ٹیکس اصلاحات سے بھارت میں ایک ہزار سینما گھر بند

ٹیکس اصلاحات سے بھارت میں ایک ہزار سینما گھر بند
ٹیکس اصلاحات سے بھارت میں ایک ہزار سینما گھر بند

  

نئی دہلی (این این آئی)بھارتی حکومت کی جانب سے یکم جولائی سے ملک میں نافذ کی جانے والی ٹیکس اصلاحات کے خلاف ہندوستان بھر میں مظاہرے شروع ہوگئے۔مقبوضہ کشمیر سے لے کر بہار تک، اور اتر پردیش سے لے کر کرناٹکا اور تامل ناڈو تک صنعت کار، کاروباری حضرات اور عام لوگ بھی ٹیکس اصلاحات کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔تاہم تامل ناڈو کی فلم اور سینما یونین نے 3 جولائی سے احتجاج کے طور پر ریاست بھر کے ایک ہزار سینما گھر بند کرنے کا اعلان کردیا۔اضافی ٹیکس عائد کیے جانے کے خلاف تامل ناڈو میں یکم جولائی کی شب سے ہی سینما گھر بند ہونا شروع ہوگئے تھے، جب کہ متعدد سینما مالکان نے خریدی گئی ٹکٹ بھی منسوخ کردی تھیں۔

تامل فلم چیمبرس اینڈ کامرس کے مطابق 3 جولائی سے ریاست بھر میں ایک ہزار سینما غیر معینہ مدت تک بند رہیں گے۔تامل ناڈو فلم ایگزی بیٹرس ایسوسی ایشن کے مطابق ریاست کی ایک ہزار سینما گھروں نے 3 جولائی سے لے کر آئندہ کی تمام خریدی گئی ٹکٹ منسوخ کردی ہیں۔سینما مالکان اور ایسوسی ایشن کے مطابق یونین حکومت کی جانب سے جنرل اینڈ سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) یا پھر ریاستی حکومت کی جانب سے لوکل ٹیکس نہ ہٹائے جانے تک سینما گھر بند رہیں گے۔سینما مالکان کے مطابق اس وقت وہ ریاستی حکومت کو 30 فیصد لوکل ٹیکس ادا کر رہے ہیں، جب کہ یونین حکومت نے سینما گھروں کی ٹکٹ پر 28 فیصد جی ایس ٹی ٹیکس نافذ کردیا ہے، اس کے علاوہ جی ایس ٹی پر 8 فیصد لیوی ٹیکس بھی ہے۔

سینما مالکان کے مطابق ریاستی اور یونین حکومت کے ٹیکس ملانے کے بعد تمام ٹیکس کی شرح 60 فیصد بن جاتی ہے، جب کہ سینما مالکان ایک ٹکٹ 100 روپے کا فروخت کرتے ہیں۔سینما مالکان نے دلیل دی کہ 100 روپے کے ٹکٹ پر 60 فیصد ٹیکس ادا کرنا ان کے بس کی بات نہیں، کیوں کہ وہ ہرطرح کی فلم کی ٹکٹ 100 روپے ہی لیتے ہیں، انہوں نے کبھی بھی فلم کی ٹکٹ میں کوئی فرق یا اونچ نیچ نہیں کی۔تامل ناڈو فلم اینڈ سینما یونینز کے مطابق 10 لاکھ افراد کا روزگار سینما گھروں سے جڑا ہوا ہے۔

مزید : تفریح