اگر آپ بڑھاپے میں آہستہ چلتے ہیں تو یہ اس بیماری کی نشاندہی ہوسکتی ہے، ڈاکٹروں نے تشویشناک بات بتادی

اگر آپ بڑھاپے میں آہستہ چلتے ہیں تو یہ اس بیماری کی نشاندہی ہوسکتی ہے، ...
اگر آپ بڑھاپے میں آہستہ چلتے ہیں تو یہ اس بیماری کی نشاندہی ہوسکتی ہے، ڈاکٹروں نے تشویشناک بات بتادی

  

نیویارک(نیوزڈیسک) کافی عرصے سے سائنسدانوں کا یہ ماننا تھا کہ بڑھاپے میں جو لوگ آہستہ چلتے ہیں وہ دماغی مرض(ڈیمینشیا) کا شکار ہوجاتے ہیں اوراب سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے اس بات کا پتہ لگالیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ جو لوگ بڑھاپے میں آہستہ چلتے ہیں تو اس کی وجہ ان کے دائیں دماغ کا سکڑنا ہے۔ان کاکہنا ہے کہ دماغ کا جو حصہ سکڑتاہے اس کا گہراتعلق انسان کے چلنے اور یاداشت کے ساتھ ہوتا ہے۔ماہرین کاکہناہے کہ اس مرض کو ابتداءہی سے ٹھیک کیاجاسکتا ہے اگر معالج مریض کے چلنے پھرنے کا غورسے مشاہدہ کرے۔14سالہ محیط تحقیق میں یونیورسٹی آف پیٹسبرگ گریجویٹ سکول آف پبلک ہیلتھ کے ماہرین نے 70اور79سال کی عمر کے درمیان کے 175افراد کا مطالعہ کیا۔ان تمام افراد کی دماغی اور جسمانی صحت تحقیق کے وقت بالکل نارمل تھی۔ان سالوں میں تمام افراد کے چلنے پھرنے اور دماغی استطاعت پر گہری نظر رکھی گئی اور انہیں 18فٹ کی ایک جگہ پر چلایا بھی جاتا اور اس کا ٹائم نوٹ کیا جاتا۔تمام افراد سست رفتار سے چلتے تھے لیکن جن افراد کی رفتار اپنے ہم عصروں سے ہر سال 0.1سیکنڈ کم ہوئی ان میں دماغی اور جسمانی بگاڑ زیادہ تھا۔تحقیق کارپروفیسر روسو کا کہنا ہے کہ یہ فرق معمولی نہیں کیونکہ اس عمر میں اسے کافی زیادہ سمجھا جاتا ہے لہذااگر اس طرح کا کوئی فرق نظر آئے تو ایسے مریض پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے اور اگر کسی معالج کو اپنے مریض میں چلنے پھرنے کی رفتار میں کمی محسوس ہوتواسے چاہیے کہ مریض کے دماغ کا سکین کروائے کیونکہ اس سست رفتار کا تعلق دماغ کے ساتھ ہوسکتا ہے۔

مزید : تعلیم و صحت