بھارت میں بیف لے جانے کے شبہ پر مسلمان قتل، بی جے پی رہنما گرفتار

بھارت میں بیف لے جانے کے شبہ پر مسلمان قتل، بی جے پی رہنما گرفتار
بھارت میں بیف لے جانے کے شبہ پر مسلمان قتل، بی جے پی رہنما گرفتار

  

نئی دہلی(این این آئی)بھارتی ریاست جھاڑ کھنڈ میں اپنی گاڑی میں گائے کا گوشت لے جانے کے شبے میں ایک مسلمان دکاندار کے قتل کے سلسلے میں ملکی وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پسند جماعت بی جے پی کے ایک مقامی رہنما کو گرفتار کر لیا گیا۔حملہ آوروں کو شبہ تھا کہ اصغر انصاری کی گاڑی میں بیف تھا، شبے کا نتیجہ اس بھارتی مسلمان کے قتل کی صورت میں نکلا،بھارتی ٹی وی کے مطابق پولیس نے بتایا کہ یہ مسلمان دکاندار گوشت بیچتا تھا اور اسے خود کو ’گائے کے رکھوالے‘ کہلانے والے ہندو قوم پسندوں کے ایک مشتعل ہجوم نے مشرقی بھارت میں قتل کر دیا ۔

جھاڑ کھنڈ کے ضلع رام گڑھ میں پولیس نے بتایا کہ قتل کیے جانے والے بھارتی مسلمان کا نام اصغر انصاری تھا، جو عرف عام میں علیم الدین بھی کہلاتا تھا۔ یہ اقلیتی شہری رام گڑھ میں اپنی گاڑی میں جا رہا تھا کہ مشتعل ہندوو¿ں کے ایک ہجوم نے اس پر یہ الزام لگاتے ہوئے کہ اس کی گاڑی میں گائے کا گوشت تھا، اسے پیٹنا شروع کر دیا تھا۔رام گڑھ میں پولیس کے ضلعی سربراہ کشور کوشل نے بتایا کہ اس حملے میں حملہ آور ہندوو¿ں نے علیم الدین کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا ۔ کوشل کے بقول اس قتل کے سلسلے میں ملکی وزیر اعظم نریندر مودی کی سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی یا بی جے پی کے ایک مقامی ہندو رہنما نیتیانند مہاتو اور دو دیگر ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

پولیس کے سربراہ کے مطابق مہاتو جھاڑ کھنڈ میں بی جے پی کا ایک سیاسی رہنما ہے اور اسے اور اس کے دو دیگر ساتھیوں کو لوگوں کو اشتعال دلانے اور انہیں تشدد اور جرم پر اکسانے کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔

مزید : بین الاقوامی