برصغیر کے مقبول ترین فوک گلوکار عالم لوہار کی 38 ویں برسی آج منائی جائیگی

برصغیر کے مقبول ترین فوک گلوکار عالم لوہار کی 38 ویں برسی آج منائی جائیگی

ملتان(خصوصی رپورٹر )برصغیر کے مقبول ترین فوک گلوکار عالم لوہار کی 38 ویں برسی (آج)پیر کو منائی جائیگی ۔ اس موقع پر پاکستان (بقیہ نمبر45صفحہ12پر )

ٹیلی ویژن، ریڈیو پاکستان اور نجی چینلزسے خصوصی پروگرام آن ایئر ہوں کئے جائیں گے ۔ عالم لوہار کے بیٹے عارف لوہار اور انکے پرستاروں نے اس مناسبت سے قرآن خوانی کا بھی اہتمام کیاہے۔عالم لوہار1928ء میں پیدا ہوائے ۔ ان کا تعلق صوبہ پنجاب کے شہر گجرات کے قریب واقع گاؤں ’’آج کوچ‘‘ سے تھا۔ انہوں نے 13 سال کی عمر میں اپنا پہلا البم ریکارڈ کرایا ۔ منفرد انداز گائیکی کے باعث انہیں بہت جلد شہرت مل گئی ۔ بعد ازاں انہوں نے تھیٹر بنا لیا۔ ان کا کامیاب گروپ میلوں اور مزاروں پر پرفارم کرتا تھا اور عالم لوہار کے تھیٹر کے بغیر بڑے میلے ادھورے سمجھے جاتے تھے۔ان کا انداز گائیکی اتنا منفرد ، نرالہ اور خوبصورت تھا کہ وہ جب بھی کسی میلے یا محفل میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے تو لوگ ساری ساری رات ان کے گیتوں سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ عالم لوہار کا ’’چمٹا‘‘بھی ان کی ایک الگ پہچان بنا۔ وہ میاں محمد بخش ، سلطان باہوکا کلام بہت خوبصورتی سے پڑھتے اور بچپن میں عموماً گاؤں کے بڑے بڑے بزرگ ان سے صوفیانہ کلام سنتے ۔ان کے گائے ہوئے لوک گیت، بولیاں، ماہیے ، نعتیہ کلام اور سیف الملوک کے علاوہ جگنی ، واجاں ماریاں، مرزا صاحبہ، ہیر رانجھا، سسی پنوں، پرن بھگت، شاہ نامہ کربلا کے علاوہ ان کے چند مقبول ترین گانوں میں بول مٹی دیا باویا، دل دا دکھڑا نہیں کسے نو ں سنائی دا۔ واجاں ماریاں بلایا کئی وار میں سمیت لاتعداد سینکڑوں گیتوں نے ملک گیر ہی نہیں بلکہ بیرون ممالک میں بھی شہرت حاصل کی۔برطانیہ کی ملکہ الزبتھ ، بھارت کے وزیر اعظم پنڈٹ جواہر لال نہرو نے انہیں خاص طور پر پر فارمنس کیلئے مدعو کیا اور ان کی پرفارمنس سے لطف اندوز ہوئے ۔ 1979ء میں انہیں پرائیڈ آف پر فارمنس سے بھی نوازا گیا۔ اسی سال 3جولائی کو وہ ملتان روڈ شام کی بھٹیاں کے قریب ایک ٹریفک حادثہ کے باعث اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر