مسئلہ صرف نواز شریف کا ہے ،بچوں کو بلا کر وزیر اعظم پر دباﺅ ڈالا جا رہا ہے ،جے آئی ٹی سے پوچھامیرا جرم کیا ہے :حسن نواز

مسئلہ صرف نواز شریف کا ہے ،بچوں کو بلا کر وزیر اعظم پر دباﺅ ڈالا جا رہا ہے ،جے ...
مسئلہ صرف نواز شریف کا ہے ،بچوں کو بلا کر وزیر اعظم پر دباﺅ ڈالا جا رہا ہے ،جے آئی ٹی سے پوچھامیرا جرم کیا ہے :حسن نواز

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز نے کہا ہے کہ مسئلہ صرف نواز شریف کا ہے ،بچوں کو بلاکر وزیر اعظم پر دباﺅ ڈالا جا رہا ہے تاکہ ترقی کے عمل کو روکا جا سکے ۔ان کا کہنا تھاکہ جے آئی ٹی کے تمام سوالات کے جواب دئیے ہیں اور صرف ایک سوال پوچھا ہے کہ میرا قصور کیا ہے ،جے آئی ٹی 100بار بلائے گی تو 100بار جائیں گے لیکن مجھ پر کوئی الزام ہے تو بتائیں ۔وزیر اعظم نے حکم دیا تو میں برطانیہ سے جے آئی ٹی کے سامنے پیشی کے لیے آگیا ۔

پاناما کیس کی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے آج تیسری پیشی کے بعد فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے باہر میڈ یا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج میرا تیسرا سیشن تھا ،ہر بار پانچ ،چھ گھنٹے سوالوں کے جواب دے کر آیا ہوں ۔انہوں نے بتا یا کہ برطانیہ میں اثاثوں اور کاروبار کی تفصیلات اور دستاویزات جے آئی ٹی کے دے دئیے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ آج جے آئی ٹی سے ایک سوال پوچھا کہ آپ میرے سے اتنے سوال پوچھ رہے ہیں ،میرا قصور کیا ہے ؟۔دنیا میں پہلے الزام لگتا ہے پھر تفتیش ہوتی ہے اور پھر عدالت فیصلہ کرتی ہے ،یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے جہاں عدالت نے پہلے فیصلہ دیا پھر تفتیش ہو رہی ہے کہ الزام ڈھونڈا جائے ۔انہوں نے کہا کہ شریف خاندان کے دوستوں اور رشتے داروں کو بلا یا جا رہا ہے ،مجھے ،حسین نواز اور اب مریم نواز کو بھی سمن جاری کیے گئے ،سمن کا جمع بازار لگا ہوا ہے ،کم ازکم ہمیں الزام بھی بتا دیں لیکن جے آئی ٹی صرف اس کوشش میں ہے کہ کسی طرح وہ الزام ڈھونڈ لیں ۔حسن نواز نے کہا کہ نواز شریف کے بچوں کا مسئلہ نہیں ہے ،مسئلہ اصل میں نواز شریف کا ہے جو ملک میں ترقی کی راہ پر گامزن ہیں ،بچوں کے ذریعے وزیر اعظم نواز شریف پر دباﺅ ڈالا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے بچوں کا کوئی مسئلہ نہیں ،میری کمپنیوں کے کھاتوں سے برطانیہ کو کوئی مسئلہ نہیں ،وہ میرے سے خوش ہیں ،جے آئی ٹی کو یہ مسئلہ ہے کہ ان کے پاس طاقت ہے ہمیں بلانے کی ۔اس موقع پر انہوں نے مزید کہا کہ مجھے اب دوبارہ نہیں بلائیں گے ۔

مزید : قومی /اہم خبریں