امریکی وفد پاکستان میں کیوں آیا ہے

امریکی وفد پاکستان میں کیوں آیا ہے
امریکی وفد پاکستان میں کیوں آیا ہے

  

سنیٹر جان میکین کی سر برا ہی میں امریکی و فدآ جکل پاکستان کے دورے پر ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم کے مشیر برائے خار جہ امور سر تاج عزیز سے مُلاقات کی ہے۔ اطلاعات کے مُطا بق یہ مُلاقات نہایت ہی دوستانہ ماحول میں ہوئی۔ اِس مُلاقات میں پاکستان کی طرف سے امریکی وفد کو پاکستان کی حکومت اور فوج کی کارروائیوں کے بارے میں آگا کیا گیا جو کہ انسدادِ دہشت گردی کے سلسلہ میں کی گئی ہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے میں پاکستان آرمی کے شہیدوں کے بارے میں تفصیل سے گُفتگو کی گئی ۔ اِس کے علاوہ پاکستان نے اُن تمام کوششوں کو باور کروانے کی کوشش کی جو وُہ پڑوسی مُلک افغانستان میں قیامِ امن کے لئے کر رہا ہے۔ امریکی وفد کے سر براہ جان میکنن نے پاکستان کی تما م قُربانیوں کا اعتراف کیا اور اِس بات کا بر ملا اظہار کیا کہ پاکستان کی مدد کے بغیر افغانستان میں دیر پا امن قائم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے پاکستانی قوم کے ذ ہنوں میں پائے جانے و الے خدشوں کا ازالہ کرنے کے لئے واشگافانہ انداز میں کہا کہ کشمیر کے حوالے سے امریکہ کی پالیسی میں تبدیلی کی خبریں مغالطے اور مبالغے پر مبنی ہیں۔ امریکہ مْقبوضہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مُطابق ایک متنازع علاقہ تصور کر تا ہے۔ بعد ازاں، امریکی وفد نے فوج کے کمانڈر انچیف جنرل باجوہ سے بھی مُلاقات کی۔ جس میں پھر سینٹر جان مکین نے پاکستان فوج کی دہشت گردی کے خلاف دی جانے والی قُربانیوں کا ذکر کیا۔ جنرل باجوہ نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور فوج مُشکل حالات میں افغانستان میں قیام امن کے لئے اپنی خدمات فرض کے طور پر انجام دے رہی ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ ہماری مخلصانہ کوشوں کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ تاہم سینٹر جان میکین نے پاکستان کی حکومت اور فوج کی قُربانیوں کو سراہا اور کہا کہ موجودہ حالات میں پاکستان اور امریکہ کی حکومت کو خطے میں امن اور سلامتی قایم کرنے کئے مزید تعاون کرنا ہوگا۔ پاکستان کی کوششوں کے بغیر خطے میں مُستقل امن قایم نہیں ہو سکتا۔

پچھلے ہفتے بھارتی وزیر اعظم مودی نے امریکہ کادورہ کیا تھا۔ اُس مو قعہ پر امریکہ نے بھارت کو خطے میں اپنا اہم دوست اور پا ر ٹنر قرار دیا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امر یکہ اور بھارت اسلامی دہشت گردی کو ختم کرنے لئے نہ صرف مُتفق ہیں بلکہ ایک دوسرے کے پارٹنر بھی ہیں۔ امریکہ اور بھارت کے مشترکہ اعلامیے کے مُطابق پاکستان پر زُور دیا گیا تھا کو وُہ اپنی سر زمیں کو دہشت گردی کے استعمال سے روکے اوروُ ہ دہشت گرد جنہوں نے بھارت میں دہشت گردی کی کاروائیاں کی ہیں اُنکو بلِا کسی تاخیر عدا لتوں کے رُو برو لایا جائے۔ تاکہ دہشت گردی کو نکیل ڈالی جا سکے۔ اِس کے علاوہ امریکہ نے بھارت کو خوش کرنے کے لئے کشمیری رہنا صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دیا ہے۔ اِن بیانات سے یہ تا ثر اُبھر کر سامنے آیا تھا کہ امریکہ پاکستان کی فوج کی جانب سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے دی جانے والی قُربانیوں کو یکسر بھُول چُکا ہے۔ علاوہ ازیں، پاکستان نے افغانستاں میں قیام امن کے لئے جو کوششیں کی ہیں امریکہ اُنکو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔

امریکی صدر کے بیانات سے پاکستاں قوم کے ہر فرد کو دِلی طور پر تکلیف پہنچی تھی۔ لیکن امریکہ کے وفد نے پاکستانی قوم، فوج اور حکومت کے ذہنوں میں پائی جانے والی بد گُمانیوں کو ختم کر کے ایک نئی توانائی عطا کی ہے۔ تاہم یہ بات خُوش آئند ہے کہ امریکہ اُن کا قرُبانیوں کا ابھی تک مُعترف ہے اور پاکستان کو اب بھی علاقے میں امن کے قیام کے لئے اپنا حلیف تصور کرتا ہے۔ لیکن یہ بات بہت دُکھ کے ساتھ لکھی جار رہی ہے کہ افغان حکومت اب بھی پاکستان کو اپنادوست سمجھنے کے لئے تیار نہیں۔ افغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن قایم کرنے کے لئے ہمیں پاکستان کی خدمات کی ہرگز ضرورت نہیں۔ پاکستان اپنے مقْاصد حاصل کرنے کے لئے خیر خواہی کا ڈھونگ رچا رہا ہے۔ پاکستان نے اپنے سر زمیں پر دہشت گردوں کو پنا ہیں دے رکھی ہیں۔ وُہ دہشت گرد پاکستان کی حکومت اور فوج کے اشاروں پر ناچتے ہوئے افغانستان میں دہشت گردی پھیلاتے ہیں۔ وُہ مُلک میں طالبان کی حکومت کو بر سرِ اقتدار دیکھنا چاہتے ہیں۔ اشرف غنی کی باتوں سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وُہ اَب بھارتی حکومت کی زبان بول رہے ہیں۔ بھارت نے اُن کو مکمل طور پر اپنے قبضے میں کر رکھا ہے۔ بھارت کی یہ کوشش ہے کہ وُہ افغانستان کو ہمیشہ پاکستان کی فوج اور حکومت سے بدظن بنائے رکھے۔ تاکہ دونوں مُلک ایک دوسرے سے مِل نہ سکیں۔ افغانستان اور بھارت دونوں مِل کر امریکہ کی حکومت کے کان بھرتے ہیں۔ اور یہ باور کروانے کی کوشش کرتے ہیں کہ پاکستان کی فوج اور حکومت امریکہ سے با لکُل مخُلص نہیں۔ بلکہ وُہ امریکہ ہمدردی حاصل کرنے کے لئے مکاری اور عیاری سے کام لے رہی ہے۔ بھارت امریکہ کا خطے میں ہمدرد دوست ہے۔ وُہ اِس قابل ہے کہ امریکہ کی ضرورت پڑنے پر ہر قسم کی مدد کر سکے۔بھارت پاک چین دوستی اور سی پیک کو بھی امریکہ اور اُسکے حلیف مما لک کے خلاف ایک سازش کے طور پر پیش کرتا ہے۔ امریکہ چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے ہر گز خوش نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید بڑھانے کے لئے کئی معاہدوں پر دستخط کئے ہیں۔ امر یکہ اور بھارت نے ڈرون طیاروں کی فراہمی کے ایک معاہدے پر حال ہی میں د ستخط کئے ہیں۔ جس کی رُو سے امریکی مُستقبل قریب میں بھارت کو جلد ڈرون طیارے سپلائی کریگا۔ جس سے پاکستان اور چین جیسے مُلکوں کیجاسوسی کرنے میں مدد مِلے گی۔ یاد رہے کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان ا نٹلیجنس شئیرنگ کا معاہدہ پہلے ہی سے موجود ہے۔ علاوہ ازیں، دونوں مما لک حالتِ جنگ میں ایک دوسرے کے فوجی اڈے بھی استعمال کر سکیں گے۔اِن تما م اقدامات سے خطہ میں طاقت کا توازن بگڑنا ایک فطری سی بات ہے۔ پاکستان کے احتجاج کے باوجود بھی مسئلے پر حقیقت پسندی سے غور نہیں کیا گیا۔ بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ پاکستان سے نا خوش ہے۔ اُسکے قول اور عمل میں واضح تضاد نظر آتا ہے۔امریکہ کو بھارت پاکستان اور افغانستان میں اپنے مُفادات عزیز ہیں۔ امریکہ پاکستان کی صلاحتیوں سے بھی بخوبی آگا ہ ہے۔ اِس کے علاوہ وُہ پاکستان کی حکومت اور فوج سے تعلقات بالُکل ہی منقطع نہیں کرنا چاہتا ۔ لیکن وُہ پاکستان کی فوج پر مکمل اعتبار بھی کرنے سے گُریزاں ہے ۔ ہمیں چین، روُس، اور امریکہ کی جانب دیکھنے کی بجائے خُود انحصاری کی پالیسی اپنانا ہوگی۔ خود انحصاری حاصل کرنے کے لئے مُلک میں امن اور استحکام لانا ہوگا۔ تاکہ ہماری معشیت دُرست ہو سکے۔ ہم کو قرضوں کی ضرورت نہ رہے۔ ہم اپنے قرضے جلد از جلد ادا کر سکیں۔ مقروض قومیں ہمیشہ محکوم اور د ست نگر رہتی ہیں۔ ہمیں قرضوں سے نجات حا صل کرنا ہوگی۔ اِس کے لئے عملی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ