سے بہت کمزور تھا۔ ساری معیشت کا انحصار زراعت پر تھا اور زراعت بھی جدید طریقہ سے نہیں کی جاتی تھی جس کی وجہ سے پیداوارا تنی زیادہ نہیں تھی، کہ اسے غیر ملکی منڈیوں میں بیچ کر زرمبادلہ کمایا جا سکے اور اس وقت ایک امریکی ڈالر تین پا کستانی روپے کے برابر تھا،پھر بھی پاکستان کے لوگوں کو جو روکھی سوکھی ملتی اس پر صبر وشکر کرلیتے تھے ان کی خواہشات اتنی زیادہ نہیں تھی۔

جیسے جیسے وقت گزرتا گیا پاکستان کی معیشت ترقی کرتی گئی اور پاکستان کے لوگ کا رجحان صنعتوں کی طرف بڑھتا گیا جس سے پیداور میں اضافہ ہوتا گیا اور پاکستان غیر ملکی زرمبادلہ کمانے لگا، اور اس کے ساتھ ساتھ عوام کی خواہشوں کادائرہ بڑھتا گیا اور وہ دوسرے ملکوں سے چیزیں منگوانے لگے جس سے ادائیگیاں وصولیوں سے بڑھتی گئی اور پاکستانی روپیہ کی قدر ڈالر کے مقابلے میں کم ہوتی گئی لیکن پھر بھی غیر ملکی سرمایہ کاری سے ا ن ادائیگیوں کے تناسب کو کم کر نے میں بہت مد د ملی ،کیونکہ ان کی نظر میں پاکستان جیسا ملک سرمایہ کاری کے لیے بہت اہم تھا،لیکن پاکستان کی سیاسی ہل چل نے غیر ملکی سرمایا کاروں کو بہت مایوس کیا ،جس کی وجہ سے انہوں نے اپنی سرمایہ کاری پاکستان کی بجائے دوسرے ملکوں میں کرنا شروع کر دی۔

جیسے جیسے غیر ملکی سرمایہ پاکستان کی معیشت سے نکلا پاکستانی روپیہ کی قدر ڈالر کے مقابلے میں مزید کم ہوتی چلی گئی۔حکمرانوں کی ناکام پالیسوں اور غلط فیصلوں نے ملک میں سکیورٹی خدشات پیدا کر دیے جس سے ملک میں انرجی کی قلت پڑ گئی ،صنعتوں کا پہیہ جام ہو گیا، ملکی پیداوار کم سے کم ہوتی گئی اور ملکی پیداوار میں کمی کے باعث پاکستان کے سر مایہ کاروں اور ڈیلرزنے اشیاء دوسرے ممالک سے منگوانا شروع کر دی جس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی آگئی اور اس کمی کو پورا کر نے کے لیے غیر ملکی قرضے لیے جانے لگے۔

واضح رہے کہ پاکستان نے ترقی تو بہت کی ، بڑے بڑے شاپنگ مال بن گئے ،موٹر وے بن گئی، بڑے بڑے گھر بن گئے لیکن جب قرضوں کی ادائیگی کا وقت آیا تو مزید قرضے لینے پڑ گئے جس سے پاکستانی روپیہ کی قدر ڈالر کے مقابلے میں کم ہوتی گئی اور نوبت اس بات تک پہنچ گئی ہے کہ ہر پاکستانی قرضے میں ڈوب گیا اور اس قرضے کی ادائیگی بہت مشکل ہوگئی ہے یہاں پر بڑی غور طلب بات یہ ہے کہ وزارت خزانہ نے قرضوں سے متعلق پالیسی رپورٹ جاری کی جس کے مطابق 30 ستمبر 2015 تک پاکستان پر قرضہ 181 کھرب روپے تک جا پہنچاجبکہ گزشتہ مالی سال تک پاکستان پر قرضوں کا بوجھ 1200 ارب روپے بڑھ گیا ہے ۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کے مقامی قرضے 127 کھرب روپے تک جا پہنچے ہیں جبکہ غیر ملکی قرضوں کا بوجھ 51 ارب ڈالر تک پہنچ گیاہے۔ قرضے اب پاکستان کی معیشت کا 60 فی صد سے بھی زیادہ ہیں جو ملکی کی معاشی ترقی میں رکاوٹ کا سبب بن رہے ہیں۔ موجودہ حکومت کے دوران اب تک قرضوں میں پانچ ہزار ارب روپے کا اضافہ ہو چکا ہے، صرف گذشتہ ایک سال کے دوران ایشیائی ترقیاتی بنک اور ورلڈ بنک سے بھی ڈیڑھ ارب ڈالر کے قرضے لیے گئے ہیں۔ مجموعی قرضوں کا حجم ساڑھے انیس ہزار ارب روپے ہے جس میں سات ہزار ارب غیر ملکی جبکہ ساڑھے بارہ ہزار ارب مقامی قرضہ ہے۔

مالی سال2015 میں حکومت نے 3.5 ارب ڈالر کا غیرملکی قرضہ واپس کیا جبکہ اگلے مالی سال کے دوران 4 سے 5 ارب ڈالر کا قرض واپس کرنا ہو گا جو ملک کی معیشت پر بہت بڑا بوجھ ثابت ہوگا۔پاکستان نے گذشتہ برس ستمبر میں 50 کروڑ ڈالرز کے یورو بانڈز تاریخ کی بلند ترین شرح سود 8.25 فیصد پر جاری کیے تھے جبکہ اسی عرصے میں نائیجیریا اور سری لنکا سمیت دیگر ممالک نے 5 سے 6 فیصد کی شرح سود پر یورو بانڈز جاری کیے تھے حکمرانوں نے پاکستان کی آنے والی نسلوں کو بھی قرضے میں جکڑ دیا ہے، آج تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی کے باوجود مہنگائی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ یہاں بڑ ی غور طلب بات یہ بھی ہے کہ جن کاموں کے لیے بھاری مقدار میں قرضہ لیا جارہا ہے ان سے عوام کو بھی فائدہ ہو رہا ہے یا حکمران اسے اپنے مفاد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ملک میں گرم بازاری کا دور شروع ہوگیا ہے۔ غریب غریب تر ہوتا جارہا ہے اور امیر امیر تر جس سے ملک میں بے روز گاری کی شرح میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔آج ہم بات کرتے ہیں پاکستان نے بہت ترقی کی ہے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ آج ایک ڈالر 106 پاکستانی روپے کے برابر ہوگیاہے جو کہ کبھی تین پاکستانی روپے کے برابر تھاہماری عوام کو مصنوعی ترقی تو دیکھا دی جا تی ہے ،لیکن حقیقت اس کے بر عکس ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری حکومت مستقل بنیادوں پر پاکستان کی ترقی کے لیے فیصلے کرے جس سے پاکستان کے ہر شہری کو یکساں فائدہ حاصل ہو۔

گزشتہ حکومت نے 8,136 ارب روپے کا قرض لیا تھا جس کا دستاویزی سراغ لگانا بھی محال ہے تاہم حکومتی اہم نمائندے کا کہنا ہے کہ صرف آخری گزشتہ حکومت کو چھوڑ کر پاکستان کی پچھلی تمام حکومتوں نے مجموعی طور پر کل 6,044 ارب روپے قرض لئے تھے۔جبکہ وزارتِ خزانہ کے مطابق گزشتہ حکومت نے اپنی مدت کے آخری دو برسوں میں 2.057 ارب ڈالر قرض لیا۔ ان میں سے 1.9 ارب ڈالر چین سے لئے گئے جبکہ حکومت نے ایک فیصد جنرل سیلز ٹیکس ( جی ایس ٹی) نافذ کرکے ایک ماہ میں 1.46 ارب روپے کا ریونیو حاصل کیا ہے۔ اقتصادی ترقی کے دعوؤں کے برعکس پاکستان کے ذمہ بیرونی قرضے تہتر ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔ تین سال میں بیرونی قرضوں میں تقریبا بارہ ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق بیرونی قرضے 72 ارب 93 کروڑ ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ 2013 میں بیرونی قرضہ 60 ارب 90 کروڑ ڈالر تھا جس میں تقریبا 12 ارب ڈالر اضافہ ہو چکا ہے۔بیرونی قرضوں میں آئی ایم ایف کے 6 ارب ڈالر اور عالمی بانڈز کے اجراء سے حاصل کردہ ساڑھے چار ارب ڈالر بھی شامل ہیں۔

معاشی حالات کو سمجھنے اور قومی ترقی کے لیے وفاقی حکومت کو دی جانے والی مفید تجاویز دینے والی صنتعکار تنظیموں کے رہنماؤں جن میں پیاف کے چیئر مین عرفان اقبال شیخ ، آل پاکستان بزنس فورم کے صدر ابراہیم قر یشی اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس کے ریجنل چیئر مین منظور الحق ملک کا کہنا ہے کہ ملکی و غیر ملکی قرضے معیشت کی جڑ یں کھو کھلی کر رہے ہیں جس سے انٹر نیشنل مارکیٹ میں پاکستان کا معاشیی گراف نیچے جارہا ہے ۔جس سے سر مایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑ رہی ہے ۔افسو س ہے کہ حکمرانوں نے کبھی ملک کی بہتری پر توجہ ہی نہیں دی یا معاشی پالیسیاں بنانے و منصوبے شروع کر نے کے لیے گراؤنڈ کی سطح پر سمجھ بو جھ رکھنے والے صنعتی حلقوں کے نمائندوں سے مشاورت نہیں کی گئی ۔اور ہچکولے کھاتی معیشت میں کبھی زز مبادلہ کے ذخائر میں کمی اور کبھی توانائی بحران انڈسٹری کا پہیہ روک دیتا ہے ۔درحقیقت ملکی خزانہ پر قرضوں کے بو کھ نے پاکستان کی معاشی حالت کو سمبھلنے ہی نہیں دیا لہدا حکمران پاکستان پر رحم اور محب وطن ہونے کا ثبو ت دیتے ہوئے غیر ملکی قرضوں کا کشکول توڑنے کے لیے آئی ایم ایف اورورلڈ بنک سے جان چھڑائے ۔اقتصادی ماہرین نے پاکستان پر بھاری بھر کم غیر ملکی قر ضے حکمران کے شاہانہ اخراجات پورے کرنے سے مشابہت دی ہے اور اس صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دے رہے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت وقت جو عوام سے کیے گئے وعدے کر چکی ہے ان کو عملی جامہ پہنائے اور عوامی بنیادی مسائل پر ٹھوس حکمت عملی اپناتے ہوئے ملکی سر مایہ کاروں اور انڈسٹری مالکان کو ریلیف سے ہمکنار کر ے جبکہ غیر ملکی سر مایہ کاری کے لیے تھنک ٹینک منصوبہ تشکیل دے اور پاکستانی عوام اور اس ملک پر احسان کرتے ہوئے غیر ملکی قرضوں سے اپنے ہاتھ روکے جبکہ معیشت کو پروان چڑھانے کے لیے اپنے قدرتی وسائل کو بروئے کار لا کر ملک کو تر قی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کر نے میں کلیدی کردار ادا کریں ۔

مزید : ایڈیشن 2