سرچ آپریشن میں پولیس افسر سمیت 2افراد کے قتل کے حوالے سے جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ

سرچ آپریشن میں پولیس افسر سمیت 2افراد کے قتل کے حوالے سے جوڈیشل انکوائری کا ...

چارسدہ (بیورورپورٹ)سپلمئی کے عمائدین علاقہ نے عید سے ایک روز پہلے سرچ آپریشن میں پولیس آفسر سمیت دو افراد کے قتل کے حوالے سے جو ڈیشل انکوائری کا مطالبہ کر دیا ۔ سب انسپکٹر خان ولی شاہ کو اپنے پیٹی بند بھائی نے گولی ماردی مگر پولیس نے غریب شہری کو بے دردی سے قتل کرکے اپنا بدلہ پورا کیا اور پھر مقتول کو اشتہاری قرار دیا ۔پولیس نے خواتین کے دوپٹے اچھال کر بالوں سے گھیسٹ کر تشدد کا نشانہ بنایا اور تھانے لے گئے ۔ 27شریف شہریوں کو مندنی تھانے میں برہنہ کرکے کئی گھنٹے تک تپتی سورج میں کھڑا کیا گیا ۔قتل ہونے والے مقامی شہری کے بیوہ ، والدہ اور بھائی نے چیف جسٹس سے سوموٹو ایکشن لینے کا مطالبہ کر دیا ۔ تفصیلات کے مطابق سپلمئی میں24جون کو سیکورٹی فورسز اور پولیس کے مشترکہ آپریشن کے دوران سب انسپکٹر خان ولی شاہ اور مقامی شہری امتیاز کے پولیس کے ہاتھوں بہیمانہ قتل کے حوالے سے عمائدین علاقہ کا ایک بڑا جرگہ منعقد ہوا ۔ جرگہ سے خطاب کر تے ہوئے مقتول امتیاز کے بھائی آیاز نے بتایا کہ مقتول امتیاز کے خلاف انہوں نے تھانہ مندنی میں 506کا مقدمہ درج کیا تھا مگر بعد ازاں عمائدین علاقہ نے جرگہ کے ذریعے تناذعہ ختم کیا اور تحریری راضی نامہ تھانہ مندنی اور پولیس چوکی شکور میں جمع کیا جبکہ مندنی پولیس کی رضا مندی سے عید الفطر کے فوراً بعد عدالت میں راضی نامہ پیش کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا مگر پولیس اور سیکورٹی فورسز نے چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کرکے لیڈیز پولیس کے بغیر ہمارے گھر پر چھاپہ مار ا اورمیرے بھائی امتیاز کو قتل کردیا ۔اس موقع پر مقتول امتیاز کے بیوہ اور والدہ زار وقطار روتی رہی اور انصاف کا مطالبہ کر تی رہی ۔ جرگہ سے خطاب کر تے ہوئے جے یو آئی کے ضلعی ممبر مفتی سمیع اللہ ویلج ناظم حاجی ثمر خان ، مقتول کے چچازاد بھائیوں سلیمان ، محمد عالم ، سماجی کارکن جہانزیب ، نائب ناظم سپلمئی رحیم اللہ ، امجد علی ، عبد الرحمان ، حبیب اللہ اور دیگر نے کہا کہ سیکورٹی فورسز اور پولیس نے 24جون کو صبح آٹھ بجے پورے علاقے کا گھیر اؤ کر کے کرفیو نافذ کیا اورلیڈیز پولیس کے عدم موجودگی میں گھر گھر داخل ہو کر خواتین کی بے عزتی کی اور ان کے دوپٹے اچھال کربالوں سے گھسیٹ کر پولیس موبائل میں جانوروں کی طرح پھینکا گیا ۔ پولیس اہلکاروں نے اعتکاف میں بیٹھے خواتین کے ہاتھوں سے قرآن پاک چھین لیئے اور ان کو بھی بری طرح مارا پیٹا گیا ۔ پولیس اہلکار گھروں سے قیمتی سامان اور نقدی اٹھا کر لے گئے جبکہ علاقے کے 26افراد جن میں بوڑھے اور بیمار لوگ شامل تھے ان کو گندگی کے ڈھیر پر سلا کر بد ترین تشدد کا نشانہ بنا یا گیا اوربعد ازاں مندنی تھانے لے کر ان کو برہنہ کرکے تپتی سورج میں کئی گھنٹے تک کھڑا کیا گیا ۔ جرگہ کے بیشتر اراکین نے انکشاف کیا کہ سب انسپکٹر خان ولی شاہ کو ان کے پیٹی بند بھائی نے چھاپے کے دوران امتیاز کے گھر میں گولیاں مار کر قتل کیا اور واقعہ کے بعد فرار ہو گیا جس کے گواہ ہمارے پاس موجود ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سب انسپکٹر خان ولی شاہ کو خون میں لت پت دیکھ کر پولیس اور سیکورٹی فورسز نے غریب شہری امتیاز کو گھر کے دہلیز پر اندھا دھند فائرنگ کرکے قتل کرکے بدلہ لیا ۔ جرگہ مشران نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ سگے بھائیوں کے مابین معمولی مقدمہ تھا اور اس میں باقاعدہ راضی نامہ بھی ہو چکا تھا مگر پولیس نے جعلی پراگراس دکھانے کیلئے بلا جواز چھاپہ مارا جس میں پولیس افسر سمیت دو افراد زندگی کی بازی ہار گئے ۔ جرگہ مشران نے کہا کہ پولیس آفسر کو شہید قرار دیا گیاہے جبکہ مقتول امتیاز کو اشتہاری جبکہ اس کے دوسرے بھائی پر اب پولیس نے دہشت گردی اور قتل کے مقدمات درج کئے ہیں ۔ مقتول کی بیوہ ، والدہ ، بھائی اور جرگہ مشران نے چیف جسٹس آف پاکستان سے سوموٹو ایکشن لینے اورواقعہ کے حوالے سے فی الفور جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا۔ جرگہ نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا پر ویز خٹک ، آئی جی اور ڈی پی او چارسدہ سے بھی داد رسی اور انصاف کی اپیل کی ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر