پہلوانوں کی داستانیں جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ رقم کی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 3

پہلوانوں کی داستانیں جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ رقم کی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 3
پہلوانوں کی داستانیں جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ رقم کی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 3

  

گاماں پہلوان کے ہاں پانچ بیٹے پیدا ہوئے جو صغر سنی میں ہی فوت ہوتے گئے۔ البتہ بیٹیاں حیات رہیں۔ اولاد نرینہ کی یکے بعد دیگرے وفات نے دونوں پہلوان بھائیوں کو افسردہ کر دیا تھا لہٰذا جب بھولو پیدا ہوا تو امیدوں کے چراغ پھرسے روشن ہوگئے۔

بھولو کی پیدائش پر ان کے والد امام بخش پہلوان سجدے میں گر گئے اور گریہ زاری کرتے ہوئے رب کائنات سے دعا گو ہوئے۔

’’اے میرے سوہنے رب، کمزور بندوں کو شاہ زور بنانے والے، ہمارے خاندان پر تیری عنایات کا جو سایہ ہے اسے کالی کملی والی سرکار صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صدقے ہمیشہ قائم رکھنا۔ تجھے اپنے سوہنے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا واسطہ، ہمارے اس بچے کو اس قابل بنا دے کہ یہ اپنے خاندان کا نام دنیا بھر میں روشن کر سکے اور ہمارے خاندان کی فن پہلوانی پر بالادستی کو برقرار رکھے۔‘‘

گاماں پہلوان کو اپنے بھتیجے بھولو کی پیدائش کی خبر ملی تو وہ بھی بہت خوش ہوئے۔ ان کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے اور خدا سے دعا کی کہ اس بچے کو صحت دے اور اسے اس قابل بنا دے کہ وہ خاندان کی شہرت کو برقرار رکھے۔

پہلوانوں کی داستانیں جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ رقم کی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 2 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ننھے بھولو کا نام منظور حسین رکھا گیا۔ والد اور تایا نے اس کی پیدائش پر دیدنی خوشیاں منائیں۔ اس کا صدقہ اتار ا گیا۔ خانقاہوں پر نذریں بانٹی گئیں اور اس کی صحت اور درازی عمرکی دعائیں کرائی گئیں کیونکہ اس خاندان کی تمام امیدیں اب ننھے بھولو کی ذات سے وابستہ تھیں۔

ننھے بھولو کی تربیت ماں کی گود سے ہی شروع ہوگئی تھی ۔ان کی والدہ برصغیر کے ایک عظیم پہلوان رحمانی پہلوان امرتسری کی صاحب زادی اور حمیدہ پہلوان رستم ہند کی ہمشیرہ تھیں۔وہ بھولو کی رگوں میں اپنا دودھ اتارتے ہوئے اسے شاہ زوروں کی لوریاں سنایا کرتیں۔ بھولو نے ابھی قدم قدم چلنا بھی شروع نہ کیا تھا کہ امام بخش پہلوان اسے اکھاڑے میں لے جانے لگے۔ بھولو نے بھی عجیب مزاج پایا تھا۔ وہ بچپنے کی شرارتوں میں پڑنے کی بجائے اکھاڑے کی مٹی سے کھیلتا۔ اسے اکھاڑے کی مٹی مخملی بستر لگتی۔ وہ اس مٹی میں گھنٹوں کھیلتا رہتا۔ امام بخش اور گاماں پہلوان بھولو کے اس رجحان پر پھولے نہ سماتے۔

بھولو تین سال کا ہوا تو اس کے اسباق شروع ہوگئے۔ اس سے قبل اس کی درازی عمر اور صحت کے لیے خاص طور پر دعا کرائی گئی۔ ایک بار پھرصدقہ اتارا گیا۔ بزرگوں سے دعا کرائی گئی کہ اس خاندان کے بچوں پر جس نحوست کے سائے پڑ رہے ہیں خدا بھولو کو اس کی شرارت سے بچائے۔

بھولو پہلوان کے خاندان کے بارے میں بہت سی پراسرار حکایات مشہور تھیں جن میں سے ایک بات عام تھی کہ گاماں پہلوان کو ان کے والد عزیز بخش پہلوان کی نسبت سے کسی نحوست کا شکار ہونا پڑاتھا۔ گاماں اور امام بخش کے والد عزیز بخش پہلوان بہی والا اپنے وقت کے نامی گرامی پہلوان تھے۔ وہ ریاست دتیہ میں رہتے تھے (حال کی مدھیہ پردیش) اور راجہ دتیہ بھوانی سنگھ کے مصاحب خاص تھے۔ راجہ عزیز بخش کو بہت عزیز رکھتے تھے۔ یہ راجہ کی محبت ہی تھی جس نے عزیز بخش کو ہمیشہ کیلئے ریاست دتیہ میں روک لیا تھا۔ عزیز بخش کے علاوہ ایک اور بھائی مادھو زندہ رہا۔ مادھو فن پہلوانی میں زیادہ نام نہ پیدا کر سکا تو عزیز بخش نے پہلوانی کوہمیشہ کے لیے اپنا لیا۔ اس نے خوب ریاضت کی۔ دونوں میں وہ افق پہلوانی کا درخشاں ستارہ بن گیا۔

عزیز بخش کا شہرہ عام ہوا تو وہ ریاست دتیہ میں گیا۔ اس دورمیں ریاست کا حکمران راجہ بھوانی سنگھ تھا جو فن پہلوانی کا شیدائی تھا۔ اس نے عزیز بخش کو ریاست میں روک لیا اور اس کے مقابلہ کا اہتمام کرایا۔ ان دنوں ریاستوں کے راجے، مہاراجے اور نواب پہلوانوں کی سرپرستی کرتے تھے۔ راجہ ، عزیز بخش کی فنکاری سے بہت متاثر ہوا۔ عزیز بخش نے ہر میدان میں اپنی فتح کے جھنڈے گاڑ دیئے تھے یوں راجہ ، عزیز بخش پر مہربان ہوتا چلا گیا۔

راجہ بھوانی سنگھ نے اپنے چہیتے پہلوان عزیز بخش کی شادی اس دور کے ایک عظیم پہلوان امیر بخش المعروف نون پہلوان گرز بند کی دختر نیک اختر سے کرا دی۔ نون پہلوان ریاست بڑودہ کے حکمران کھانڈے راؤ کی وفات کے بعد ریاست دتیہ میں وارد ہوا تھا۔ کھانڈے راؤ خود بھی ا ستاد فن کے مقام پر فائز تھا۔ اس کی ملازمت نون پہلوان کو بہت راس آئی تھی۔ لیکن اس کی وفات کے فوراً بعد حالات ناموافق نظر آئے تو نون پہلوان کو ریاست دتیہ میں آنا پڑا۔ یہ بھی قدرت کی کرشمہ سازی تھی کہ نون پہلوان عزیز بخش کو اپنی فرزندگی میں لے کر شاہ زوروں کے خاندان کی بنیاد رکھے۔

اس شادی کے بعد دو بڑے پہلوان ایک خاندان ہوئے۔ عزیز بخش کے ہاں 1878ء میں غلام حسین المعروف گاماں پہلوان نون والا تولد ہوا۔ گاماں ابھی پونے چھ سال کاتھا جب عزیز بخش ہمیشہ کیلئے مٹی کے نیچے جا سویا۔ گاماں کا چھوٹا بھائی امام بخش(بھولو کا والد) اپنے والدکی وفات کے تین ماہ بعد پیدا ہوا تھا۔

عزیز بخش پہلوان اپنی جوانی اور فنکاری کے جوبن پر دنیا سے ناطہ توڑ گیا تھا۔اس کی موت کا سبب کیا تھا، یہ سر بستہ راز ہی رہتا اگر گاماں پہلوان کی دختر نیک اختر گیتی آراء بیگم اپنے عظیم دادا کی مرگ ناگہانی سے پردہ نہ اٹھا دیتی۔

بقول گیتی آراء بیگم، عزیز بخش پہلوان کی موت پراسرار حالات میں ہوئی تھی۔ گاماں کی پیدائش کی خوشی کے دن تھے جب عزیز بخش پہلوان نے اپنی رہائش بدلنے کا خیال کیا۔ اس کا ایک جگری دوست محمد بخش ایک دوسرے محلے میں سکونت پذیر تھا۔ عزیز بخش اور محمد بخش میں گاڑھی چھنتی تھی۔ دونوں سے ایک دوسرے کی ذرا سی دوری بھی برداشت نہیں ہوتی تھی۔ فیصلہ ہوا کہ دونوں دوست اپنی رہائشیں بھی ایک جگہ کر لیں۔ سو اسکے لیے عزیز بخش پہلوان اپنے جگری یار کے محلے میں آبسا ۔ عزیز بخش پہلوان کسی کھلے مکان یا حویلی میں رہنے کا خواہش مند تھا۔ آخر انہیں ’’سجان دھیان‘‘ نامی ایک خالی حویلی پسند آگئی۔

یہ حویلی آسیب زدہ تھی۔ یہاں بسیرا کرنے کا خیال تو کجا کوئی اس کے پاس سے گزرنا بھی نہیں چاہتا تھا۔ اس لئے محلے کے مکین حویلی کے قریب سے گزرنے پر کتراتے تھے۔ عزیز بخش پہلوان نے بھی حویلی کی نحوست کے بارے میں سن لیا تھا مگر اس وہم کو پر کا ہ اہمیت نہ دی۔محمد بخش نے اپنے جگری یار کو تنبیہہ کی کہ یہاں نہ رہے۔ عزیزبخش پہلوان نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔

’’سوہنیا گھبراتے کیوں ہو۔ اب یہاں بھوت نہیں جنات رہیں گے۔‘‘ عزیز بخش نے ہلکا سا قہقہہ لگایا اورکہا’’بھوتوں کا جنات سے واسطہ پڑا تو وہ خود حویلی خالی کر جائیں گے۔‘‘

محمد بخش کو عزیز بخش کی غیر سنجیدگی پسند نہ آئی۔

’’یار عزیز ، تم باز کیوں نہیں آجاتے۔ کوئی دوسری حویلی دیکھ لیتے ہیں۔‘‘

’’نہیں یار ایسا نہ کہو۔‘‘ عزیز بخش نے اٹل لہجہ میں کہا۔’’اب ہم یہیں رہیں گے۔‘‘

۔۔۔اور پھر عزیز بخش نے اپنے کہے پر عمل کیا۔ وہ اپنے گامے کو لے کر اس حویلی میں آگیا۔ حویلی کے گردونواح کا علاقہ ’’کھلکا‘‘ کہلاتا تھا۔ گاماں دن بھر اس ’’کھلکے‘‘ میں اپنے دوستوں کیساتھ کھیلتا کودتا رہتا تھا۔(جاری ہے)

پہلوانوں کی داستانیں جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ رقم کی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 4 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : طاقت کے طوفاں