شالیمار ، 9سالہ ایمان کے قتل میں اس کا 11سالہ بھائی مجرم قرار ،پولیس کی سوتیلی ماں اور باپ سے سازباز ، تفتیش میں بے گناہ

شالیمار ، 9سالہ ایمان کے قتل میں اس کا 11سالہ بھائی مجرم قرار ،پولیس کی سوتیلی ...

لاہور (خبر نگار) شالیمار کے علاقہ میں 9سالہ ایمان کے قتل میں گرفتار سوتیلی ماں صبا اوروالدتنویر سے پولیس کی مبینہ سازباز پولیس نے 9سالہ ایمان کی ہلاکت کا ملبہ اکلوتے بڑے بھائی 11سالہ عبدالرحمن پر ڈال دیا۔ جس میں پولیس نے کہانی گھڑی ہے کہ11 سالہ عبدالرحمان نے چھوٹی بہن 9 سالہ ایمان کو پڑھائی میں لائق ہونے پرحسد کی بنا پر پھندا دیکر موت کے گھاٹ اتارا، اور عبدالرحمن کے ہاتھوں9سالہ ایمان کو قتل کرنے کا باقاعدہ اقبال جرم بھی کروادیا۔ مقدمہ مدعیہ مقتولہ کی دادی تھانہ میں غم سے بے ہوش ہو گئی،بات کھلنے پر پولیس کو اپنی نوکریوں کے لالے پڑگئے۔ بتایا گیا ہے کہ عمر پارک شیلر چوک میں موت کے گھاٹ اتاری جانے والی 9سالہ ایمان پانچویں جماعت کی طالبہ اور اپنے اکلوتے بڑے بھائی عبدالرحمن کے ساتھ بے حد پیار کرتی تھی۔ 9سالہ ایمان اور عبدالرحمن کے والد تنویر عمر نے 8سال قبل دوسری شادی صبا نامی خاتون سے کرلی گھر چھوڑ کر مسکین پورہ تاج پورہ چلا گیا۔ جبکہ ایمان اور عبدالرحمن کی والدہ کرن بی بی نے بھی اپنے کم سن بچوں کو اپنانے سے انکار کر دیا اور7برس قبل دوسری شادی رچالی، دونوں کم سن بہن بھائی اپنی دادی ثریا بی بی کے پاس رہنے لگے۔ 9سالہ ایمان کے قتل کی اندرونی کہانی جاننے پر معلوم ہوا کہ پولیس نے پہلے مقتولہ کی سوتیلی ماں صبا کو قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا،پھر ایک نامعلوم شخص کے ہاتھوں ایمان کے ساتھ بداخلاقی کے بعد قتل قرار دیا۔ کم سن ایمان کی دادی ثریا بی بی نے ’’پاکستان‘‘ کو بتایا کہ عبدالرحمن کی عمر 11سال اور ساتویں کلاس کا طالب علم ہے وہ اکیلا چھوٹی بہن کو موت کے گھاٹ نہیں اتار سکتا ۔ عمر رسیدہ ثریا بی بی نے الزام لگاتے ہوئے بتایا کہ اس کی 9سالہ پوتی ایمان کے قتل میں بچوں کی سوتیلی والدہ صبا ملوث ہے وہ مکان ہتھیانے کے لیے آئے روز غنڈوں کو بھیجتی تھی جبکہ بچوں کا والدہ تنویر عمر بھی صبا کے ساتھ ملوث ہے ۔ 9سالہ ایمان کی دادی ثریا بی بی نے الزام لگایا کہ پولیس نے صبا اور تنویر سے سازباز کرلی اور پوتی کے قتل کا ملبہ اُس کے بھائی عبدالرحمن کے سر ڈال دیا جو کہ ابھی بچہ ہے لیکن پولیس نے باقاعدہ اس سے اقبال جرم بھی کروا لیاہے۔ ایمان کی پھوپھو حفیظاں بی بی اور چچا ساجد نے بتایا کہ 11سالہ عبدالرحمن اکیلا 9سالہ ایمان کو پھانسی نہیں دے سکتا ہے۔ یہ پولیس کی اپنی تیار کی گئی ایک کہانی ہے۔ جبکہ 9سالہ ایمان کی دادی ثریا بی بی نے مزید بتایا کہ صبا کی مکان ہتھیانے کی دھمکیوں نے اس کی پوتی کی جان لی ہے۔ عمر رسیدہ ہوں۔ واحد عبدالرحمن کی پرورش اس لیے کررہی تھی کہ بڑا ہوکر آسرا بنے گا۔ لیکن ظالموں نے اس کی پوتی کو قتل کردیا اور پوتے کو ملزم بنا دیا اور خود قتل سے بے گناہ ہوگئے ہیں۔ جبکہ اس حوالہ سے تفتیشی افسر ملک عاشق نے بتایا کہ سوتیلی ماں صبا نے ایمان کو قتل نہیں کیا بلکہ دونوں بچوں کے معمولی جھگڑے پر 11 سالہ بھائی عبدالرحمن نے اپنی بہن ایمان کو پھندا دے کر موت کے گھاٹ اتارا جس کا اس نے گذشتہ روز باقاعدہ اقبال جرم بھی کرلیا ہے۔ جبکہ ایس پی انویسٹی گیشن سول لائن حسنین حیدر نے بتایا کہ 9سالہ ایمان کی سوتیلی والدہ صبا والدہ تنویر بڑا بھائی عبدالرحمن اور ایک سوتیلا چچا سمیت چار افراد سے تفتیش جاری ہے۔ فی الحال ابتک کی تفتیش میں بات عبدالرحمن کی جانب ہی جارہی ہے۔ تاہم تفتیش جاری ہے۔ اگلے 24گھنٹوں تک اصل صورتحال سامنے آجائے گی۔ اور تفتیش مکمل ہونے سے پہلے کوئی بھی بات کہنا قبل ازوقت ہے۔

مزید : علاقائی