’اب بھی وقت ہے ہماری بات مان لو ورنہ‘ عرب ممالک نے قطر کو ایک اور مہلت دے دی

’اب بھی وقت ہے ہماری بات مان لو ورنہ‘ عرب ممالک نے قطر کو ایک اور مہلت دے دی
’اب بھی وقت ہے ہماری بات مان لو ورنہ‘ عرب ممالک نے قطر کو ایک اور مہلت دے دی

  

دوحہ(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر اور بحرین نے 5جون کو ایران سعودی تنازع کھڑا ہونے پر قطر سے بھی تعلقات منقطع کر لیے تھے، کیونکہ اس نے ایران کے موقف کی حمایت کی تھی۔ ان کی طرف سے قطر پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ دہشت گردوں کی معاونت کر رہا ہے۔ ان ممالک نے 22جون کو مطالبات کی ایک فہرست قطر کے حوالے کی تھی اور اس پر عملدرآمد کے لیے 2جولائی تک کی ڈیڈلائن دی گئی تھی تاہم کویت کے امیر کی درخواست پر اب اس ڈیڈ لائن کی مدت تھوڑی سی بڑھا دی گئی ہے۔

’جہاں بھی یہ کام ہوتا دیکھو تصویر کھینچ کر فوراً ہمیں بھیجو‘ متحدہ عرب امارات نے اپنے شہریوں کو ’جاسوس‘ بنا ڈالا، اب کبھی دبئی جانا ہو تو پہلے یہ خبر ضرور پڑھ لیں، یہ نہ ہو کہ آپ بھی۔۔۔

news.com.auکی رپورٹ کے مطابق امیرکویت سعودی عرب و دیگر ممالک کا قطر کے ساتھ تنازع ختم کرانے کے لیے مصالحت کی کوششیں کر رہے ہیں۔ سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات اور مصر کی طرف سے مشترکہ بیان جاری کیا گیا ہے جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ ”امیر کویت نے درخواست کی تھی کہ قطر کو مطالبات کا جواب دینے مزید مہلت دی جائے۔ چنانچہ یہ مدت بدھ کے روز تک بڑھا دی گئی ہے۔“ان ممالک کی طرف سے ڈیڈلائن تو بڑھا دی گئی ہے لیکن قطر تاحال ان مطالبات پر عملدرآمد نہ کرنے کی ضد پر قائم ہے۔ قطر کے وزیردفاع خالد بن محمد العطیہ نے سکائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”قطر اتنا کمزور ملک نہیں کہ کوئی اسے آسانی سے نگل جائے۔ ہم اپنے ملک کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہیں۔ مجھے امید ہے کہ وہ مرحلہ نہیں آئے گا جب فوجوں کا آمنا سامنا ہو۔“

مزید : عرب دنیا