بھاری مقدار میں اجناس کی درآمد سے زرعی شعبہ متاثر ہورہا ہے :پاکستان اکانومی واچ

بھاری مقدار میں اجناس کی درآمد سے زرعی شعبہ متاثر ہورہا ہے :پاکستان اکانومی ...

اسلام آباد (اے پی پی) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود بھاری مقدار میں غذائی اجناس کی درآمد سے زرعی شعبہ کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔ پاکستان سالانہ 200 ارب روپے سے زیادہ کا خوردنی تیل درآمد کر رہا ہے جس سے ادائیگیوں کے توازن پر اثر پڑتا ہے ۔ اس شعبہ کو توجہ دینے سے نہ صرفدوارب ڈالر سے زیادہ کا زرمبادلہ بچے گا بلکہ برآمدات بھی کی جا سکیں گی اور قیمتی زرمبادلہ کما کر قومی معیشت کو مستحکم بنایا جا سکے گا۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغلنے اپنے ایک بیان مین کہا کہ ریسرچ، جدید طریقے اپنانے، مناسب پروسیسنگ اور مارکیٹنگ سے خوردنی تیل کی پیداوار بڑھائی جا سکتی ہے تاکہ پیداوار اور کھپت کے درمیان وسیع فرق کوکم کیا جا سکے۔اس کے لئے کاشتکاروں سمیت تمام شراکت داروں کے لئے مراعات، سرمایہ کاری میں اضافہ اوربہتر قیمت کے ذریعے فصلوں کو منافع بخش بنانے کی ضرورت ہے۔انھوں نے کہا کہ حکومت محاصل کے نظام میں لچک پیدا کر کے بین الاقوامی مارکیٹوں میں قیمت کے اتار چڑھاؤ کے منفی اثرات سے عوام کو تحفظ فراہم کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملکی ضروریات کا صرف25 فیصد خوردنی تیل مقامی ذرائع سے حاصل کیا جا رہا ہے۔خوراک سے ایندھن بنانے کی ناقص پالیسی بھی گزشتہ ایک دہائی سے عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافہ کا سبب ہے جس پر فوری نظر ثانی کی ضرورت ہے۔زراعت ہماری معیشت کا سب سے بڑا شعبہ ہے جس کا جی ڈی پی میں حصہ 22 فیصد ہے جو کہ ملک کی نصف افرادی قوت کو روزگار فراہم کر رہا ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ورنہ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ درآمدات بھی بڑھیں گی اور زرمبادلہ کا زیاں بڑھتا چلا جائے گا۔

مزید : کامرس