وفاق اور چاروں صوبوں میں حکومت : کیا بلاول کا خواب شرمندہ تعبیر ہو گا ؟

وفاق اور چاروں صوبوں میں حکومت : کیا بلاول کا خواب شرمندہ تعبیر ہو گا ؟

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

پیپلز پارٹی کے جواں سال چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک بار پھر یہ دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جماعت اگلے انتخابات جیت کر وفاق اور چاروں صوبوں میں اپنی حکومتیں بنائے گی۔ یہ دعویٰ ایسے عالم میں کیا جا رہا ہے جب ان کے والد آصف علی زرداری ان گندے انڈوں پر بھی گرج برس رہے ہیں جو ان کی پارٹی چھوڑ گئے ہیں، ان داغ مفارقت دینے والوں میں تازہ ترین ڈاکٹر بابر اعوان ہیں جو کبھی آصف علی زرداری کے دست راست تھے۔

ذوالفقار علی بھٹو کے ’’ٹیلنٹڈ کزن‘‘ ممتاز علی بھٹو کا خیال بلاول کے دعوے کے بالکل برعکس ہے، ان کا کہنا ہے کہ اگلے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کو عبرت ناک شکست ہوگی اور وہ سندھ میں بھی ہار جائے گی۔ ممتاز بھٹو اپنے قبیلے کے سردار ہیں، دونوں دعوؤں میں بعد المشرقین ہے لیکن یہ کہا جاسکتا ہے کہ ممتاز بھٹو اپنے مرحوم لیڈر کی جماعت کی مخالفت میں جس کا وہ خود بھی حصہ رہے، اتنے دور جاچکے ہیں کہ اسے سندھ میں بھی جیتتے ہوئے نہیں دیکھتے۔ تاہم بلاول وفاق اور چاروں صوبوں میں حکومتیں بنانے کے دعوے کو اگر سچ ثابت کر دکھائیں تو ماننا پڑے گا کہ وہ اپنے نانا، والدہ اور والد سے بھی بڑے لیڈر ہیں، کیونکہ پورے ملک میں حکومتیں تو ان سب کے ادوار میں کبھی نہیں بن سکیں اگر بلاول بنا لیتے ہیں تو پھر انہیں لیڈر ماننے سے کس کافر کا انکار ہوگا۔ اب تک پیپلز پارٹی چار بار وفاق میں حکمران رہی لیکن چاروں صوبوں میں حکومتیں بنانے کا اس کا خواب آج تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوا۔

ذوالفقار علی بھٹو وزارت کی حد تک تو سکندر مرزا کے دور سے ہی شریک حکومت تھے۔ پہلے مارشل لاء میں ایوب خان نے سکندر مرزا کے جن وزیروں کو اپنی حکومت میں شامل رکھا ان میں ذوالفقار علی بھٹو بھی تھے۔ وہ معاہدہ تاشقند 1966)ء( تک اس عہدے پر رہے۔ بعد میں ایوب خان سے اختلاف کے باعث وزارت سے استعفا دے دیا یا دوسری اطلاع کے مطابق ایوب خان نے انہیں نکال دیا۔ اگلے ہی برس انہوں نے اپنی جماعت پیپلز پارٹی کی لاہور میں بنیاد رکھ دی اور مختصر وقت میں یہ جماعت برسر اقتدار بھی آگئی، لیکن آدھے پاکستان میں، جنرل یحییٰ خان نے جب انتخابات کرائے تو پاکستان پانچ صوبوں میں مشتمل تھا، جب اقتدار چھوڑا تو پانچواں صوبہ ایک آزاد ملک بن چکا تھا۔ انہوں نے مغربی پاکستان کا ون یونٹ توڑ کر بلوچستان سمیت چار صوبے بنائے تھے۔ مشرقی پاکستان بھی متحدہ پاکستان کا ایک صوبہ تھا۔ 1970ء میں ہونے والے ان انتخابات میں قومی اسمبلی کی تین سو نشستوں پر انتخابات ہوئے تھے جن میں 162 نشستیں مشرقی پاکستان اور 138 نشستیں پنجاب، سندھ، سرحد اور بلوچستان کی تھیں۔ مشرقی پاکستان کی دو کے سوا تمام نشستیں شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ نے جیت لیں جب کہ مغربی پاکستان کے چاروں صوبوں میں پیپلز پارٹی کو 80 نشستیں ملیں۔ باقی 58 نشستیں دوسری جماعتوں اور آزاد ارکان کے حصے میں آئیں۔ جنرل یحییٰ خان نے جس سیاسی کھیل کا آغاز کر رکھا تھا اس کا بظاہر مقصد تو یہ تھا کہ وزیراعظم جو بھی بنے وہ انہیں صدر مان لے، لیکن کھیل ایسا بگڑا کہ آدھا ملک ہی لے گیا۔ الیکشن کے بعد قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کے التوا کے بعد حالات جس نہج پر چلے گئے، اس میں ملک ہی متحد نہ رہ سکا۔ ان کے سارے منصوبے بھی اس کی نذر ہوگئے۔

ذوالفقار علی بھٹو نے مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بن جانے کے بعد باقی ماندہ پاکستان کا اقتدار بطور صدر اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر سنبھالا۔ وفاق کے علاوہ پنجاب اور سندھ میں بھی پیپلز پارٹی کی حکومتیں بن گئیں جبکہ سرحد اور بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) اور جمعیت علمائے اسلام کی مخلوط حکومتیں بنیں۔ سرحد میں پیپلز پارٹی کو قومی اسمبلی کی صرف ایک نشست حاصل ہوئی تھی جبکہ بلوچستان میں اس کی ایک بھی نشست نہیں تھی۔ بھٹو نے بلوچستان کی مینگل وزارت برطرف کر دی تو سرحد میں مفتی محمود کی وزارت علیا نے بطور احتجاج استعفا دیدیا۔ اسی طرح ان دو صوبوں میں بھی اکثریت نہ ہونے کے باوجود پیپلز پارٹی کی حکومت بن گئی۔ 1977ء میں پیپلز پارٹی نے جو انتخابات کرائے وہ متنازعہ ہوگئے اور چار ماہ بعد 5 جولائی 1977ء کو پارٹی کی حکومتیں ختم ہوگئیں۔ پیپلز پارٹی کی دوسری حکومت 1988ء میں بنی جس میں بینظیر بھٹو نے وزارت عظمیٰ سنبھالی۔ تاہم پنجاب میں ان کی پارٹی کی حکومت نہ بن سکی اور نواز شریف وزیراعلیٰ بن گئے۔

بینظیر بھٹو کی وزارت عظمیٰ اور نواز شریف کی پنجاب میں وزارت علیا کا یہ دور بڑا ہنگامہ خیز تھا۔ وفاق اور صوبے کے درمیان مسلسل محاذ آرائی کی کیفیت رہی، تاآنکہ صدر اسحاق خان نے اگست 1990ء میں بینظیر بھٹو کی حکومت ہی ختم کر دی۔ بینظیر بھٹو دوسری مرتبہ 93ء میں وزیراعظم بنیں، ان کے اس دوسرے دور میں کہنے کو تو پنجاب میں پیپلزپارٹی شریک اقتدار تھی لیکن مسلم لیگ (جونیجو) کے وزیراعلیٰ میاں منظور وٹو کے سامنے اس کا چراغ نہیں جلتا تھا۔ پیپلز پارٹی نے میاں منظور وٹو کو ہٹانے کے لئے ہر کوشش کرکے دیکھی، لیکن اگر کامیابی بھی ہوئی تو اس شکل میں کہ ان کی جگہ مسلم لیگ (ج) کے ہی سردار عارف نکئی کو وزیراعلیٰ بنانا پڑا۔ چوتھی بار جب پیپلز پارٹی کو اقتدار ملا تو بینظیر اس دنیا میں نہیں تھیں۔ 2008ء کے الیکشن کے بعد پہلے یوسف رضا گیلانی اور پھر راجہ پرویز اشرف وزیراعظم رہے اور اگست 2008ء میں آصف علی زرداری صدر بن گئے، لیکن اس پورے عرصے میں پنجاب میں شہباز شریف وزیراعلیٰ رہے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کی حکومت صرف ذوالفقار بھٹو کے دور تک رہی، دوسری مرتبہ اقتدار جزوی طور پر پیپلز پارٹی کے پاس رہا، اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کبھی پنجاب میں برسراقتدار نہیں رہی۔ اس وقت بھی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ بڑے بڑے جیالے پارٹی چھوڑ رہے ہیں۔ بعض ایسے نام بھی لئے جا رہے ہیں جنہوں نے یہ وضاحت کی ہے کہ وہ سیاست چھوڑ سکتے ہیں، پیپلز پارٹی نہیں، اس کا مطلب تو یہ ہے کہ سیاست چھوڑ کر وہ پیپلز پارٹی کے لئے کسی کام کے نہیں رہ جائیں گے۔ اس لئے اس کا مطلب بھی بالواسطہ طور پر پارٹی چھوڑنے ہی کے مترادف ہے۔ بہرحال آنے والے وقت میں دیکھنا ہوگا کہ بلاول کا دعویٰ کس شکل میں حقیقت کا روپ دھارتا ہے۔

خواب

مزید : تجزیہ