فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر138

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر138
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر138

  

جب ہماری شوٹنگ کا وقت نزدیک آیا تو معلوم ہوا کہ صبیحہ خانم اور سنتوش صاحب سعید ہارون صاحب کی فلم ’’لاڈلا‘‘ کی فلم بندی کیلئے کراچی گئے ہوئے ہیں اور کافی دنوں کے بعد ہی واپس آئیں گے۔ ہماری شوٹنگ سر پر آگئی تھی۔ ہم نے پریشان ہوکر سنتوش صاحب کو کراچی ٹیلی فون کیا تو وہ حسبِ معمول مذاق کرنے لگے ’’مولانا کچھ صبر کرنا بھی سیکھیں ’’لاڈلا‘‘ کی شوٹنگ اٹک کر رہ گئی ہے۔ اسے ختم کیے بغیر ہم دونوں نہیں آسکیں گے‘‘۔

ہم نے کہا ’’مگر سنتوش صاحب۔ ہمای تو شوٹنگ ہونے والی ہے‘‘۔

بولے ’’آپ فلم ساز ہیں ’’سزا‘‘ بنا رہے ہیں۔ فلم دیکھنے والوں کو سزا دینے سے پہلے کچھ سزا آپ خود بھی بھگتیں‘‘۔

ہمارے اصرار پر انہوں نے کہا کہ وہ سعید ہارون صاحب اور ان کے ڈائریکٹر سے بات کر کے یہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ مگر یہ بھی کہہ دیا کہ اس کے حل ہونے کی کوئی امید نہیں ہے۔ ان کی فلم ختم کیے بغیر ان دونوں کا لاہور آنا مشکل ہے۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر137 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

حسبِ معمول ہمارے ہوش اڑگئے۔ گھبرائے ہوئے شباب صاحب کے پاس پہنچے اور انہیں صورتحال سے آگاہ کیا۔ وہ کچھ دیر سوچتے رہے پھر بولے ’’آفاقی تم اس کردار میں نیر سلطانہ کو کیوں نہیں کاسٹ کرتے؟‘‘

ہم نے کہا ’’بھائی آپ جانتے ہیں کہ شادی کے بعد انہوں نے اداکاری ترک کردی ہے۔ اب کیسے مان لیں گی؟‘‘

بولے ’’یار بات تو کر کے دیکھو۔ درپن صاحب کی فلمیں فلاپ ہونے کی وجہ سے وہ لوگ آج کل خاصے پریشان ہیں۔ اور پھر نیر بھابی نے اداکاری نہ کرنے کی قسم تو نہیں کھائی تھی۔ یہ کریکٹر بہت اچھا ہے۔ ہوسکتا ہے وہ رضامند ہوجائیں‘‘۔

ہم خاموشی سے انہیں دیکھتے رہے۔

وہ کہنے لگے ’’یار تم ہمت تو کرو۔ نوٹ کرلو۔ وہ مان جائیں گی۔ اس طرح میرا کام بھی ہوجائے گا‘‘۔

’’وہ کیسے؟‘‘

بولے ’’میری فلم ’’افسانہ زندگی کا‘‘ میں بھی ایک ایسا کردار ہے جو نیر سلطانہ ہی کرسکتی ہیں۔ وہ تمہاری فلم میں کام کرنے پر آمادہ ہوگئیں تو پھر میری فلم میں بھی کام کرلیں گی‘‘۔

قصہ مختصر یہ کہ ہم اسی روز ٹیلی فون کرکے درپن صاحب کے گھر پہنچ گئے۔ وہ ان دنوں شاہ جمال میں ایک کوٹھی کے بالائی حصے میں رہتے تھے۔ ان کے دونوں بیٹے بہت چھوٹے تھے اور کمرے میں شرارتیں کرتے پھر رہے تھے۔ ان کے مالی حالات کی خرابی کا ہمیں علم تھا مگر ان کے گھر میں اس کا کوئی اثر نظر نہیں آیا۔ یہ ایک خوشحال اور خوش باش گھر تھا۔ درپن صاحب اور نیر بھابی کی محبت مثالی تھی۔ ہم اسٹوڈیو۔ میں ان دونوں سے ملتے رہے تھے مگر اس گھر میں جانے کا یہ پہلا اتفاق تھا۔

درپن صاحب ہمیں آفائی صاحب کہا کرتے تھے، بولے ’’آفائی صاحب۔ خدا خیر کرے۔ آج کیسے راستہ بھول پڑے؟‘‘

نیر بھابی نے چائے کا بندوبست کردیا تھا اور وہ بھی برابر والے صوفے پر بیٹھی شرارت سے مسکرا رہی تھیں۔ یہ شریر مسکراہٹ ہمیشہ ان کے چہرے پر موجود رہتی تھی۔

ہم ان کے گھر تیار ہوکر گئے تھے۔ فوراً حرف مدعا زبان پر لے آئے۔ ’’درپن صاحب ہمیں آپ کی بیگم کی ضرورت ہے‘‘۔

وہ مصنوعی حیرت سے بولے ’’یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ میری بیوی کی آپ کو کیوں ضرورت پڑ گئی۔ کیا کسی لڑکی سے شادی کیلئے سفارش کرانی ہے؟‘‘

اس وقت تک ہم کنوارے تھے اور ایک دو ہیروئنوں کے ساتھ ہماری بے تکلفی کی وجہ سے فلم انڈسٹری میں اسکینڈلز بھی بن رہے تھے۔

ہم نے کہا ’’درپن صاحب! ہم ایک فلم بنا رہے ہیں جس میں مرکزی کردار بھابی نیّر کر رہی ہیں‘‘۔

حیران ہوکر بولے ’’کیا کر رہی ہیں؟ کیا مطلب ہے؟ بھائی یہ تو صرف گھریلو بیوی کا کردار کر رہی ہیں۔ فلموں میں کام نہیں کرتیں‘‘۔

ہم نے انہیں اپنی فلم کی کہانی سنائی۔ نیّر بھابی کے کردار کے بارے میں تفصیل سے بتایا پھر سنتوش صاحب اور صبیحہ بھابی کے سلسلے میں درپیش مشکل کا بھی تذکرہ کردیا۔

’’اب آپ کیا چاہتے ہیں؟‘‘ انہوں نے ساری داستان سننے کے بعد پوچھا۔

ہم نے کہا ’’آپ سمجھ گئے ہیں کہ ہم کیا چاہتے ہیں۔ دیکھئے درپن صاحب۔ ہم ایک مشن پر آئے ہیں اور اسے پورا کیے بغیر نہیں جائیں گے‘‘۔

پہلے تو وہ دونوں راضی ہی نہیں ہو رہے تھے۔ ہم نے منت سماجت، خوشامد، دوستی تعلقات کا واسطہ دیا۔ دھمکیاں بھی دیں کہ ساری زندگی کیلئے تعلقات ختم ہوجائیں گے۔ وغیرہ وغیرہ۔ وہ دونوں پریشانی سے ہمیں اور ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔

درپن صاحب نے کہا ’’مگر بھابی اور بھائی جان‘‘۔

ہم نے کہا ’’بتایا ہے کہ انہوں نے قریباً انکار ہی کردیا ہے۔ یقین نہیں ہے تو ابھی فون پر تصدیق کردیتے ہیں‘‘۔ یہ کہہ کر ہم نے فون اٹھا کر کراچی کال بک کرادی۔

درپن صاحب حیران بیٹھے دیکھتے رہے۔ ’’مگر آفائی صاحب۔۔۔‘‘

ہم نے نیّر بھابی سے کہا ’’بھابی آپ ہی کچھ سفارش کردیجئے کوئی تو ہمارا ساتھ دے‘‘۔

وہ ہنسنے لگیں ’’آفاقی صاحب میں اپنے شوہر کے مقابلے میں کسی اور کا ساتھ کیسے دے سکتی ہوں؟ آخر ایک مشرقی عورت ہوں‘‘۔

کراچی کی ٹرنک کال مل گئی تو ہم نے سنتوش صاحب کو جلدی جلدی صورتحال بتائی اور کہا ’’اب آپ درپن صاحب سے کہہ دیجئے ورنہ یہ نہیں مانیں گے اور ہمارا کباڑا ہوجائے گا‘‘ یہ کہہ کر ہم نے ٹیلی فون کا ریسیور درپن صاحب کے حوالے کردیا۔

چند ہی منٹ میں یہ مسئلہ حل ہوگیا۔

’’اب کیا اعتراض ہے؟‘‘ ہم نے پوچھا۔

وہ کہنے لگے ’’بھائی جان کی سفارش کا مطلب یہ تو نہیں ہے میں مان گیا ہوں‘‘۔

ہم سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔

نیّر بھابی نے کہا ’’میں تازہ چائے لے کر آتی ہوں‘‘ اور رخصت ہوگئیں۔

درپن صاحب کو شاید ہم پر ترس آگیا تھا۔ نرمی سے بولے ’’مگر آفائی صاحب اگر نیّر اس فلم میں کام کریں گی تو ایک شرط پر‘‘۔

ہم نے کہا ’’منظور، آپ ان کے ساتھ ہوں گے‘‘۔

شاید انہیں توقع نہیں تھی کہ ہم فوراً مان جائیں گے۔ کہنے لگے ’’چلئے۔ یہ بھی طے ہوگیا۔ اب ایک بات ہماری بھی مان لیجئے‘‘۔

ہم نے کہا ’’آپ کی ساری باتیں تو مان لی ہیں‘‘۔

’’وہ تو بھائی چارے کی باتیں تھیں۔ یہ بات میں اداکار کی حیثیت سے کر رہا ہوں‘‘۔

’’ارشاد!‘‘

’’فلم کے ابتدائی حصے میں آپ نے کچھ رومانی مناظر اور گانا وغیرہ بھی رکھا ہے یا ہم دونوں کی قسمت میں رونا دھونا رہ گیا ہے؟‘‘

’’سزا‘‘ میں نیّر سلطانہ نے شادی کے طویل عرصے بعد کام کیا تھا اور ہنر مندی سے کام کیا کہ اس کردار کا حق ادا کردیا۔ کسی زمانے میں انہیں ’’ملکۂ جذبات‘‘ کا لقب دیا گیا تھا۔ ہم نے جھاڑ پونچھ کر یہ لقب دوبارہ نکال اور انہیں پھر ملکۂ جذبات کہنا شروع کردیا۔ کچھ دن تو وہ سنتی رہیں پھر ایک دن لڑنے پر آمادہ ہوگئیں ’’یہ ملکۂ جذبات کی کیا رَٹ لگا رکھی ہے آپ نے؟‘‘

ہم نے کہا ’’آپ کی اداکاری کو دیکھ کر اس کے سوا کوئی دوسرا لقب نہیں سوجھتا۔ اگر یہ پسند نہیں ہے تو ہم کوئی اور خطاب تلاش کریں؟‘‘

وہ ہنسنے لگیں ’’باز آجائیں مجھے یکسوئی سے کام کرنے دیں۔ میں ویسے بھی آؤٹ آف پریکٹس ہوں‘‘۔

نیّر سلطانہ نے اس فلم میں بہت دل لگا کر توجہ سے کام کیا۔ اسکرپٹ کی ایک کاپی وہ اپنے ساتھ ہی لے گئی تھیں اور جب کوئی ڈرامائی منظر فلمانے کا موقع آتا تو وہ خود پر یہ موڈ اور کیفیت طاری کرلیتی تھیں۔ اس فلم کے ڈرامائی اور المیہ مناظر میں انہوں نے آنسو بہانے کیلئے کبھی گلیسرین کا سہارا نہیں لیا۔(جاری ہے)

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر139 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید : فلمی الف لیلیٰ