حکومت کی ٹیکس وصولی میں ناکامی ‘ معیشت کیلئے مزید مسائل پیدا ہونگے

حکومت کی ٹیکس وصولی میں ناکامی ‘ معیشت کیلئے مزید مسائل پیدا ہونگے

ملتان(جنرل رپورٹر) ایوان تجارت و صنعت ملتان کے عہدیداران نے کہاہے کہ تمام حربے استعمال کرنے کے باوجود محکمہ ٹیکس 30جون 2017تک ٹیکس وصولی کا سالانہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے جو باعث تشویش ہے کیونکہ اس سے معیشت کیلئے مزید مسائل پیدا ہوں گے۔صدر(بقیہ نمبر34صفحہ12پر )

ایوان تجارت و صنعت خواجہ جلال الدین رومی نے کہا کہ پارلیمنٹ نے 2016۔17 کیلئے ٹیکس وصولی کا ہدف 3.621 کھرب روپے منظور کیا تھا جبکہ وفاقی وزیر خزانہ نے اس میں 100ارب روپے کی کمی کرتے ہوئے 3.521کھرب روپے کا نظرثانی شدہ ہدف مقرر کیا تھا لیکن 30جون تک ایف بی آر نے 3.330کھرب روپے بطور ٹیکس وصول کئے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت ٹیکس وصولی کا نظرثانی شدہ سالانہ ہدف بھی حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔آئل ملز ایسوسی ایشن کے چےئرمین خواجہ محمد فاضل نے کہا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے اضافی ٹیکسوں کے نفاذ اور پٹرولیم مصنوعات پر بھاری سیلز ٹیکس عائد کرنے کے باوجود ٹیکس وصولی کے سالانہ ہدف میں ناکامی اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان کا موجودہ ٹیکس نظام کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور معیشت کی ترقی میں موثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہا ہے۔سابق صدر ایوان تجارت و صنعت خواجہ محمد عثمان نے کہا کہ محکمہ ٹیکس وصولی کے اہداف کو بہتر انداز میں پیش کرنے کیلئے ہر سال تاجر برادری کے اربوں روپے کے ٹیکس ریفنڈز روکے رکھتا ہے جو افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹیکسوں کی بھاری شرح اور ٹیکسوں کی زیادہ تعداد ملک میں ٹیکس کلچر کو فروغ دینے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ محکمہ ٹیکس ریٹس اور ٹیکسوں کی تعداد کو کم کرنے پر غور کرے جس سے ٹیکس ادائیگی کی حوصلہ افزائی ہو گی اور ٹیکس ریونیو میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

ٹیکس وصولی

مزید : ملتان صفحہ آخر