اسامہ ایبٹ آبادمیں نہ ہوتا تو میں امریکہ نہ ہوتا، امریکی حکومت خفیہ مشن میں خلل نہیں ڈالنا چاہتی تھی: ریمنڈ ڈیوس

اسامہ ایبٹ آبادمیں نہ ہوتا تو میں امریکہ نہ ہوتا، امریکی حکومت خفیہ مشن میں ...
اسامہ ایبٹ آبادمیں نہ ہوتا تو میں امریکہ نہ ہوتا، امریکی حکومت خفیہ مشن میں خلل نہیں ڈالنا چاہتی تھی: ریمنڈ ڈیوس

  

لندن(ویب ڈیسک) سی آئی اے کے سابق کنٹریکٹر ریمنڈڈیوس نے کہا ہے کہ اگر اسامہ ایبٹ آباد میں نہ ہوتا تو میں امریکہ نہ ہوتا ، جیل میں مجھ پر جسمانی تشدد نہیں ہوا تاہم کئی اور طرح کے تشدد ہوئے۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر یہ معاملہ میری سوچ سے زیادہ آسان تھا لیکن جب مجھے جیل میں ڈالا گیااور دروازہ بند کر دیا گیا تو میری آزادی ختم ہو گئی، میں باہر نہیں جا سکتا تھا، حتیٰ کہ میں نے دو چھوٹے جانوروں کے ساتھ بات کرنا شروع کر دیا تھا جو حیران کن طور پر سیل میں تھا۔ دو پرندے بھی اندر آتے ، جنہیں میں سنوبرڈز کہتا اور وہ کمرے کے چاروں طرف اڑتے ، میں انہیں مارگریٹ اور جارج کہہ کر پکارتا۔ وہاں ایک چھپکلی بھی تھی، جس کے ساتھ بھی تھوڑی سی گفتگو ہوتی، میں یہ نہیں کہوں گا کہ میں پاگل ہو رہا تھا تاہم کوئی پاس نہ ہونے کی وجہ سے میں ان سے بات کر کے درپیش صورتحال سے نمٹ رہا تھا۔

روزنامہ دنیا کے مطابق معاملہ جب اختتام کی طرف بڑھ رہا تھا تو کشیدگی سامنے آنا شروع ہو گئی، گارڈز کے ساتھ طاقت کے کھیل سے تنگ آکر میں نے تین دن تک بھوک ہڑتال کی۔ڈیوس کے مطابق مجھے یقین ہے کہ میری رہائی اس لئے بھی ممکن ہوئی کہ امریکی حکومت اسامہ بن لادن کو مارنا چاہتی تھی اور وہ کسی صورت نہیں چاہتے تھے کہ میری گرفتاری کی وجہ سے خفیہ مشن میں خلل پڑتا۔

مزید : برطانیہ