پاکستان کا سب سے زیادہ تعلیم یافتہ گاﺅں زندگی کی بنیادی سہولیات محروم ، شہری حقوق کے لئے سڑکوں پر نکل آئے

پاکستان کا سب سے زیادہ تعلیم یافتہ گاﺅں زندگی کی بنیادی سہولیات محروم ، شہری ...
پاکستان کا سب سے زیادہ تعلیم یافتہ گاﺅں زندگی کی بنیادی سہولیات محروم ، شہری حقوق کے لئے سڑکوں پر نکل آئے

  

فاروڈ کہوٹہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) جبی سیداں آزاد کشمیر میں ایک چھوٹا گاﺅں ہے، جس کی شرح خواندگی100فیصد ہے، اس گاﺅں کے ہر گھر میں اوسطا ایک شخص نے ایم فل کر رکھا ہے ، مگر اس گاﺅں کو زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، بجلی ہے نہ سڑک، موبائل فون سروس بھی ناپید جبکہ تعلیمی ادارے میں بھوت بنگلوں کا نمونہ پیش کر رہے ہیں ، اس حوالے سے شہریوں نے تاریخ میں پہلی بار بنیادی سہولیات کے لئے احتجاجی مظاہر ہ کیا ۔

سید صلاح الدین پر امریکا کا فیصلہ مانناضروری نہیں،کشمیریوں کی جدوجہد نے تحریک آزادی پر بھارتی بیان بدل دیا: سرتاج عزیز

تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر کے ضلع حویلی کہوٹہ کے نواحی گاﺅں سولی اور جبی سیداں زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں ، اس حوالے سے بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی سڑک کی ناقص تعمیر ، برقیات کی اوور بلنگ اور مواصلات کی ناقص سہولیات کے خلاف شدید عوامی مظاہرہ کیا گیا۔مظاہرین نے مطالبات کی منظوری کے لئے آزاد کشمیر حکومت کو18جولائی تک کی مہلت دے دی۔ مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر ان کے مطالبات درج کر رکھے تھے مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے تعاون سے گل کنسٹرکشن کمپنی سولی ، فتح پور کیرنی، اور خورشید آباد کی روڈز کی تعمیرکر رہی ہے۔ جس میں ناقص میٹریل استعمال کیا جا رہا ہے۔برسٹ وال اور ریٹرننگ وال پر مڈسٹون کا استعمال کثرت سے جار ی ہے مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ سڑک کا جملہ کام بشمول نالی،کلوٹ، دیوارہا وغیرہ کا کام تصریحات کے مطابق کیا جائے ۔ علاوہ ازیں مظاہرین نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ بجلی کے بلات میٹر ریڈنگ کے مطابق نہیں دیے جا رہے ہیں بلکہ محکمہ اپنی من مرضی سے زائد بلات دے رہا ہے اور مقامی لائن مین نہ ہونے کی وجہ سے اکثر اوقات میں کئی کئی دن لائن میں خرابی کی وجہ سے بجلی بند رہتی ہے جس سے تمام کاروبار زندگی معطل رہتا ہے۔

مظاہرین کے مطابق گاﺅں کے اکلوتے گرلز ہائی سکول کی عمارت زلزلہ 2005میں تباہ ہوئی جس پر تعمیراتی کام شروع کیا گیا جو آج تک مکمل نہ ہو سکا اب بھی عمارت پر چھت موجود نہ ہے جس سے سینکڑوں طالبات کا مستقبل داﺅ پر لگا ہوا ہے۔اسی طرح علاقے کی تعلیمی معیار کو بہتر بنانے والے بوائز ہائیر سکینڈری سکول سولی کی عمارت بھی بھوت بنگلے کا منظر پیش کر رہی ہے، اس کی تعمیر پر بھی ریاستی حکومت کوئی توجہ نہیں دے رہی۔ دونوں تعلیمی اداروں کی عمارتوں کو فوری تعمیر کیا جائے ورنہ اہل علاقہ راست اقدام اٹھانے پر مجبور ہوجائیں گے۔

ایس کام علاقے میں جو مواصلاتی سروس ایس کام اور لینڈ لائن کی صورت میں مہیا کر رہا ہے وہ انتہائی ناقص ہے۔ یہ سروس بجائے لوگوں کو سہولت مہیا کرنے کے وبا ل جان بنی ہوئی ہے۔ اور 3G,4Gکا جو لالی پاپ دینے کے جھوٹے وعدے ایس سی او کر رہا ہے۔ وہ بھی عوام کے ساتھ ایک اوچھا مذاق ہے۔ ایس سی او اپنے معیار کو بہتر کرے اگر صلاحیت نہیں رکھتا تو کسی دیگر کمپنی کو یہاںکام کرنے کی اجازت دی جائے۔ گاﺅںکو جو بجلی مہیا کی جا رہی ہے وہ ہجیرہ گرڈسٹیشن سے مہیا کی جا رہی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمیں بھی بیتاڑ ہائیڈرل پاور سے بجلی دی جائے ۔ اس پاور پراجیکٹ کی تعمیر کے دوران ہمارا رابط پل سولی ٹھولانگڑ بھی تباہ ہوا ہمارے راستے متاثر ہوئے اورہمارے رابطے بھی منقطع ہوئے ۔

مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ ہمارے گاﺅں کے لوگ آزادکشمیر نہیں بلکہ ملک بھر میں اپنے تعلیمی معیار اور محنت کی وجہ سے جانے جاتے ہیں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اس علاقے کو پسماندہ رکھنے کے لیے یہ تمام اقدمات کیے جا رہے ہیں۔ مگر ہم ان تمام سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے ،اپنے اور اپنی آنے والی نسلوں کے حقوق کا تحفظ کریں گے اگر ہمارے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو 18جولائی کے بعد ہم سڑکوں پر نکلیں گے اور تب تک چین سے نہ بیٹھیں گے ۔ مقررین نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ ےونین کونسل میںرہنے والے جملہ قبائل یک جان ہیں اور مجموعی مسائل کے حل کے لیے سب لوگ مل کر کوشش کریں گے اور جب تک ہمارے مطالبات پورے نہیں ہو جاتے اپنی تحریک جار ی رکھیں گے۔ آفیسر مال سید سبطین کاظمی کی یقین دہانی پر مظاہرین نے وقتی طور پر مظاہرہ روک دیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ ان ایام میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو علاقے کی نمائیندگی کر ے گی اور انتظامیہ سے مل کر مطالبات پورے کروائے گی۔

مزید : قومی