”ڈاکٹر اسلم افغانی ادویات اورسٹنٹ مہنگے کرنے کے ذمہ دار ہیں “پاکستان ینگ فارما سسٹ ایسوسی ایشن و پاکستان ڈرگ لائر فورم

”ڈاکٹر اسلم افغانی ادویات اورسٹنٹ مہنگے کرنے کے ذمہ دار ہیں “پاکستان ینگ ...
”ڈاکٹر اسلم افغانی ادویات اورسٹنٹ مہنگے کرنے کے ذمہ دار ہیں “پاکستان ینگ فارما سسٹ ایسوسی ایشن و پاکستان ڈرگ لائر فورم

  

اسلام آباد (مشرف زیدی سے) پاکستان ینگ فارما سسٹ ایسوسی ایشن و پاکستان ڈرگ لائر فورم کی مشترکہ پریس کانفرنس مقامی ہوٹل بلیو ایریا اسلام آباد میں منعقد ہوئی ۔ کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے ڈرگ لائر فورم کے صدر نور محمد مہر،ڈاکٹرحناشوکت،عثمان چوہدری اورمدثرکانجو نے کہا ہے کہ پاکستان میں حالیہ طور پر وفاقی بجٹ 2017ءو ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کی حالیہ پالیسیوں میں مریض کش پالیسیوں کو اپناتے ہوئے 10%کرپشن کو قانونی حیثیت دے دی گئی ہے ۔ پاکستان میں ادویات گزشتہ 14 ماہ میں 6 دفعہ بڑھائی جا چکی ہیں ۔ ادویا ت کی اس غیر قانونی مہنگائی اور سی ای او ڈریپ ڈاکٹر اسلم افغانی کی مبینہ کرپشن وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر پاکستان میں چار ہزار مریض موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ڈرگ ریگولٹری اتھارٹی آف پاکستان کے سرکاری ملازم مختلف کمپنیوں کے پیسوں پرمستقل بنیادوں پر بیرو ن ملک دورے کر رہے ہیں، کمپنیوں کی انسپکشن کے نام پر غیر ملکی دوروں میں کمپنیوں کی طرف سے اعلیٰ ہوٹلوں میں رہائش، سو ڈالر روزانہ ، ائیر ٹکٹس ، شاپنگ کی ”سہولتوں “پرمبنی غیر ملکی دورے اب ختم ہونے چاہییں ۔ سی ای او ڈریپ ڈاکٹر اسلم افغانی کی کمپنی Otsuka فارما سوٹیکل پاکستان کی معیشت کو بھرپور طریقے سے نقصان پہنچا رہی ہے۔ جس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ گزشتہ دنوں Otsuka فارما سوٹیکل نے تھائی لینڈ سے فوڈ سپلیمنٹ کے نام پر نیوٹریشنل دوائی امپورٹ کی جبکہ پاکستان کی مارکیٹ میں لوکل تیار کنندہ 9 سے زائد کمپنیوں کو خود ہی غیر معیاری قرار دلوا کر ان کا کاروبار ختم کر کے اپنی کمپنی آٹسو کا فارما کا PCSIR سے خود پاس کروا کر صرف اپنی ہی چیزوں کو مارکیٹ مناپلی کے لیے پیش کیا ہے ۔ تاریخ میں ایسی اقرباءپروری ، معاشی خیا نت ، اختیارات کے غلط استعمال کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔ ایسی عظیم مثال قائم کر نے پر وفاقی وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ ، سیکرٹری ہیلتھ ایوب شیخ اور ڈاکٹر اسلم افغانی کو کرپشن کا عالمی ایوارڈ ملنا چاہئے۔ اسلم افغانی نے سی ای اوڈریپ ہوتے ہوئے اپنی ذاتی کمپنی کی 41 ادویات میں قیمتوں میں ناجائز اضافہ کیا ہے ۔ 2 ہربل کمپنیاں جو کہ تھائی لینڈ اور انڈونیشیا سے ادویات پاکستان میں امپورٹ کرتی ہیں ، اس کا لائسنس جاری کیا گیا ہے ۔ ڈاکٹر اسلم افغانی چائنہ و دیگر ملکوں سے سٹنٹ کی اپنی تین کمپنیاں رجسٹرڈ کروا چکے ہےں۔ تاحال وزیر اعظم ہاو ¿س اور چیف جسٹس آف پاکستان کے سو موٹو ایکشن کے باوجود اسلم افغانی کی وجہ سے تاحال سٹنٹ کی قیمتوں کا تعین نہیں ہو سکا۔ مریض آج بھی پانچ ہزار کا سٹنٹ دو لاکھ روپے میں خریدنے پر مجبور ہیں۔ ڈاکٹر اسلم افغانی نے اپنی فیکٹری آسوکا کی حا لت انتہائی خراب ہونے کے باوجود اپنی فیکٹر ی کا لائسنس رینیو کیا ہے۔ہمارا مطالبہ ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں غیر قانونی اضافہ کے مجرموں کو فوری طور پر سزا دی جائے۔ ہماری پرائم منسٹر آف پاکستان ، چیف آف آرمی سٹاف اور چیف جسٹس آف پاکستان سے درخواست ہے کہ وہ اس کا سو موٹو ایکشن لیں تاکہ روزانہ کی بنیا د پر مرنے والے تقریباً چار ہزار مریضوں کی اموات کاسلسلہ رُک سکے۔

مزید : اسلام آباد