پاکستان کسان اتحاد کا 7اگست کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کااعلان

پاکستان کسان اتحاد کا 7اگست کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کااعلان

ملتان ( آئی این پی) پاکستان کسان اتحاد کے مرکزی صدر خالد محمود کھو کھر نے کہا ہے کہ اسحق ڈار نے پاکستان کا وزیر خزانہ بننے کی بجائے آئی ایم ایف کا ایجنڈا پیش کیا جس پر ملک بھر کے کسانوں نے اپنے حقوق کے لئے احتجاجی تحریک کا آغاز کر دیا ہے اور رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کی بھی فوری رہائی کا مطالبہ کر دیا اور کہا ہے کہ آج سے کاشتکار اپنے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھیں گے اور مساجد میں مصیبت کو ٹالنے کے لئے آذانیں دی جائیں گے اور 7اگست کو ملک بھر کے کا شتکار ٹریکٹر ٹرالیوں پر اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے جبکہ 13جولائی کو ملتان میں احتجاج کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کلب میں دیگر رہنما?ں کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ خالد محمود کھوکھر نے مزید کہاکہ 26مئی کو وفاقی حکومت کی جانب سے کاشتکاروں کے پرامن احتجاج پر مظاہرین پر گولیاں چلائی گئیں ، شیلنگ ، لاٹھی چارج اور واٹر کینن کا استعمال کیا گیا جس کی وجہ سے متعدد کاشتکار زخمی ہو ئے اور 6سو سے زائد گرفتار ہو ئے جنہیں تھانوں میں بھوکا پیاسا رکھا گیا جو اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کاشتکاروں کو پاکستانی اور انسان تسلیم کرنے سے قاصر ہے انہوں نے کہا کہ گذشتہ ساڑھے چار سالوں سے وزیراعظم کا کاشتکاروں سے مسائل کے حل کے لئے ملاقات نہ کرنا، بجٹ میں زراعت کو ترجیحات میں شامل نہ کرنا ، پاکستان کو بھارت کی زرعی منڈی بنانا، ریسرچ کے اداروں کا کام ٹھپ کرنا، غریب کاشتکاروں کو گنے کی 30ارب کی ادائیگی نہ کرنا ، زرعی مارکیٹنگ سسٹم کو تباہ کرنا ، بھارت سے ڈیوٹی فری کپاس اور فروٹ سبزیات منگوا کر پاکستان کی زراعت کو تباہ کرنا ، 15ستمبر 2015کو وزیراعظم کا پاکستان کا 341ارب کا جھوٹا پیکج کا اعلان کرکے کاشتکاروں کو دھوکہ دینا اور فصلوں کی امدادی قیمت مقرر نہ کرنا ، زراعت پنجاب اور نیشنل فوڈ اینڈ سیکیورٹی کی سفارشات پر عمل نہ کرنا کاشت کاروں کے ساتھ دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے انہوں نے مطالبہ کرتے ہو ئے کہا کہ تمام کھادوں اور زرعی مداخل پر ٹیکس ختم کئے جائیں، کاشتکاروں کو گنے کی ادائیگی فوری کی جائے، بجلی کے زرعی ٹیوب ویل پر تمام بقایا جات ختم کئے جائیں اور بجلی کا زرعی ٹیرف فی یونٹ 4روپے دن رات مقرر کیا جائے ، فصلوں کی امدادی قیمت مقرر کی جائے ، کولڈ سٹوریج والوں کو پابند کیاجائے کہ حکومت کے مقرر کردہ نرخ 330روپے ہی چارج کریں اور کولڈ سٹوریج پر 16فی صد ٹیکس ختم کیا جائے ، زرعی قرضوں پر سود جیسی لعنت کو مکمل طور پر ختم کیا جائے ، جمشید دستی کو فوری رہا کیا جائے۔

مزید : صفحہ آخر