تے فیر آن دے......

تے فیر آن دے......
 تے فیر آن دے......

  

ریمنڈ ڈیوس تجھے موت آئے، منحوس ہماری خوشیوں کے دشمن، اگر تو چلا ہی گیا تو پھر کتاب لکھنے کی کیا ضرورت تھی۔ ایک تو کریلا اوپر سے نیم چڑھا۔ سمجھ نہیں آرہی کہ وہ ہماری من حیث القوم بے بسی کا مذاق اڑا رہا ہے یا بار بار احساس دلا رہا ہے کہ ہم کتنے پانی میں ہیں۔ بھیا ہم نے کب تیری اتھارٹی کو چیلنج کیا جو تو بار بار ........ آہو

تو نے یہ کیا غضب کیا، مجھ کو بھی فاش کر دیا

میں ہی تو ایک راز تھا سینہ کائنات میں

جا تیرا ککھ نہ رہوے، کچھ اوہلے اوہلے ہی رہیں تو ٹھیک ہوتا ہے لیکن میرے پاکستانیو ریمنڈ ڈیوس کی کتاب پر ہو ہائے کرنے والو، کیا تمہیں معلوم ہے امریکہ جن ٹاپ پانچ ممالک کو خیرات امداد کے نام پر دیتا ہے، ان میں ہم سرفہرست ہیں۔ تو بھیا اس میں اتنی اچنبھے والی کیا بات ہے، کمیوں کو اتنی غیرت مندی پوز نہیں کرنا چاہئے۔ ویسے گلاں وچوں گل نکل آؤندی اے جب ایک امریکی سینئر اہلکار نے یہ کہا تھا کہ پاکستانی دولت کے لئے اپنی ماں بھی بیچ دیتے ہیں، تو پوری قوم کے پیٹ میں بڑے کڑل پڑے تھے، لیکن یہ تو بتاؤ ریمنڈ ڈیوس کو جب ہم عزت سے بھیجتے ہیں اور بھیگی آنکھوں سے عافیہ صدیقی کے ظلم پڑھتے ہیں تو ہمیں بات کیوں نہیں سمجھ آتی۔ ہم بطور قوم ٹیرے نہیں انھے ہیں۔ کسی نے پوچھا حافظ جی حلوہ کھائیں گے تو وہ بولے حافظ کس لئے بنے ہیں۔ بھیا ہم ایویں انھے نئیں ہوئے۔ 1954ء میں جب ہم نے پہلی امریکی امداد لی تھی تو اسی دن ہماری آنکھوں میں ککرے پڑگئے تھے۔ کہتے ہیں امریکیوں نے قائد ملت لیاقت علی خان سے کہا کہ آپ ایران پر زور ڈالیں کہ تیل کے ٹھیکے امریکہ کو دے۔ شہید ملت نے ببانگ دہل انکار کر دیا۔ نتیجہ سید اکبر کی گولی کی شکل میں نکلا۔ جب تفتیشی افسر کسی نتیجے پر پہنچا تو اس کا طیارہ عین ضیاء الحق کی طرح اور بقول اسحاق خان ہوا میں ’’پٹ‘‘ گیا۔ ہماری آج کی قیادت بہت ذہین اور دور تک نظر رکھنے والی ہے۔ انہیں پتہ ہے کہ جو بچے کہنا نہیں مانتے انکل ان کے کن کے تھلے ایک کرا دیتے ہیں۔

عمران خان ٹھیک کہتے ہیں ریمنڈ ڈیوس کی کتاب ایک قاتل کی رہائی کی شرمناک داستان ہے۔ میرا خیال ہے اس سے زیادہ ان کا کہنا بنتا نہیں۔ ویسے آپس کی بات ہے جو قوموں کی عزت و غیرت قرضوں، مراعاتوں اور دھمکیوں سے خوفزدہ ہوکر گروی رکھ دیں ان کے پاس اور رہ کیا جاتا ہے۔ یہ اوپر والوں کی چھوڑو اگر آج ایک امریکن جہاز عین سمندر میں کھڑا ہوکر اعلان کرے کہ ’’بالو کڑیو ونڈی دے ویزے لئی جاؤ‘‘ تو یقین کریں سمندر کا پانی پاکستانیوں کے قدموں کی خاک سے دلدل بن جائے۔

چوری کے مقدمے میں سزا کے بعد چور نے لمبا سا ہوکا بھرا اور بولا کاش میں نے اپنی ماں کی بات سنی ہوتی۔ جج صاحب بولے کیا کہا تھا تمہاری ماں نے؟ چور بولا جناب دسیا تے اے میں نئیں سنیا اس نے کی آکھیا سی (جناب بتایا تو ہے کہ میں نہیں سن سکا کہ اس نے کیا کہا تھا) ہم نے شجاعت، صداقت کا سبق نہیں پڑھا اور اب اس لئے امامت کے بھی حقدار نہیں۔

یہ تھرڈ ورلڈ ہے یہاں بائی ڈیزائن ہر شعبہ میں بونے بھرتی کئے ہیں، سیاست کے ان بونوں نے امریکی انگلیوں پر خوب رقص کیا۔ بات صرف سیاست کی ہوتی تو چلو رو لیتے، امریکہ نے تھرڈ ورلڈ کے قرضدار ممالک میں کسی ایک شعبے کو نہیں چھوڑا، ٹریننگ کورسز دوروں اور مراعات اور بعد از ملازمت بہترین مستقبل کے مواقع کے ذریعے سب کو اپنا مطیع بنایا اور پھر ان سب تنخواہ خواروں نے قوم کے ساتھ وہ باندر کلا کھیلا کہ آج پوری قوم کلے کے گرد جوتیاں بچاتی پھر رہی ہے۔

ملاحظہ فرمائیں جب پوری قوم شدید گرمی میں پاپ کارن کی طرح پھڑ پھڑ اچھل رہی ہوتی ہے۔ قوم کے خدمت گزار لندن میں عید گزارنے پہنچے ہوتے ہیں۔ آبھی جائیں تو کوئی مری کی گلیات میں مرزے یار کی طرح پھرتا ہے تو کوئی نتھیا گلی میں اور پوری قوم ان عظیم عالی مرتبت راہنماؤں کی یاد میں عشق نچاوے گلی گلی گاتی پھر رہی ہوتی ہے۔ قومی سانحات پر ہمارے دل پر تو کیا گزرتی ہوگی جو ان کے دل پر مجبوراً لندن واپسی اور نتھیا گلی سے گندی گلی کے سفر کے دوران گزرتی ہوگی۔ ایک مولوی صاحب خطبہ دے رہے تھے کہ روزے میں جتنی زیادہ گرمی لگے اتنا ثواب ہوتا ہے۔ خان بھائی اٹھے اور انہوں نے مولوی صاحب کے اوپر چلتا پنکھا بند کر دیا۔ اب ہم کیا کریں جتنا ہمیں ثواب کی فکر ہے کسی قوم کو نہیں۔ بس ہمارا ثواب ٹینکر سے بہتے پٹرول، پیپسی کے اُلٹے ٹرک کو دیکھ کر تھاں مر جاتا ہے۔ بس سمجھ لیں۔ حزیں قادری کے مشہور عالم گانے’’ جدوں ہولی جئی لینا میرا ناں، میں تھاں مر جانی آں‘‘۔ بس ہم بھی وہیں آن سپاٹ فوت ہو جاتے ہیں۔ میری باتیں مسکراہٹ کے لئے نہیں ہوتیں، ان مسکراہٹوں میں چھپے درد کو آپ ضرور محسوس کرتے ہونگے۔ مرنا تو ہم نے ہے۔ پٹرول میں جل کر مریں، کچی کمزور چیئر لفٹ کے گرنے سے مریں۔ چاروں طرف صرف آہیں سسکیاں رہ گئیں، ہمارے کاندھے صرف جنازے اٹھانے کے لئے رہ گئے، بھولے سے ورلڈ کپ کی خوشی ملے بھی تو وہ آنے والے حادثے کی سسکیوں میں دب کر رہ جاتی ہے۔ کہیں نہ کہیں بطور قوم ہم نے کچھ ایسا ضرور کیا ہے کہ رحمت ہم سے روٹھتی جا رہی ہے، جب ہم بطور قوم دو نمبری کو اپنی زندگی کا شعار اور دھوکہ فریب، جعلسازی، ملاوٹ، رشوت کو اپنا لائف سٹائل بنا لیں گے تو پھر یہی ہوگا جو ہو رہا ہے۔

سوری! قلم کچھ زیادہ رنجیدہ بلکہ سنجیدہ ہوگیا ہے۔ کسی نے سردار جی سے پوچھا یہ پنگا کیا ہوتا ہے، وہ بولے کیا ہوتا ہے یہ تو پتہ نہیں لیکن بندہ زندگی میں لیتا ضرور ہے۔ پنگا ہمارا قومی کھیل ہے، اگر اس کا ٹورنامنٹ ہو تو ہم براہ راست فائنل کے لئے کوالیفائی کریں۔ مجھے اعتراض جمشید دستی پر ہے۔ بھیا جب پنگا لیا ہے تو روتے کیوں ہو۔ آپ ہمارے ہیرو ہو، سپر مین ہو، رابن ہڈ ہو بلکہ سلطانہ ڈاکو ہو جو لوٹ کر غریبوں میں تقسیم کرتا تھا۔ کہتے ہیں مشہور عالم جگا ڈاکو اپنے صحن میں لیٹا تھا، اس کی بیوی نے چھت سے دیکھا جگے کے دشمن بھاگے آرہے ہیں، اس نے چیخ کر کہا جگیا تیرے دشمن آرہے ہیں، جگے نے چارپائی پر لیٹے لیٹے کہا، ویکھیں انہاں دے نال رب تے نئیں (دیکھو ان کے ساتھ رب تو نہیں) وہ بولی نئیں تو جگے نے اعتماد سے کہا کہ فیر آن دے (پھر آنے دے) جمشید دستی صاحب آپ کے دشمنوں کے ساتھ رب نہیں ہے۔ رب آپ کے ساتھ ہے، رب ہمیشہ سچوں، مسکینوں، عاجزوں اور غریبوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ خدارا میڈیا کے لئے بھی آنسو نہ نکالو، تمہاری بہادری اور استقامت پر تو پوری قوم اشکبار ہے۔

مزید : کالم