بھارتی دفتر خارجہ کا بیان مسترد ، کلبھوشن حاضر سروس افسر ، رسائی نہیں دے سکتے : پاکستان

بھارتی دفتر خارجہ کا بیان مسترد ، کلبھوشن حاضر سروس افسر ، رسائی نہیں دے ...

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈ یسک228نیوز ایجنسیاں) پاکستان نے کلبھوشن یادیو کو ایک بار پھر قونصلر رسائی دینے سے انکار کرتے ہوئے عام قیدی شمار کرنے سے متعلق بھارتی بیان مسترد کر دیا اوکہاہے کہ جاسوس کو عام اور سول قیدی تصور نہیں کیا جاسکتا،کلبھوشن یادیو حاضر سروس افسر ہے۔ اس کو’’ را‘‘ نے نام بدل کر دہشت گردی اور امن مخالف سرگرمیوں کے لئے پاکستان بھیجا تھا جس کا وہ خود بھی اعتراف کر چکا ہے ،انسانی ہمدردی کے معاملات سیاسی حالات کے باعث یرغمال نہیں بنائے جاسکتے،پاکستان نے ہمیشہ بھارت کے ساتھ قونصلر رسائی معاہدے پر موثر عملدرآمد یقینی بنایاہے ۔ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا کے بیان میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سے متعلق بھارتی وزارت خارجہ کا بیان مسترد کیا گیا ۔ترجمان نے کہا ہے کہ کلبھوشن کو عام قیدی سمجھنا حقائق کو جھٹلانے کی بھارتی کوشش ہے۔ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ پاکستان قونصلر رسائی کے معاہدے پراس کی روح کے مطابق عمل کررہا ہے۔ کلبھوشن کی سرگرمیوں سے پاکستانی شہریوں کی جانوں اورمال کو نقصان پہنچا۔ یادیو کے معاملے کو ماہی گیروں اور دوسرے قیدیوں کے ساتھ جوڑنا خلاف منطق ہے کلبھوشن یادیو بھارتی بحریہ کا حاضر سروس افسر اوررا کا ایجنٹ ہے۔ پاکستان بھارت کے ساتھ قونصلر رسائی کے حوالے سے 2008 کے معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے پرعزم ہے۔ سزا کی مدت پوری کرنے والے پانچ بھارتی باشندوں کو گزشتہ ماہ واپس بھیجا گیا ہے۔اس کے برعکس بھارت میں اپنی سزاؤں کی مدت پوری کرنے والے 20 پاکستانی باشندے تاحال واپسی کے منتظر ہیں 107 پاکستانی ماہی گیروں اور25 دیگر پاکستانی باشندوں تک قونصلر رسائی کا معاملہ زیر التوا ہے۔ بھارتی عدالت کے حکم کے باوجود غلطی سے سرحد پار کرنے والے کمسن علی رضا اور بابر علی کی رہائی میں سال کی تاخیر کی گئی۔ پاکستانی مریضوں کے لئے میڈیکل ویزے پر شرائط لاگو کئے جانے سے بھارت کے انسانی ہمدردی کے دعوے حقیقت کے منافی نظر آتے ہیں۔ یکم جولائی کو دونوں ممالک کی جیلوں میں بند قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کیا گیا تھا۔ پاکستان نے قونصلر رسائی کے دوطرفہ معاہدے پر ان کی روح کے مطابق عملدرآمد کیا ہے او ر توقع کرتا ہے کہ بھارت بھی مخاصمانہ طرزعمل کے بجائے اسی جذبے کا مظاہرہ کرے گا۔ خیال رہے کہ پاکستانی دفتر خارجہ کا یہ بیان بھارت کی وزارت خارجہ کے اس بیان کا رد عمل ہے جس میں کہا گیا تھا کہ بھارت نے کلبھوشن یادیو تک کونسلر رسائی کے مطالبات کی تجدید کرتے ہوئے دونوں ممالک کی جیلوں میں قید ایک دوسرے کے شہریوں کی رہائی کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون کی خواہش کا اظہار کیا کیا۔بھارت نے پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ پاکستانی جیلوں میں قید ایسے بھارتی شہریوں مچھیروں اور لاپتہ ہونے والے فوجی اہلکاروں کی رہائی اور ان کی واپسی کو یقینی بنائے جن کی بھارت کی جانب سے شہریت کی تصدیق کی جاچکی ہے۔

دفتر خارجہ

مزید : صفحہ اول