بندوق کا شوق نہیں، عالمی برادری کشمیریوں سے وعدے پورے کرے ، صلاح الدین

بندوق کا شوق نہیں، عالمی برادری کشمیریوں سے وعدے پورے کرے ، صلاح الدین
 بندوق کا شوق نہیں، عالمی برادری کشمیریوں سے وعدے پورے کرے ، صلاح الدین

  

مظفر آباد( مانیٹرنگ ڈیسک)حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر اور متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین نے کہا ہے کہ ہم کشمیر کے پرامن حل کے قائل ہیں مگر عالمی برادری بھارتی ہٹ دھرمی کے سامنے بے بس ہے۔بھارتی ظلم و جبر کے خلاف ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ نہیں سکتے۔عالمی برداری کشمیریوں کے ساتھ اپنے وعدے پورے کردے ہمیں بھی بندوق اٹھانے کا کوئی شوق نہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات سے ہماری صحت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔امریکہ کی طرف سے دہشت گرد قرار دینے سے ہمیں حوصلہ ملا ہے، ہماری تحریک پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ مودی خود کل تک امریکہ کے لئے دہشت گرد تھا آج امریکہ کے لئے ہیرو بن گیا ہے ، امریکی فیصلے کو چیلنج کرنا ہماری مجبوری ہے اور نہ ہی ضرورت، ہم اپنی تحریک آزادی کو منتقی انجام تک پہنچائیں گے۔نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ’’جرگہ‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر اور متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین کا کہنا تھا کہ امریکہ جو بھی قدم اٹھاتا ہے وہ اپنی قومی ترجیحات کے مطابق اٹھاتا ہے، روس کے خلاف اسامہ بن لادن کو استعمال کیا گیا مگر بعد ازاں خود ہی اسے دہشت گردبنا کر پیش کردیا گیا۔ہم نے45سال تک پرامن جدوجہد کا راستہ اختیار کیا مگر اس پرامن جدوجہد کی ناکامی کے بعد ہم نے مجبورا ہتھیار اٹھائے ہیں۔ بھارت کشمیر کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے، ہمارا القاعدہ سے رابطہ ہے اور نہ ہی ہم داعش کو اچھا سمجھتے ہیں، بھارت کشمیر میں خود ہی داعش کارروائیاں کرکے عالمی حمایت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ہم نے کسی بھی بین الاقوامی ہدف کو نشانہ نہیں بنایا،حزب المجاہدین کے پاس بھارت کے اندر ہزاروں ہمدرد موجود ہیں ، ہم بھارت کے اندر بھی کارروائیوں کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر ایسا نہیں کرتے کیوں ہم اپنی تحریک آزادی پر دہشت گردی کا دھبہ برداشت نہیں کرتے۔کشمیری دہشت گرد نہیں بلکہ وہ فریڈم فائٹر ہیں ان کی ساری سیاسی اور عسکری جدوجہد اقوام متحدہ اور خود امریکہ کے قوانین کے عین مطابق ہے۔سید صلاح الدین نے بھارتی حکومت کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا نے کشمیر کی جد وجہد کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی ہے، 69سالوں سے کشمیری جدوجہد کر رہے ہیں، کشمیر کی تحریک اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق ہے، اس جدوجہد میں حصہ لینے والا ہر کشمیر ی فریڈم فائٹر ہے،مجاہدین کا ہدف قابض افواج ہیں،عوامی مقامات اور غیر مسلح افراد پر وہ حملہ کرتے ہیں۔بھارتی مظالم نے کشمیریوں کو ہتھیار اٹھانے پر مجبور کیا، اقوام متحدہ نے اپنی 18 قرادادوں میں کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کا وعدہ کیا تھا، 15جون 1962ء میں امریکہ نے اقوام متحدہ میں کشمیریوں کے حق خود اردیت کی حمایت کی۔انڈیا ایک دن کے لئے اپنی7لاکھ فوج اور14ایجنسیز کو مقبوضہ کشمیر سے نکال لے تو پھرہم دیکھیں کشمیری عوام کو کون منتخب کرتا ہے، کشمیری عوام انتخابات میں حصہ نہیں لیتے۔برہانی وانی کی شہادت کے بعد182لوگ شہید،19.3500زخمی، 1750پیلٹ گنوں سے نابینا ہو چکے ہیں،کشمیر دنیا کی وہ واحد جگہ ہے جہاں قابض افواج نہتے شہریوں کے خلاف پیلٹ گن استعمال کیا، میری عزت و آبرو پر حملہ کرے تو میں پتھر بھی نہ اٹھاؤں۔حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر کی جدوجہد ایک عوامی انتفاضہ ہے، کشمیر کی تیسری نسل جدوجہد آزادی میں مصروف ہے۔ کشمیریوں کو اس چیز سے نہیں مطلب کہ آزادی کب ملے گی؟ وہ اپنی آزادی کے لئے1ہزار سال تک لڑنے کے لئے تیار ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں 6ہزار گمنام قبریں، ہزاروں نوجوانوں کو شہید کیا جا چکا ہے جبکہ کشمیر کی معیشت کوساڑھے17ہزار کروڑ کا نقصان ہوچکا ہے۔بھارت مقبوضہ کشمیر میں زرعی زمینوں اور جنگلات پر فوجی کالونیاں بنارہا ہے۔مسئلہ کشمیر پر عالمی طاقتوں کی بے اعتنائی تکلیف دہ ہے، جنوبی سوڈان، مشرقی تیمور، سکارٹ لئنڈ کے معاملات حل کئے گئے کیونکہ وہاں عیسائی اکثریت تھی۔45سال تک پرامن جدوجہد کی، اس کی ناکامی کے بعد ہم نے ہتھیار اٹھائے۔اگر اقوام متحدہ کشمیری عوام کے حق خوداردیتے کے لئے تیار ہو تو پاکستان بھی آزادکشمیر سے اپنی فوجیں نکال لے گا۔پاکستان مسئلہ کشمیر کا بنیادی فریق ہے، اس کا فرض ہے کہ وہ کشمیریوں کی اخلاقی ، سیاسی ، سفارتی اورعسکری حمایت کرے مگر بدقستمی سے اپنا مطلوبہ کردار ادا نہیں کررہا۔پاکستان کا فرض ہے کہ وہ عسکری محاذ پر کشمیریوں کی مدد کرے مگر وہ نہیں کر رہا۔ بھارت سمیت دنیا بھر میں کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی حمایت کرنے والے ہزاروں افراد موجود ہیں ، جو ہماری مدد کر رہے ہیں۔عالمی طاقتیں کشمیر میں رائے شماری کی ابتدا کرے ، مقبوضہ کشمیر سے بھارت کو فوجیں نکالنے کا پابند بنائے پاکستان بھی کشمیر سے اپنی فوجیں نکال لے گا۔

صلاح الدین

مزید : صفحہ اول