واٹس ایپ کے پہلے خریدار مارک زکر برگ نہیں تھے

واٹس ایپ کے پہلے خریدار مارک زکر برگ نہیں تھے

سیلیکون ویلی(مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا کی معروف چیٹنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ گزشتہ 3 سال سے فیس بک کے بانی مارک زکر برگ کی ملکیت ہے۔مارک زکر برگ نے 2014 میں واٹس ایپ کو 19 ارب ڈالر میں خریدا تھا، اور اب تک انہوں نے اس میسیجنگ ایپلی کیشن میں کئی تبدیلیاں کرکے اسے دنیا کی معروف ایپلی کیشن بنادیا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اب بھی فیس بک کے مقابلے واٹس ایپ صارفین کی تعداد کم ہے، لیکن دیگر میسیجنگ ایپ کے مقابلے واٹس ایپ صارفین کی تعداد بہت زیادہ ہے۔جب سے مارک زکر برگ نے واٹس ایپ کو خریدا ہے، تب سے اس کی کمائی میں اضافہ ہی ہوا۔رواں برس فروری تک واٹس ایپ صارفین کی تعداد ایک ارب 20 کروڑ تک پہنچ چکی تھی، جب کہ گزشتہ 5 ماہ میں اس کے صارفین میں مزید اضافہ بھی ہوا ہے۔تاہم واٹس ایپ کے حوالے سے ایک دلچسپ انکشاف ہوا ہے کہ اس ایپلی کیشن کے پہلے خریدار مارک زکر برگ نہیں تھے۔بلوم برگ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ چین کی انٹرنیٹ کمپنی ٹسینٹ اور میسیجنگ ایپلی کیشن وی چیٹ کے بانی ما ہنٹیگ اور واٹس ایپ کے سربراہ جان کوم کے درمیان مذاکرات آخری مراحل میں تھے کہ اچانک ما ہنٹیگ کی طبعیت خراب ہوگئی جس وجہ سے ان کے مذاکرات نہیں ہوسکے۔چینی سوشل میڈیا کے سربراہ نے تسلیم کیا کہ واٹس ایپ خریداری کے مذاکرات میں آخری مراحل کے دوران ان کی جانب سے تاخیر کی گئی۔اپنے انٹرویو کے دوران ما ہنٹیگ نے انکشاف کیا کہ ان کی جانب سے واٹس ایپ کی قیمت کم لگائی گئی تھی، تاہم مارک زکر برگ نے ان کی پیشکش سے دگنی رقم دے کر واٹس ایپ کو خرید لیا۔

واٹس ایپ

مزید : کراچی صفحہ اول