اٹلی کی تارکین وطن کے بڑھتے مسئلے پر اپنی بندرگاہیں بند کرنے کی دھمکی

اٹلی کی تارکین وطن کے بڑھتے مسئلے پر اپنی بندرگاہیں بند کرنے کی دھمکی

نیویاریک/روم(این این آئی)اٹلی نے تارکین وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد پر اپنی بندرگاہوں کو بند کرنے اور امدادی تنظیموں کی کشتیوں کو ضبط کرنے کی دھمکی دی ہے۔اٹلی نے خبردار کیا ہے کہ تارکین وطن کی بہت زیادہ تعداد کی آمد اب ناقابل برداشت ہو گئی ہے۔اٹلی کی جانب یہ دھمکی ایک ایسے وقت دی گئی ہے جب پیرس میں تارکین وطن کے مسئلے پر فرانس، جرمنی اور اٹلی کے وزیر داخلہ ملاقات کر رہے ہیں۔ادھراقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے کہاہے کہ اافریقہ سے بحیرہ روم کے ذریعے لوگوں کی کثیر تعداد آنے کی وجہ سے زیادہ مدد کی ضرورت ہے۔سال 2014 سے اب تک 5 لاکھ تارکین وطن اٹلی کے ساحلوں پر پہنچ چکے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق اٹلی کی حکومت نے صرف دو دنوں کے دوران 12 ہزار تارکین وطن کی آمد پر یورپی اتحاد کے دیگر رکن ممالک پر زیادہ اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔اٹلی میں رواں برس کے آغاز سے اب تک 83 ہزار سے زیادہ تارکین وطن پہنچے ہیں اور یہ تعداد گذشتہ برس کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہے۔رواں برس بحیرہ روم کے ذریعے اٹلی پہنچنے کی کوشش میں ایک اندازے کے مطابق دو ہزار 30 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ادھراقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے سربراہ فلیپو گرانڈی نے کہا کہ یہ صرف اکیلے اٹلی کا مسئلہ نہیں ہے۔یورپی یونین کے کمشنر برائے تارکین وطن دمتریز ایوراموپیز نے اٹلی کے لیے زیادہ مالی مدد کا اعلان کیا اور اس کے ساتھ دوسرے رکن ممالک سے کہا کہ وہ زیادہ اظہار یکجہتی کا اظہار کریں۔

مزید : علاقائی