بھارتی حکمرانوں کا ’’چین فوبیا‘‘ خود بھارتی مفادات کیلئے نقصان دہ ثابت ہوگا: تجزیاتی رپورٹ

بھارتی حکمرانوں کا ’’چین فوبیا‘‘ خود بھارتی مفادات کیلئے نقصان دہ ثابت ...

بیجنگ(آئی این پی )ابھرتے ہوئے چین کے بارے میں خدشات کسی حد تک بعض بھارتی سیاستدانوں میں اس ملک کے بارے میں ’’سٹرٹیجک پریشانی ‘‘ کی قسم تک پھیل گئے ہیں تا ہم ان کا گمراہ کن ، بے بنیاد ’’ چین فوبیا ‘‘ سٹرٹیجک کوتاہ بینی کا شکار ہو سکتا ہے اور اس سے خود بھارت کے اپنے مفادات کو زد پہنچے گی،چینی عزائم کے بارے میں خدشات اور شکوک پیدا کر کے بھارت میں چین کے تجویز کردہ بیلٹ و روڈ منصوبے سے خود کو دور رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کی اہم وجہ خود مختاری کے خدشات قراردیا ہے ، بھارت کی طرف سے پیش کی جانیوالی وجہ قابل قبول ہو سکتی ہے تا ہم اس منصوبے سے دوررہنا بھارت کی طرف سے کئے جانیوالا بہترین انتخاب نہیں ہے ، وہ سرکاری بیانات یا عوامی مواقعوں پر اپنی تشویش یا آرا کا اظہار کر سکتا تھا کیونکہ چین باہمی مفاد کی بنیاد پر بھارت کے ساتھ تمام مسائل اور امکانات پر غور و خوض کرنے پر ہمیشہ آمادہ رہا ہے، درحقیقت جیسا کہ چینی حکام نے کئی مواقعوں پر زور دیا ہے کہ اس منصوبے کا جس کا مقصد اقتصادی تعاون اور رابطے کو فروغ دینا ہے خود مختاری کے مسائل پر کوئی اثرات یا تعلق نہیں ہے اگرچہ یہ منصوبہ چین نے تجویز کیا ہے بیلٹ و روڈ کوئی ’’چینی منصوبہ ‘‘ نہیں ہے ، یہ ایک کثیر الجہتی منصوبہ ہے اور اس کا بنیادی مقصد مساوی نتائج ہیں ، جیسا کہ کئی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی ہے کہ بیلٹ و روڈ بھارت اور چین کے درمیان جو کہ اقتصادی لحاظ سے لازم و ملزوم ہیں ، مساوی تعاون کیلئے تاریخی موقع فراہم کرتا ہے ، اس موقع سے نہ صرف دونوں ممالک کو سیاسی اعتماد قائم کرنے اور اپنی اقتصادی پیداوار کو فروغ دینے میں مددملے گی بلکہ اس سے دنیا بھر میں عدم استحکام کے خطرات میں بھی کمی ہو گی، بھارت اپنی جغرافیائی مقام اور اپنی معیشت کے سائز کی وجہ سے ایشیاء کو یورپ ،مشرق وسطیٰ اور افریقہ سے ملانے والے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے ذریعے تجارت کو فروغ دینے کیلئے اس منصوبے سے چینی سرمایہ کاری کا سب سے بڑا وصول کنندہ کی صلاحیت کا حامل ہو سکتا ہے ، اپنے دماغ میں خود مختاری کے خدشات کو سموتے ہوئے بھارتی حکومت کو چاہئے کہ وہ نظریہ کلیت کے پس منظر پر بھی نظر رکھنی چاہئے اور بڑی تصویر دیکھنی چاہئے ، اس منصوبے سے طویل المیعاد طورپر بھارت سمیت جنوب ایشیائی ممالک کو فائدہ پہنچے گا اور بھارت کے خود اپنے اہم اور طویل المیعاد قومی مفاد میں ہے اور وہ اس منصوبے میں شامل ہو اور اس کا اہم کھلاڑی بن جائے ، اپنی دفاعی بے آرامی کے باوجود بھارت کے لئے یہ اہم ہے کہ وہ اپنی ’’ چینی پریشانی ‘‘ پر قابو پائے اور منصوبے کا محتاط جائزہ لے ، اس کے معتدبہ فوائد کو تسلیم کرے اور مواقعوں سے استفادہ کرے ، متحارب ممالک ہونے کی بجائے دونوں ممالک جن کی مالا مال تاریخ کے ساتھ لبریز قدیم تہذیبیں ہیں کوآپریٹو پارٹنر بن سکتے ہیں ، جیسا کہ بھارت میں چینی سفارتخانے کے ڈپٹی چیف آف مشن لایو جن سونگ نے اپریل میں کہا ہے کہ ایشیاء کے سمندر اور آسمان اژدھا اور ہاتھی ( چین اور بھارت ) کیلئے اکٹھا ڈانس کرنے کیلئے کافی بڑا ہے جس سے حقیقی ایشیائی ایج کا دور پلٹ سکتا ہے ۔

مزید : علاقائی