ایران میں بیمہ کمپنیوں سے پیسے بٹورنے کے لیے خودایذادہی کا انکشاف

ایران میں بیمہ کمپنیوں سے پیسے بٹورنے کے لیے خودایذادہی کا انکشاف

تہران(این این آئی)ایران میں انشورنس کمپنیوں سے پیسے بٹورنے کے لیے شہریوں میں خود ایذا دہی کا رجحان پھیلنے کا انکشاف ہوا ہے ،اس کے تحت دانستہ طور پر یا گاڑی کے کسی مصنوعی حادثے میں ہاتھ یا ٹانگ کی ہڈی کو تْڑوا کر بیمہ انتظامیہ سے زرِ تلافی کی رقم حاصل کی جاتی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق یہ منظرنامہ ایران میں غربت اور بالخصوص جامعات سے فارغ التحصیل نوجوانوں میں بے روزگاری میں اضافے کے بعد دیکھنے میں آ رہا ہے۔ایرانی تنظیم برائے طبِّ شرعی کے سربراہ احمد شجاعی نے بتایا کہ اس سلسلے میں اعداد وشمار میں گزشتہ سال کی نسبت اضافہ ہوا ہے۔ خود ایذا دہی کا رجحان پورے ملک میں پھیل گیا ہے۔ شجاحی کے مطابق ان کے پاس موجود اعداد و شمار صرف اْن مصنوعی حادثات پر مبنی ہیں جن کا انکشاف ہو سکا لہذا حقیقی اعداد و شمار اعلان کردہ تعداد سے کہیں زیادہ ہوں گے۔ ایرانی تنظیم کے سربراہ نے بتایا کہ زرِ تلافی حاصل کرنے کے واسطے خود ایذا دہی کے مرتکب افراد میں اکثریت مردوں کی ہے۔گزشتہ چند ماہ کے دوران ایران کے دارالحکومت تہران اور دیگر شہروں میں آتش زدگی کے حادثات کا اعلان کیا گیا جن میں شیراز اور اہواز شامل ہیں۔ اس حوالے سے رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ ان حادثات میں اکثر دانستہ طور پر واقع ہوئے تھے۔

مزید : علاقائی