شیر گڑھ‘ گیس پائپ لائن کی عدم ادائیگی کیخلاف احتجاجی مظاہرہ

شیر گڑھ‘ گیس پائپ لائن کی عدم ادائیگی کیخلاف احتجاجی مظاہرہ

شیرگڑھ (نامہ نگار) لوند خوڑ کو شانگلہ سوات کو بچھائی گئی سوئی گیس پائپ لائن سے گیس کی عدم فراہمی کے خلاف یونین کونسل لوند خوڑ،یونین کونسل میاں عیسیٰ اور نواحی علاقوں کے باشندگان سراپااحتجاج بن گئے لوند خوڑ کے علاقہ سلو شجاع آباد کے مقام پر اتوار کے روز زبردست احتجاجی مظاہرہ کیاگیا مشتعل مظاہرین لوند خوڑ کے مین بازار سے شجاع آباد تک 3کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہوئے احتجاج والی جگہ پر پہنچے جہاں سے شانگلہ سوات کو بچھائی جانے والی سوئی گیس پائپ لائن گزرتی ہے مظاہرین نے شجاع آباد کے مقام پر ایس ایم ایس سٹیشن قائم کرنے سے کم کسی بھی چیز پر سودا بازی نہ کرنے کا اعلان کیا مظاہرے میں مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین نے اپنی اپنی جماعتوں کی نمائندگی کی تفصیلات کے مطابق شانگلہ سوات کو سوئی گیس کی فراہمی کے لئے بچھائی جانے والی پائپ لائن بچھانے کا کام یوسی لوند خوڑ اور میاں عیسیٰ میں داخل ہوگیا تو عرصہ دراز سے سوئی گیس کی سہولت سے محروم یوسی میاں عیسیٰ ،لوند خوڑ اور نواحی مضافات کے باشندے مذکورہ پائپ لائن سے ان علاقوں کو سوئی گیس کی فراہمی کے لئے متحرک ہوگئے اور لوند خوڑ کے باشندوں نے اس مقصد کے لئے ایک کمیٹی قائم کردی کمیٹی نے پائپ لائن بچھانے کے کام رکوانے اور اپنا مقصد پورا کرنے کے لئے پائپ بچھانے کے کام میں رخنے ڈالنے شروع کردئیے اور آخر کار اتوار کے روز سلو شجاع آباد کے اس مقام پر ایک زبردست احتجاجی پروگرام کا اعلان کردیا جہاں سے پائپ لائن گزرتی ہے اتوار کے روز سینکڑوں افراد نے لوندخوڑ سے شجاع آباد سلو تک مارچ کرتے ہوئے 3کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہوئے احتجاج شروع کیا احتجاجی جلسہ سے اے این پی کے فاروق اکرم خان، ناصر خان ، امیر خان ، پی پی پی کے اسد خان، تحریک انصاف کے انجینئر عادل نواز، جمعیت علماء اسلام (ف) کے شاہد خان ، جمعیت علماء اسلام (س) کے مولانا اسرائیل، ضلعی کونسلر آصف خان،کمیٹی کے اراکین امجدخان، سہراب خان،ذکاء اللہ اور دیگر نے خطاب کیا مقررین نے شجاع آباد کے مقام پر ایس ایم ایس سٹیشن قائم کرنے سے کم کسی بھی بات پر سودا بازی نہ کرنے کا اعلان کردیا اور ایس ایم ایس کو قائم کئے بغیر پائپ لائن لاشوں پر بچھائے جانے کا عزم دھرایا دریں اثناء احتجاجی مظاہرے کے اختتام پر سیاسی جماعتوں کے قائدین کمیٹی کے اراکین اور سماجی حلقوں کے نمائندوں کا ایک اجلاس منعقد کیاگیا جس میں پائپ لائن بچھانے کے کام کو کسی بھی وقت شروع ہوتے ہی رکوانے ،کام کے خلاف ہائی کورٹ سے حکم امتناعی حاصل کرنے اور احتجاجی تحریک کے سلسلے میں اخراجات اٹھانے کے لئے حکمت عملی طے کی گئی

مزید : پشاورصفحہ آخر