سری نگر،بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید افراد سپرد خاک،حریت کانفرنس کی اپیل پر ہڑتال جھڑپوں میں

سری نگر،بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید افراد سپرد خاک،حریت کانفرنس کی اپیل پر ...

سرینگر(اے این این ) مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ روز بھارتی فورسز کے ہاتھوں شہید ہونے والے خاتون سمیت پانچوں شہداء کو سپرد خاک کر دیا گیا ہے جبکہ اس دوران مزاحمتی قیادت کی اپیل پر وادی میں ہمہ گیر ہڑتال اور احتجاج کیا گیا ہے جس کے باعث نظام زندگی معطل رہے اور قابض فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں مزید 25افراد زخمی ہو گئے ہیں ، مختلف علاقوں میں ریلیاں ،مشتعل مظاہرین کا قابض فورسز پر پتھراؤ،جوابی کارروائی میں لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا بے دریغ استعمال ،لوگوں کو منتشر کرنے کیلئے فورسز نے پیلٹ گن اور ربڑ کی گولیوں کا ھی استعمال کیا،صورتحال کشیدہ،کئی علاقوں میں نیم کرفیو اور دفعہ 144کا نفاذ،کاروباری اور تجارتی مراکز بند،انٹر نیٹ ،موبائل اور ریل سروس معطل،زندگی تھم کر رہ گئی،ادھر جی ایس ٹی کیخلاف تاجرسراپا احتجاج،لالچوک میں بھوک ہڑتال اور دھرنے کی کوشش ناکام ،50سے زائد گرفتار کر لئے گئے ۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر کے ضلع انت ناگ کے علاقے دیالگام میں بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والی 44سالہ خاتون طاہرہ،لشکر طیبہ کے کمانڈر بشیر لشکری،آزاد ملک اور شاداب احمد چوپان سمیت تمام پانچوں افراد کو ان کے آبائی قبرستانوں میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے ۔شہدا کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ۔اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھے گئے اور لوگوں نے بھارت کیخلاف شدید نعرے بازی بھی کی ۔اس دوران کل جماعتی حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں ،لبریشن فرنٹ اور دیگر مزاحمتی جماعتوں کی اپیل پر وادی میں ہمہ گیر پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال بھی رہی ۔ اس دوران مختلف علاقوں میں لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کئے اور ریلیاں نکالیں ۔قابض فورسز نے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی تو مظاہرین مشتعل ہو گئے اور فورسز کی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا۔جس کے جواب میں بھارتی فورسز نے لوگوں کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا بے دریغ استعمال کیا۔اس کے علاوہ پیلٹ گن اور ربڑ کی گولیوں کا بھی استعمال کیا گیا جس کے نیتجے میں 25افراد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں ۔پیلٹ گن سے4افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے ایک کی بینائی ختم ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے ۔ قابض فورسز نے شہریوں کی ہلاکتوں کے بعد سے نمٹنے کیلہئے پہلے سے ہی تیار کر رکھی تھی اور انت ناگ ضلع میں اضافی نفری تعینات کر دی گئی تھی جبکہ سرینگر کے پائیں شہر میں نوہٹہ، خانیار، رعناواری، صفا کدل، مہاراج گنج، مائسمہ اور کرالہ کھڈ پولیس تھانوں کے حدود میں دفعہ 144نافذ کیا گیا تھا اس کے علاوہ مختلف علاقوں میں نیم کرفیو نافذرہا۔گزشتہ ایک ہفتہ سے سرینگر اوراس کے مضافاتی علاقوں بٹہ مالو،بٹہ کدل،وانگن پورہ عیدگاہ،آری باغ نوگام،موچھوہ،کھوسہ باغ سمیت کئی علاقوں کو محاصرے میں لیا گیا ،جس کے دوران فوج،فورسز اور ٹاسک فورس اہلکار تلاشیاں لئے رہے ہیں۔مقامی لوگوں کے مطابق فورسز نے دروازوں پر دستک دیکر تلاشیاں لیں اور اس دوران اہل خانہ کے بارے میں بھی پوچھ تاچھ کی گئی۔ اس دوران ن ایک نوجوان کو حراست میں لیا گیا،جو علاقے میں کرایہ دار کے طور پر رہائش پذیر تھا۔اس دوران شہر خاص میں کرفیو جیسی صورتحال نظر آئی،جس کی وجہ سے ان علاقوں کی آبادی محصوربن کر رہ گئی۔ شہر خاص کے حساس علاقوں کی تاربندی کی گئی تھی،اور سخت پوچھ گچھ کے بعد اکا دکا شخص کو آگے جانے کی اجازت دی جا رہی تھی۔دریں اثناء مزاحمتی قیادت نے شہری ہلاکتوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔ سید علی گیلانی ، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں فورسز کی جانب سے دیالگام میں مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ سے دو نہتے شہریوں کو جاں بحق کرنے اور متعدد افراد کو شدید زخمی کردینے کیخلاف شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسکی مذمت کی ہے ۔

مقبوضہ کشمیر

مزید : کراچی صفحہ اول