سعودی حکومت حجراسود کو محفوظ بنانے کے لئے دوسال میں ایک بار اسے حفاظتی مراحل سے گزارتی ہے

سعودی حکومت حجراسود کو محفوظ بنانے کے لئے دوسال میں ایک بار اسے حفاظتی مراحل ...
سعودی حکومت حجراسود کو محفوظ بنانے کے لئے دوسال میں ایک بار اسے حفاظتی مراحل سے گزارتی ہے

  

مکہ مکرمہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)سعودی حکومت کی جانب سے حجرا سود جسے بیت اللہ کا اہم ترین حصہ قرار دیا جاتا ہے اسے محفوظ بنانے کیلئے ہر دوسال میں ایک بار حفاظتی مراحل سے گزارا جاتا ہے ۔

مذہب کو نظام حیات سے جداکرنیوالے افکار نے عوام الناس کو نقصان پہنچایا :امام و خطیب مسجد الحرام شیخ ڈاکٹر فیصل غزاوی

ؑ عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب کی حکومت بیت اللہ کے مقدس حصے حجر اسود کو محفوظ رکھنے کے لیے ہر ممکن حفاظتی انتظامات کرتی ہے تاکہ زائرین کی جانب سے اسے کسی قسم کا نقصان نہ پہنچ پائے جبکہ حجر اسود کو دراصل آٹھ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کا مجموعہ ہے جن میں بڑا ٹکڑا 2 اور چھوٹا ٹکڑا ایک سینٹی میٹر ہے۔ان تمام ٹکڑوں کو درختوں سے حاصل ہونے والے للبان العربی الشحری یا الحوجری بروزہ مادے جسے خوشبو داری دھونی کے سے جوڑا گیا ہے۔باب کعبہ کے مستری کے پوتے فیصل بن محمد بن محمود بدر کو حجر اسود کی صفائی اور اس کے حفاظتی انتظامات کرتے دیکھا گیا۔فیصل نے یہ کام اپنے آباو اجداد سے سیکھا ہے جو نسل درنسل ان تک منتقل ہوا ہے۔ ان کے آباواجداد خانہ کعبہ کی مرمت کی مسلسل سعادت حاصل کرنے والے خاندانوں میں شامل ہیں۔ مسلسل چھونے، گرمی اور دیگر عوامل کی وجہ سے حجر اسود متاثر ہوتا ہے۔ فیصل البدر کا کہنا تھا کہ تاریخی روایات کے مطابق حجر اسود یاقوت کا وہ پتھر ہے جسے جنت سے اتارا گیا اور اسے جبل ابو قبیس میں رکھا گیا۔ اس پتھر کو حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے کعبے کی بنیادیں اٹھاتے وقت خانہ کعبہ کی زینت بنایا اور اس کے بعد یہ کعبے کا ایک جزو قرار پایا۔ حجر اسود کے چھوٹے چھوٹے سات ٹکڑے ہیں۔

دوسری جانب سعودی حکام ایک جانب تو حجر اسود کو محفوظ بنانے کے لیے ہرممکن اقدامات کررہے ہیں دوسری طرف حجاج و معتمرین کو اس کی حفاظت کے لیے آگاہ بھی کیا جاتا ہے۔ انہیں بتایا جاتا ہے کہ حجر اسود کا کوئی ٹکڑا توڑنے سے گریز کیا جائے ،یہی وجہ ہے کہ حجر اسود کو محفوظ بنانے کے لیے دو سال میں ایک بار ایک یا دو گھنٹے کے لیے حفاظتی مراحل سے گزارا جاتا ہے اور جہاں کہیں اس کے اندر کسی جگہ کی مرمت کی ضرور ہوتی ہے سے مرمت کی اجاتا ہے۔ تاہم اس کی دیکھ بحال معمول کے مطابق جاری رہتی ہے۔

مزید : عرب دنیا