بڑے لیڈر کا مقابلہ بڑے لیڈر سے ہوتا ہے بونے سے نہیں،سعد رفیق

بڑے لیڈر کا مقابلہ بڑے لیڈر سے ہوتا ہے بونے سے نہیں،سعد رفیق
 بڑے لیڈر کا مقابلہ بڑے لیڈر سے ہوتا ہے بونے سے نہیں،سعد رفیق

  

لاہور(آئی این پی)وزیرریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ بڑے لیڈر کا مقابلہ بڑے لیڈر سے ہوتا ہے بونے سے نہیں کوئی مقابلہ نہیں ہوتا۔ جب ہم ملک ٹھیک کرنے کی کوشش کرتے ہیں ہماری ٹانگیں کھینچی جاتی ہیں،ہمارے راستے پرسپیڈ بریکر لگائے جاتے ہیں،پانامہ پیپرز کی کوئی قانون حیثیت نہیں پناما کا مقدمہ کرپشن کا مقدمہ نہیں ہے پاکستان کے علاوہ کسی ملک نے پنامہ پیپرز کو سنجیدہ نہیں لیابھیک نا مانگتے تو کوئی ریمنڈڈیوس کو مانگنے کی جرات نہیں کرتا ،زرداری اور پاشا پر تنقید نہ کریں غیروں سے بھیک مانگنے والوں پر انگلی اُٹھائیں بھکاریوں کے بازو مروڑے جاتے ہیں،مشرف کا مارشل لاء عالمی سازش تھی،نواز شریف کو ایٹمی دھماکوں کی سزا ملی، سیاسی جماعتوں کے سرقلم کرنے سے معاملات بگڑتے ہیں بغیر ثبوت کے الزامات بند کرنے ہوں گے ، سی پیک پورا ہوگیا تو دنیا پھر پاکستان کو پکڑ نہیں سکے گا جے آئی ٹی ریاستی اداروں پر الزام لگاتی ہیں جے آئی ٹی کے لیے واٹس ایپ کال کیوں کی جاتی ہے جے آئی ٹی کو فون ٹیپ کرنے کی اجازت کون دیتا ہے۔حسین نواز کی تصویر لیک کون کرتاہے بتایا نہیں جاتااب جے آئی ٹی نے بیٹیوں کو بلانا شروع کردیاہے گزارش کرتا ہوں پاپولرفیصلے کسی کو نہیں کرنے چاہئیں ،عدالتیں کریں یا حکومتیں پاپولر فیصلہ کسی کو نہیں کرنا چاہیے حقیقت چند سال بعد پتہ چلتی ہے ہمیں پاپولر فیصلے نہیں کرنے چاہئیں۔ اتور کو تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ گزشتہ روز کی گفتگو میرے خیالات اور جذبات تھے۔ سیاسی کارکنوں کی ذمہ داری ہے جو وہ محسوس کریں اس کا اظہار کریں۔ ہمیں کسی کو چیلنچ کرنا ہے نہ کسی کو گالی دینی ہے۔انھوں نے کہا کہ الیکشن سے پہلے ہمیں تعصب اور نفرت کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔میثاق جمہوریت کے بعد نفرت اور تعصب کا باب بند ہوچکا تھا۔میثاق جمہوریت پاکستانی تاریخ کی اہم ترین دستاویز ہے۔ہم نے ایک دوسرے کو گندا نہ کرنے عزم کیا تھا۔نفرت سے بھرے ہوئے لوگوں کو میثاق جمہوریت پسندنہیں آیا ۔یہی چہرے یہی مہرے یہی کٹھ پتلیاں میثاق جمہورت کو نشانہ بنارہے تھے۔ میثاق جمہوریت کی منزل برسوں کے جھگڑوں کے بعد حاصل کی تھی۔ سعد رفیق نے کہا کہ ہمیں ووٹ کی طاقت سے منتخب کیا گیا۔ اس سفر کو ریورس گیئر نہیں لگنے دینا۔ کوئی کچھ بھی کہے ہم اپنی بات کرتے رہیں گے۔ ہمیں بولنے سے روکا نہیں جاسکتا۔میثاق جمہوریت میں لکھا تھا کہ ملکی اداروں کو آئین کے تابع چلنا ہوگا۔مشرف کا مارشل لاء عالمی سازش تھی ۔نواز شریف کو ایٹمی دھماکوں کی سزا ملی ۔سیاسی جماعتوں کے سرقلم کرنے سے معاملات بگڑتے ہیں۔ پیپلزپارٹی ،(ن)لیگ کو مارشل لا کا نشانہ بنایا گیا۔انھوں نے کہا بغیر ثبوت کے الزامات بند کرنے ہوں گے۔ پناما کا مقدمہ کرپشن کا مقدمہ نہیں ہے۔دیئے گئے کاغذات میں پکوڑے بیچے جاتے ہیں۔ اب جے آئی ٹی نے بیٹیوں کو بلانا شروع کردیاہے۔ جے آئی ٹی ریاستی اداروں پر الزام لگاتی ہیں۔ جے آئی ٹی کے لیے واٹس ایپ کال کیوں کی جاتی ہے۔ جے آئی ٹی کو فون ٹیپ کرنے کی اجازت کون دیتا ہے۔حسین نواز کی تصویر لیک کون کرتاہے بتایا نہیں جاتا۔سعد رفیق نے کہا کہ گزارش کرتا ہوں پاپولرفیصلے کسی کو نہیں کرنے چاہیں۔عدالتیں کریں یا حکومتیں پاپولر فیصلہ کسی کو نہیں کرنا چاہیے۔ آرمی چیف کے ڈان لیکس رپورٹ پر فیصلہ آپ نے خود دیکھا۔افتخاری چودھری بھی پاپولر فیصلے کرتے تھے۔آج افتخار محمد چودھری صاحب کہاں ہیں۔ کسی کو معلوم نہیں۔حقیقت چند سال بعد پتہ چلتی ہے ہمیں پاپولر فیصلے نہیں کرنے چاہیں۔

سعد رفیق

مزید : صفحہ اول