پابندی کے باوجود پبلک ٹرانسپورٹ میں سی این جی اور ایل پی جی سلنڈروں کا استعمال جاری ، حادثات معمول بن گئے انتظامیہ نے چپ سادھ لی

پابندی کے باوجود پبلک ٹرانسپورٹ میں سی این جی اور ایل پی جی سلنڈروں کا ...

لاہور(انسپکشن رپورٹ :اسد اقبال)تمام تر حکومتی دعوؤں اور پابندیوں کے باوجو د پبلک ٹرانسپورٹ میں سے سی این جی و ایل پی جی سلنڈراتروائے نہیں جا سکے جس سے چلتے پھرتے گاڑی نما بم کسی وقت بھی بڑے حادثے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں ۔ماضی گواہ ہے کہ ان غیر معیاری گیس سلنڈروں نے سینکڑوں افراد ، خواتین اور بچوں کو لقمہ اجل بنا چکے ہیں ۔حکمرانوں کے کانوں پر جوں تب ہی رینگتی ہے جب کسی پبلک ٹرانسپورٹ گاڑی میں گیس سلنڈر دھماکے سے قیمتی جانیں ضائع ہو جائیں محکمہ ٹرانسپورٹ اور ضلعی انتظامیہ سمیت تمام اداروں نے دانستہ چپ سادھ رکھی ہے جس شہر میں تھانہ سے چیف سیکرٹری اور پٹواری سے وزیر اعلی تک تمام سائان اختیار موجو دہیں وہاں قانون کی عمل داری کی اس سے بدترین مثال نہیں ملتی ۔روزنامہ پاکستان کی جانب سے گزشتہ روز بادامی باغ لاری اڈا ، ملتان روڈ ،جناح ٹر مینل اور شاہدرہ ٹرمینل پر پبلک ٹرانسپورٹ کی انسپکشن کی گئی اور وہاں پر موجود بیشتر ویگنوں ، بسوں اور رکشہ پر سی این جی و ایل پی جی گیس سلنڈر نصب تھے ۔ٹرانسپورٹروں نے محکمہ کی جانب سے گیس سلنڈر پابندی کے پیش نظر گیس سلنڈر گاڑیوں کی سیٹوں کے نیچے اس انداز سے فٹ کروائے ہیں کہ جس سے محکمہ کے اہلکاروں کے چکمہ دیا جا سکے ۔واضح رہے کہ گیس سلنڈر ہونے کے واقعات کے پیش نظر محکمہ نے اوگرا سے منظور شدہ گیس سلنڈر لگانے کی اجازت دی جس پر ساز باز کر کے ٹرانسپورٹروں نے اس آڑ میں غیر معیاری سلنڈر بھی گاڑیوں میں لگوانے شروع کر دیے جس سے حادثات میں اضافہ ہوا ۔ پاکستان سروے کے مطابق شہر سے باہر جانے والی گاڑیوں میں نصب گیس سلنڈر لگانے پر ویگن ڈرائیور اور عملہ کو کسی قسم کا خوف نہیں جو اپنا الو سیدھا رکھنے کے لیے سرعام انسانی جانوں سے کھیل رہے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ اگر کوئی محکمہ ٹرانسپورٹ کا اہلکار کارروائی کرنے کی کوشش کر ے تو اس کو نذرانہ پیش کر دیا جاتا ہے ۔ڈرائیورز کا کہنا تھا کہ گیس سلنڈر استعمال کرنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ پٹرول سے کم استعمال ہوتا ہے اور ہمیں گیس سلنڈرفی چکر سے دو سو روپے بچت ہو جاتی ہے ۔ٹرانسپورٹرطارق نبیل محمود نے پاکستان سے گفتگو کر تے ہوئے کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ میں گیس سلنڈر کا استعمال ختم نہیں ہوا ہے تھوڑے سے پیسے بچانے کی لالچ میں چند ایک ٹرانسپورٹرز انسانی جانوں کو موت میں دھکیلنے کا کاروبار کر رہے ہیں جس پر محکمہ ٹرانسپورٹ نے بھی رشوت کی پٹی آنکھوں میں باندھ رکھی ہے اور کھٹارہ گاڑیوں کو چند سو روپے کی عوض فٹنس سر ٹیفکیٹ جاری کر دیا جاتا ہے اور یہ چلتی پھرتی موت بھی کسی گیس سلنڈر گاڑی سے کم نہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ ٹرانسپورٹ میں اصلاحات لائی جائیں اور کر پشن کا بازار ختم کر کے فرائض کی ادائیگی ایمانداری سے کروائی جائے ۔محکمہ ٹرانسپورٹ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گیس سلنڈر استعمال کر نے والی گاڑیوں کے ٹرانسپورٹ مالکان کے ساتھ سخت کارروائی کا سلسلہ جاری ہے اور جس گاڑی میں گیس سلنڈر پایا جائے اس کے خلاف موقع پر ایکشن لیا جاتا ہے ۔

سلنڈر

مزید : صفحہ اول